خواتین برائے بحری امور کا عالمی دن 2026 کراچی میں صنفی مساوات اور بحری شعبے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کی منفرد تقریب

خواتین برائے بحری امور کا عالمی دن 2026
کراچی میں صنفی مساوات اور بحری شعبے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کی منفرد تقریب
تحریر: ماریہ اسماعیل
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے عالمی وژن کے تحت کراچی میں خواتین برائے بحری امور کے عالمی دن 2026 کے موقع پر ایک منفرد اور باوقار آن بورڈ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد بحری شعبے میں خواتین کے کردار، صنفی مساوات اور نوجوان نسل کی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔
یہ تقریب بلیو نیٹ پلس، دی ناٹیکل انسٹی ٹیوٹ پاکستان برانچ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اشتراک سے کولاچی پیئر پر منعقد ہوئی، جہاں 65 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔ تقریب میں بحری ماہرین، اساتذہ، طلبہ، میڈیا نمائندگان، کاروباری شخصیات، سماجی رہنما اور بحری صنعت سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔
اس سال عالمی بحری دن کا موضوع تھا:
“پالیسی سے عملی اقدامات تک: بحری شعبے میں بہترین کارکردگی کے لیے صنفی مساوات کا فروغ”
یہ موضوع اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صرف پالیسیاں بنانا کافی نہیں، بلکہ انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خواتین کو بحری صنعت میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تقریب میں سندھ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کے سینئر نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، میڈیا شخصیات، سماجی رہنماؤں اور مختلف بحری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ یہ اجتماع بحری شعبے میں تنوع، شمولیت اور پائیدار ترقی کے اجتماعی عزم کی واضح مثال تھا۔


سندھ یوینورسٹی کی پرووائس چانسلرڈاکٹرمصباح
===================
تقریب کے دوران افتتاحی کلمات، نوجوانوں کی شمولیتی سرگرمیاں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور خصوصی خطابات پیش کیے گئے۔
ڈاکٹر نزہت خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحری شعبے میں صنفی مساوات کو صرف پالیسی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کے لیے نئے دروازے کھولنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کو بحری صنعت میں کیریئر اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا:
“بحری دنیا کو نئی سوچ، ڈیجیٹل جدت، پائیدار قیادت اور بہادر تبدیلی لانے والوں کی ضرورت ہے — اور نئی نسل مستقبل کی قیادت کے لیے تیار ہے۔”
ڈاکٹر نزہت خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کا بحری شعبہ جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق اور نوجوان قیادت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
اس موقع پر سید عدنان احمد محمودی نے ادارے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ پیشہ ورانہ معیار، بحری تعلیم، عالمی تعاون اور محفوظ بحری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا:
“بحری شعبے کا مستقبل خواتین کو بااختیار بنانے، تنوع کو فروغ دینے اور نئی نسل کے بحری پیشہ ور افراد کو اعتماد اور مقصد کے ساتھ قیادت کے لیے تیار کرنے سے وابستہ ہے۔”
تقریب کے دوران پیش کیے گئے عالمی اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ انتظامی اور ساحلی امور کے مقابلے میں عملی جہاز رانی میں صنفی خلیج اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا بھر کے 1.89 ملین فعال ملاحوں میں خواتین کا تناسب صرف 1.2 فیصد ہے، جبکہ ان میں سے بھی 94 فیصد خواتین صرف مسافر بردار کروز شپس تک محدود ہیں۔


دوسری جانب ساحلی بحری افرادی قوت، بندرگاہوں کے دفاتر اور قومی بحری اتھارٹیز میں خواتین کی شرح 19 فیصد، نجی بحری کمپنیوں میں 16 فیصد جبکہ بحری اداروں کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز بورڈز میں خواتین کی شمولیت 34 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں یہ شرح عالمی اوسط سے بھی کافی کم ہے۔ اگرچہ پاکستان میرین اکیڈمی کے دروازے اب خواتین کیڈٹس کے لیے کھل چکے ہیں، لیکن پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن یا بین الاقوامی تجارتی بیڑوں پر عملی خدمات انجام دینے والی پاکستانی خواتین کی تعداد اب بھی انتہائی قلیل ہے۔
سندھ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مصباح نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایسے پلیٹ فارمز ناگزیر ہیں، خاص طور پر سندھ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے، جو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں مگر ان کی صلاحیتیں اور کارکردگی اکثر منظرِ عام پر نہیں آ پاتیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز خواتین کو نہ صرف شناخت فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں قومی ترقی اور پاکستان کی سالمیت کے لیے اپنے کردار کو مزید مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔
شرکاء نے اس تقریب کو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان مکالمے، روابط، اعتراف اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔
تقریب کا اختتام انٹرایکٹو نیٹ ورکنگ سیشن، آن بورڈ گروپ فوٹوگرافی اور بحری شعبے میں مساوات، جدت اور بہترین کارکردگی کے فروغ کے عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا۔
منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ایک متنوع، جدید اور جامع بحری مستقبل کے وژن کی حمایت جاری رکھیں گے۔
بحری شعبے میں خواتین کی شمولیت کیوں ضروری ہے؟
دنیا بھر میں بحری صنعت عالمی تجارت، معیشت اور ماحولیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر اس شعبے میں خواتین کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں خواتین کی بحری تعلیم، تحقیق، پورٹ مینجمنٹ، شپنگ، میری ٹائم لا اور بلیو اکانومی میں شمولیت نہ صرف معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
کراچی میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر ادارے، تعلیمی مراکز، نجی شعبہ اور سماجی تنظیمیں مشترکہ طور پر کام کریں تو خواتین کے لیے بحری صنعت میں نئی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔
🌊 آئیے مل کر قیادت، جدت، مساوات اور بحری شعبے میں خواتین کے روشن مستقبل کا جشن منائیں۔