بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے خطرناک عزائم

ون پوائنٹ
نوید نقوی
پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے اور اس کے ثبوت اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں کو دیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال پہلگام میں مودی حکومت نے فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے دو درجن کے قریب اپنے شہریوں کو قتل کیا اور اس کا الزام پاکستان پر لگایا، دنیا بھر کے عسکری ماہرین نے بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں ہے، لیکن تکبر کی دلدل میں ڈوبا ہوا نریندر مودی سندور نام کے نام نہاد آپریشن کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہوگیا، اس کے بعد جوابی کارروائی میں پاکستان نے معرکہ حق بنیان مرصوص کے نام سے بھارتی ٹڈی دل افواج کا جو حشر کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا، پاکستان نے بھارت کو تاریخی اور عبرت ناک شکست دی، پوری دنیا نے پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی صلاحیتوں اور عزم کو حیرت سے دیکھا، یہی طاقت پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی کامیابیاں دلوا چکی ہے۔ پاکستان عسکری اور سفارتی سطح پر اپنا لوہا منوا چکا ہے اور بھارت سے پاکستان کی کامیابی نہیں دیکھی جا رہی، یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ بلوچستان میں اپنے پروردہ عناصر کو شر انگیزیاں کرنے کے لیے اکساتا ہے اور کبھی آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ اس طرح گزشتہ ایک سال سے مودی نے انتقام کی آگ میں سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کر رکھا ہے، اس کے علاؤہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے قریباً 9 کلومیٹر طویل ٹنل بھی بنا رہا ہے۔ انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شا کھلم کھلا پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے کئی پروجیکٹس تیزی سے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا نے دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ اپنے بیاس کے نہری نظام پر موڑنے کے منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں مانگی ہیں اور اس کے خطے میں سنجیدہ نتائج سامنے آئیں گے۔ انڈین حکومت نے اس کے بعد دریائے سندھ ، چناب اور جہلم پر بھی متعدد منصوبوں کی تعمیر کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔
پاکستان ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو متعلقہ ٹریبیونل میں لے گیا ہے۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں میں سے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ نہیں ہو سکتا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے مسئلے یا تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی علامت ہے۔ اقوام کی ترقی، زرعی خوشحالی، صنعتی استحکام اور معاشی نمو کا انحصار بڑی حد تک آبی وسائل پر ہوتا ہے۔ پاکستان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جسے قدرت نے دریائے سندھ کے عظیم نظام سے نوازا ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے رویے نے پاکستان کے آبی مستقبل کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان کے حصے کے پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے بھارتی عزائم نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا جس میں عالمی بینک نے ضامن اور ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے استعمال کا اختیار بھارت کو دیا گیا۔ ماہرین اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ 1965، 1971 اور 1999 میں کارگل سمیت متعدد تنازعات کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا۔
تاہم حالیہ برسوں میں جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنا ہے، بھارت کی جانب سے متعدد ایسے بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی سندھ طاس معاہدے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ بعض دیگر بھارتی رہنماؤں نے یہاں تک کہا کہ “پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیا جائے گا”۔ اگرچہ عملی طور پر کسی ملک کے لیے معاہدے کے تحت مختص دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روکنا آسان نہیں، اس کے علاؤہ پاکستان کے پاس مضبوط فوجی طاقت بھی موجود ہے جس کے ذریعے بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا سکتے ہیں۔ بھارتی فوجی و سیاسی شخصیات کے ایسے بیانات خطے میں بے اعتمادی اور کشیدگی کو ضرور فروغ دیتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کروڑوں ایکڑ زمین کی آبپاشی دریائے سندھ کے نظام سے ہوتی ہے۔ گندم، کپاس، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلیں اسی پانی کی مرہون منت ہیں۔ اگر پاکستان کو اس کے حصے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ غذائی تحفظ، برآمدات، روزگار اور قومی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ پانی کی قلت سے دیہی آبادیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا جبکہ شہروں میں بھی پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
بھارت کی جانب سے دریاؤں پر نئے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے بھی پاکستان کئی بار تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بعض منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہیں اور ان سے پاکستان میں پانی کے بہاؤ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد معاملات عالمی بینک اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز تک بھی پہنچ چکے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق سرحد پار بہنے والے دریاؤں کے پانی کو بطور سیاسی یا عسکری ہتھیار استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام تصور کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوانین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آبی تنازعات کو مذاکرات، سفارت کاری اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ پانی کا مسئلہ انسانوں کی بقا سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اسے سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔
پاکستان کو بھی اس صورتحال کے پیش نظر اپنی آبی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر، پانی کے ضیاع کی روک تھام، جدید آبپاشی نظام کا فروغ اور قومی سطح پر پانی کے تحفظ کے بارے میں آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف بیرونی خطرات پر تنقید کافی نہیں بلکہ اندرونی سطح پر بھی مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پانی کے تنازعات مستقبل میں دنیا کے بڑے چیلنجز میں شامل ہوں گے۔ جنوبی ایشیا جیسے گنجان آباد خطے میں اگر پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارت بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کے بجائے اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اس میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور انسانی اقدار کے بھی منافی ہوگی۔ خطے کے ڈیڑھ ارب سے زائد عوام کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ تعاون، باہمی احترام اور معاہدوں کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کسی بھی صورت بھارت کو سندھ طاس معاہدے سے بھاگنے نہیں دے گا کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے