پولیس سے محبت سکھائیں، خوف نہیں

ون پوائنٹ
نوید نقوی
==========
میرے والد محترم سید فیاض حسین نقوی صاحب نے 42 سال پولیس میں خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے مجھے فرمایا اور میں دل و جان سے یقین بھی رکھتا ہوں کہ پولیس فورس پاکستان کی اندرونی سلامتی کا پہلا اور سب سے مضبوط مورچہ ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پولیس کسی بھی معاشرے میں قانون کی حکمرانی یقینی بناتی ہے اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ کسی بھی ملک کی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے جہاں مسلح افواج کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہیں داخلی امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی، جرائم پیشہ عناصر اور امن دشمن قوتوں کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بھارتی پروردہ فتنوں کا سب سے پہلا ٹارگٹ پولیس فورس رہی ہے۔ فتنوں کو کچلنے کے لیے پولیس ہمیشہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ ان مشکلات کے دوران افواجِ پاکستان کے بعد اگر کسی ادارے نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں تو وہ پاکستان پولیس ہے۔ پاکستان کے پولیس افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک و قوم کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فورس ہمیشہ فرنٹ لائن پر موجود رہی۔ خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں ہزاروں پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، لیکن ان کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے۔ پولیس کا فرض صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، قانون کی عملداری اور معاشرتی امن کا قیام بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ شدید گرمی، سردی، بارش اور دیگر نامساعد حالات میں بھی پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں تاکہ شہری محفوظ رہیں۔ محرم الحرام کی مجالس، عیدین، ربیع الاول کے جلوسوں، سیاسی اجتماعات اور قومی تقریبات کے دوران پولیس کے جوان اپنی خوشیاں قربان کرکے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت ، سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں پولیس نے دہشت گردوں و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ متعدد افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بہادری اور فرض شناسی کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور آنے والی نسلوں کو وطن سے محبت اور خدمت کا درس دیتی ہیں۔

علی حسن ڈھڈی ایس ایچ او شیدانی شریف ہیں، گزشتہ روز ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک واقعہ سنایا ، جس کو سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی، کیونکہ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک واقعے کا میں بھی عینی شاہد ہوں۔ ایس ایچ او تھانہ شیدانی شریف ضلع رحیم یار خان علی حسن ڈھڈی بھائی نے مجھے بتایا کہ پچھلے اتوار جب گھر گیا تو بچوں نے گھیرا ڈال لیا اور آئس کریم کھانے کی فرمائش کی، یونیفارم اتارے بغیر ہی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے قریبی پارک گیا اور وہاں واک کرنے کے بعد سستانے کے لیے جوں ہی ایک بینچ پر بیٹھا، موسم بہت اچھا تھا، ہوا چل رہی تھی۔ میں بینچ پر بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگا، تاکہ چند لمحے سکون کے گزار سکوں۔
تھوڑی دیر بعد ایک لڑکا، عمر تقریباً 13-14 سال، اپنے دو چھوٹے بہن بھائیوں کو پارک لے کر آیا۔ بچے معصوم، ہنستے کھیلتے چہرے ، اس بات سے بے خبر کہ دنیا کے کیا مسائل ہیں ، کھیل کود میں مگن ہو گئے ، بچے ہوں اور شرارتیں نہ کریں ایسا ممکن ہی نہیں، اچانک ان میں سے کسی بچے نے کوئی شرارت کی تو بڑے لڑکے نے انہیں ڈرانے کے لیے میری طرف اشارہ کر کے کہا، “دیکھو! وہ پولیس والا بیٹھا ہے، شرارتیں نہ کرو ورنہ پولیس والا پکڑ لے گا اور مارے گا۔
میں یہ سن کر حیرت زدہ ہوا۔ ان تینوں کو اپنے پاس بلایا اور پیار سے سمجھایا کہ پولیس والے انکل کسی کو نہیں مارتے بلکہ پولیس والے انکل تو بچوں سے پیار کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ الفاظ میں نے بول تو دیے اور بچے میرے ساتھ گھل مل بھی گئے۔
لیکن افسوس، ہم نے پولیس کو بچوں، بڑوں کے لیے ڈراوا بنا دیا ہے۔ پولیس اپنی طرف سے مکمل کوشش کر رہی ہے کہ عوام کا اعتماد سو فیصد بحال ہو اور وہ پولیس کو اپنا محافظ سمجھیں۔
یاد رکھیں، پولیس کا کام ڈرانا نہیں، بچانا اور تحفظ دینا ہے۔ ہم آپ کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔ ہم نے آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ہم ہر وقت الرٹ رہتے ہیں کہ کب آپ کے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان نچھاور کرنا پڑے۔ ایک پولیس آفیسر کی زندگی بظاہر وردی، اختیارات اور ذمہ داریوں کا مجموعہ نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسلسل قربانی، مشقت اور فرض شناسی کی داستان ہے۔ ایک پولیس آفیسر کی ڈیوٹی عام ملازمتوں کی طرح مخصوص اوقات تک محدود نہیں ہوتی۔ وہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے۔ دن ہو یا رات، شدید گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا طوفان، پولیس آفیسر اپنے فرائض کی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ جب لوگ اپنے گھروں میں سکون سے سو رہے ہوتے ہیں تو پولیس اہلکار سڑکوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر امن و امان قائم رکھنے کے لیے مسلسل چوکس اور نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ پولیس آفیسر کو اپنے خاندان اور ذاتی زندگی کے لیے بھی بہت کم وقت ملتا ہے۔ مختلف تقریبات اور خوشیوں کے مواقع پر جب لوگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزار رہے ہوتے ہیں، تب بھی پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ قربانی ہے جس کا اعتراف معاشرے کو کرنا چاہیئے۔ ہمیں تب افسوس ہوتا ہے جب لوگ پولیس کو خوفزدہ نظروں سے دیکھتے ہیں، حالانکہ پولیس آپ کے جان و مال کی محافظ ہے۔ جب ایک بچہ پولیس کو دیکھ کر ڈر جائے گا، تو مشکل وقت میں وہ ہم سے مدد کیسے مانگے گا؟
اپنے بچوں کو سکھائیں کہ پولیس ان کی دوست ہے، ان کی محافظ ہے۔ خوف کے سائے میں نہیں رہیں، اعتماد کا رشتہ بنائیں۔ ایس ایچ او علی حسن ڈھڈی کے یہ الفاظ مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیس سے محبت کرنا نہیں سکھاتے بلکہ پولیس سے ڈرنا اور نفرت سکھاتے ہیں۔ جو کہ نہایت افسوس ناک امر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اپنے پولیس شہداء اور غازیوں کی خدمات کو یاد رکھے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرے۔ حکومت کو بھی چاہیئے کہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، جدید تربیت اور بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ وہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ پولیس کی 24 گھنٹوں کی ڈیوٹی یقیناً بہت مشکل اور ناممکن ٹاسک ہے، مسلسل ڈیوٹی سے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کے مزاج میں چڑچڑا پن اور نا امیدی پیدا ہوتی ہے۔ جس سے ان کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ پولیس کے کردار کو سمجھیں، ان کی خدمات کا احترام کریں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک پولیس آفیسر کی سخت ڈیوٹی دراصل قوم کی حفاظت، امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ ایسے بہادر اور فرض شناس افسران و اہلکار قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
بلاشبہ افواجِ پاکستان کے بعد پولیس وہ ادارہ ہے جس نے ملک کے امن و استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے جذبۂ ایثار کو سلام پیش کرتی رہے گی۔