یہ تیسری پنکی ہے جس نے پاکستان میں شہرت حاصل کی ،کوکین کوین کو پنجاب سے گرفتار کر کے اس کی گرفتاری کراچی میں کیوں ظاہر کی گئی ؟ گرفتاری کے وقت گھر میں ایک بچہ اور بزرگ عورت بھی تھی ؟ ملشیات کی تیاری میں پنکی کا ساتھ کون دیتا ہے ؟ کہانی میں نیا ٹوسٹ ۔

یہ تیسری پنکی ہے جس نے پاکستان میں شہرت حاصل کی ،کوکین کوین کو پنجاب سے گرفتار کر کے اس کی گرفتاری کراچی میں کیوں ظاہر کی گئی ؟ گرفتاری کے وقت گھر میں ایک بچہ اور بزرگ عورت بھی تھی ؟ ملشیات کی تیاری میں پنکی کا ساتھ کون دیتا ہے ؟ کہانی میں نیا ٹوسٹ ۔

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں شہرت حاصل کرنے والی یہ تیسری پنکی ہے اس سے پہلے پنکی پیڈ میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے اور اس سے بہت پہلے پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کو بھی ان کی کم عمری میں پنکی کے نام سے پکارا جاتا تھا محترمہ شہید بے نظیر بھٹو تو پاکستان کا فخر بنیں اور ان کی شہادت پر پاکستان کا پرچم سر نگوں کیا گیا جب کہ پنکی پیروی بشری بیگم کو کہا جاتا ہے جو پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں اور اس وقت مختلف الزامات کے تحت جیل میں قید ہیں ۔ اب یہ تیسری پنکی مشہور ہوئی ہے جس کا اصل نام انمول بتایا جاتا ہے اور یہ رند بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا ایک بھائی ریاض بلوچ بھی ایک مرتبہ گرفتار ہو چکا ہے ۔سوشل میڈیا پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر اسے پنجاب سے گرفتار کیا گیا تو پھر گرفتاری کراچی سے کیوں ظاہر کی گئی گرفتاری کے وقت اس کے گھر پر اور کون کون لوگ موجود تھے کیا ایک بچہ اور بزرگ خاتون بھی تھی جسے یہ اپنی والدہ بتاتی ہے ۔ گھر کے باقی افراد کا ذکر کیوں نہیں کیا جا رہا اور اگر اسے کوکین بنانے میں مہارت حاصل نہیں تو منشیات بنانے میں کون اس کی مدد کرتا ہے ۔

==================

انمول عرف پنکی منشیات کیسے بیچتی تھی؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے، پنکی کی منشیات کی ترسیل کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

ذرائع کے مطابق پنکی 1 گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی، وہ منشیات کا لین دین آئن لائن کرتی تھی۔

پنکی نئے کسٹمر کے لیے منشیات رائیڈر کے بجائے مخصوص مقامات پر رکھواتی تھی، کسٹمرز ملزمہ کی بتائی ہوئی جگہ سے منشیات حاصل کر لیتا تھا۔

مریم نواز نے انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کی ترسیل کرتی تھی، منشیات کی ترسیل کے لیے ملزمہ کا 6 رکنی گینگ کام کرتا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ 1 خاتون اور 5 مرد انمول عرف پنکی کے 6 رکنی گینگ کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

ذرائع کے مطابق سی سی ڈی نے بھی انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔

ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے، سی سی ڈی سابق پولیس انسپکٹر سے کیس کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گی۔
====================

مریم نواز نے انمول پنکی کے نیٹ ورک کی اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

ذرائع کے مطابق سی سی ڈی نے بھی انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔

ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے، سی سی ڈی سابق پولیس انسپکٹر سے کیس کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گی۔

منشیات فروش انمول پنکی کے بھائی کیخلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آ گیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں درج مقدمے میں پنکی کی طلبی کرا کے ملزمہ کو لاہور بھی لایا جائے گا، کوٹ لکھپت میں درج مقدمے میں ملزمہ کو اشتہاری نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے گرفتار منشیات فروش خاتون انمول پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا تھا۔

لاہور پولیس کے مطابق 2022ء میں تھانہ کوٹ لکھپت میں ریاض بلوچ پر منشیات کی برآمدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، ملزم ریاض بلوچ نے بتایا تھا کہ فرار ہونے والی اس کی بہن انمول عرف پنکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک لگژری گاڑی پر لڑکا اور لڑکی منشیات فروخت کرنے شاداب کالونی آ رہے تھے، گاڑی رکی تو ایک لڑکا منشیات دینے کی غرض سے نیچے اترا، اہلکاروں نے لڑکے کو قابو کر لیا، لڑکی گاڑی اسپیڈ میں چلا کر نکل گئی تھی۔
=======================

پنکی کراچی میں پیدا ہوئی، 2 سابق شوہر، اہم شخصیات کو منشیات دیتی رہی
کراچی(اسٹاف رپورٹر) پنکی کراچی میں پیدا ہوئی،بھائیوں کے ساتھ ملکر کوکین سپلائی کا نیٹ ورک بنایا، ملزمہ کراچی کے علاقہ جمشید کوارٹرز کی رہائشی تھی وہاں سے ابولحسن اصفہانی روڈ ،گلستان جوہر پھر لاہور منتقل ہوگئی، انمول ماڈل بننا چاہتی تھی اس سلسلے میں وہ کم عمری میں گھر سے نکلی اور شہر میں بڑی بڑی پارٹیوں میں جانا شروع کردیا، وکیل سے طلاق کے بعدپولیس افسر سے شادی کی،پانچ سال قبل پنجاب پولیس نےگرفتار کیارشوت دیکر چھوٹ گئی۔ پنکی لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پیکٹ کراچی بھیجواتی تھی تفصیلات کے مطابق کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ملکرکوکین سپلائی کا نیٹ ورک بنایا،انمول نے کوکین بنانے کا طریقہ انٹرنیٹ سے سیکھااور باقاعدہ کوکین کا اپنا ایک برانڈ بنایا،تفتیشی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انمول پنکی نے شروع میں اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ ملکر کوکین کا کام شروع کیا جو ایک وکیل تھاا اور عالمی کوکین گینگ میں کام کرتا تھا،انمول کراچی کے علاقہ جمشید کوارٹرز کی رہائشی تھی جہں سے سے ابولحسن اصفہانی روڈ ،گلستان جوہر اور پھر لاہور منتقل ہوگئی ،انمول ماڈل بننا چاہتی تھی اس سلسلہ میں وہ کم عمری میں گھر سے نکلی اور شہر میں بڑی بڑی پارٹیوں میں جانا شروع کردیا،جہاں پر انمول نے منشیات کے استعمال اور سپلائی کے طریقہ کار کو دیکھ کر اس فیلڈ میں آنے کی منصوبہ بندی کی،انمول نے اپنے وکیل شوہر سے طلاق کے بعد ایک پولیس افسر سے شادی کی،پنکی نے تیزی سے اپنا کوکین کا نیٹ ورک قائم کیا اورپاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر بن گئی،ملزمہ نے دوران تفتیش حکام کو یہ بتایا ہے کہ وہ پانچ سال قبل پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئی تھی تاہم انہوں نے بھاری رشوت دے کر خود کو چھڑوایا، پنکی لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پیکٹ کراچی بھیجواتی تھی،اسٹیشن سے بائیک رائیڈرز منشیات کے الگ الگ پیکٹ لے کر ڈیلرز تک پہنچاتے تھے، ڈیلرز کی مدد سے کوکین شہریوں کو بھیجی جاتی، پیسے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوتے تھے، ملزمہ انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک میں کوئی ایک دوسرے سے نہیں ملتا تھا۔ملزمہ انمول پنکی نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے، گروپ میں اس کے بھائی ناصر کی گرل فرینڈ بھی شامل ہے، بھائی کی گرل فرینڈ کی مدد سے کراچی کی پارٹیوں میں کوکین سپلائی کی جاتی رہی ہے۔پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر گارڈن ویسٹ کے ایک فلیٹ پر چھاپا مارا گیا، جہاں ایک خاتون مبینہ طور پر منشیات تیار کرکے فروخت کررہی تھی۔ چھاپے کے دوران ملزمہ کوکین ڈیلر انمول عرف کو گرفتار کرکے فلیٹ سے 1540 گرام کوکین اور 6970 گرام مختلف کیمیکل اور خام مال برآمد کیا گیا۔ ملزمہ کے قبضے سے برآمد کیا گیا بیکنگ پاؤڈر، ایفیڈرین، کیٹامین اور کوکین ہائیڈرو کلورائیڈ بھی قبضے میں لیا گیا۔ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، 2 میگزین اور 10 راؤنڈ بھی برآمد ہوئے، تاہم وہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔پولیس کے مطابق فلیٹ سے نقد رقم، موبائل فون، بلینک چیک اور دیگر اشیاء بھی تحویل میں لی گئی ہیں ، ملزمہ طلبا اور اہم شخصیات کو منشیات سپلائی کرتی تھی، نیٹ ورک اسلام آباد اور لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔وہ پاکستان کی مہنگی ترین کوکین خود بناتی تھی۔ملزمہ کی حاصل کردہ پروفائل کے مطابق اس کا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش ہے۔ملزمہ سال 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی۔وہ دو نمبر استعمال کرتی تھی۔انمول کے دو موجودگی پتے ہیں جن میں ایک خیابان ظفر سوسائٹی رائیونڈ روڈ لاہور جبکہ دوسرا اے ون کمپلیکس ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال فلیٹ نمبر سی ون ایسٹ کراچی شامل ہے۔ملزمہ کا مستقل پتا بلوچ پاڑہ مکان نمبر 180 جہانگیر روڈ کراچی ہے۔ملزمہ مڈل پاس ہے اور اس نے گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ سے تعلیم حاصل کی۔ملزمہ کے 3 بھائی ہیں جن میں ناصر، ریاض اور شوکت شامل ہیں۔ملزمہ کی قومیت بلوچ ( رند ) ہے۔ملزمہ نے دو سابق شوہر تھے جن میں ایک ریٹائر پولیس افسر بھی شامل تھا۔ملزمہ کے سابق شوہروں میں رانا ناصر اور رانا اکرم( ریٹائر پولیس آفیسر ) شامل ہیں۔انمول عرف پنکی سال 2006 میں 12 برس کی عمر میں ماڈلنگ اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کیرئیر بنانے کے لئے لاہور منتقل ہوئی۔لاہور میں مینار پاکستان پر وہ عائشی نامی ایک لڑکی سے ملی جس سے انمول نے رہنے کے لئے جگہ مانگی۔عاشی نے اسے اپنے گھر جو کہ کریم پارک ڈی ایچ اے لاہور میں واقع تھا میں آ کر رہنے کا کہا جس کے بعد انمول عاشی کے ساتھ اس کے گھر پر رہنے لگی۔انمول نے بتایا کہ وہ تین ماہ تک فلم ڈائریکٹر کے پاس جاتی رہی جو اسے کسی چیز کی بھی ادائیگی نہیں کر رہا تھا۔مذکورہ ڈائریکٹر کے دفتر میں اس کی ملاقات رانا ناصر نامی شخص سے ہوئی۔

======================

31سالہ پنکی نے پہلے خود منشیات استعمال کرنا شروع کی
کراچی( اسٹاف رپورٹر )31 سالہ پنکی نے پہلے خود منشیات استعمال کرنا شروع کی، پنکی کے فارمولے پر بنی ہوئی ڈرگز مارکیٹ میں بہت جلد مقبول ہو گئی، رائیڈرز کی گرفتاری کے بعد لاہور میں نیٹ ورک قائم کرنیکا فیصلہ کیا، پولیس افسر سے شادی کے بعد لاہور پولیس بھی نیٹ ورک سے لاعلم رہی۔ تفصیلات کے مطابق انمول عرف پنکی کی عمر 31 برس کی ہے۔ملزمہ نے شروع میں خود منشیات استعمال کرنا شروع کیں۔اس دوران لاہور میں رانا اکرم نے پنکی سے شادی کر لی اور پنکی نے اپنے فارمولے کو خود پر آزما کر ڈرگز کی سپلائی مارکیٹ میں شروع کر دی۔پنکی کے فارمولے پر بنی ہوئی ڈرگز مارکیٹ میں بہت جلد مقبول ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی بار پنکی کو گرفتار کیا تاہم مبینہ طور پر پیسے لے کر اسے چھوڑ دیا گیا۔
===============

انمول عرف پنکی کے بعد ایک اور خاتون ڈرگ ڈیلر گرفتار

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) انمول عرف پنکی کے بعد شہر میں ایک اور ڈرگ ڈیلر خاتون پکڑی گئی۔قائدآباد پولیس نے لاکھوں روپے مالیت کی 35 کلو سے زائد اعلیٰ کوالٹی چرس برآمد کر کے ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق اندرون سندھ سمیت شہر کے مختلف پوش علاقوں میں سپلائی اور فروخت کی جانے والی منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کے دوران خداداد قبرستان سواتی محلے سے ملزمہ نرگس عرف ملکہ زوجہ وکیل کو گرفتار کیا گیا۔ملزمہ سے برآمد ہونے والی اعلیٰ کوالٹی چرس کی مالیت 60 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔
==============

کوکین کوئن کا اصل نام کیا ہے؟ پولیس دستاویزات میں دو نام
کراچی( اسٹاف رپورٹر )کوکین کوئن کا اصل نام کیا ہے؟۔پولیس دستاویزات میں دو نام سامنے آ گئے۔پولیس کی جانب سے گارڈن اور بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آرز میں ملزمہ کا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش لکھا گیا ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے انکوائری افسر کی تعیناتی کے لئے جاری کئے گئے لیٹر میں ملزمہ کا نام انعم عرف پنکی لکھا گیا ہے۔انعم عرف انمول عرف پنکی نے اپنی گرفتاری سے قبل ہی اپنا جانشین مقرر کرلیا تھا۔سامنے آنے والے ایک آڈیو میسج میں سنا جاسکتا ہے کہ انمول عرف پنکی نے آڈیو میسج کے ذریعے تمام کلائنٹس کو آگاہ کر دیا تھا۔

====================
ایف آئی آر میں درج پتہ پنکی کا نہیں بلکہ بدنام زمانہ گٹکا فروش کا ہے
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )پولیس کی جانب سے انمول عرف پنکی کی گرفتاری کا جو پتا مقدمہ میں ظاہر کیا گیا ہے اس کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔ایف آئی آر میں درج پتہ پنکی کا نہیں بلکہ بدنام زمانہ گٹکا فروش محمد رضوان لاکھانی کا ہے۔ محمد رضوان لاکھانی ماضی میں گرفتارہو کر جیل جاچکا ہے۔رضوان لاکھانی ڈسٹرکٹ سٹی گارڈن میں گٹکا ماوا اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی لائن چلاتا ہے۔
=================

ڈرگ کوئن انعم عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی سامنے آگیا
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )ڈرگ کوئین انعم عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی سامنے آگیا۔مقدمہ 9 مئی کو آٹو مکینک محمد شیروز ولد محمد فیروز نے تھانہ بغدادی میں قتل کی دفعہ کے تحت درج کروایا۔مقدمہ کے مطابق 7 مئی کو حاجی پیر محمد روڈ عقب وشو اسکول بغدادی لیاری سے ایک شخص کی لاش ملی جو نشے کا عادی تھا۔جامع تلاشی کے دوران متوفی کی جیب سے ایک چھوٹی ڈبی جس پر queen medam pinky don nam hi kafi hai enjoy درج تھا اور دل کے نشانات بنے ہوئے تھے،مدعی کے مطابق میں نے معلومات کیں تو پتا چلا کہ انمول عرف پنکی نامی عورت یہ نشہ فروخت کرتی ہے۔واضح رہے کہ متوفی شخص کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔انعم عرف انمول عرف پنکی کے خلاف درج قتل کے مقدمہ میں غلطیاں سامنے آ گئیں۔بغدادی تھانے میں درج مقدمہ 147/26 زیر دفعہ 302 قتل کا مقدمہ 9 مئی 2026 کو درج کیا گیا ۔مقدمہ میں پہلے لاش ملنے کی تاریخ 7 اپریل 2026 بتائی گئی جبکہ نیچے ایف آئی آر کے متن میں لاش ملنے کی تاریخ 7 مئی 2026 بتائی گئی. لاش کی شناخت بھی نہیں ہوئی اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔

=================

پنکی کی گرفتاری پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے، شرجیل میمن
کراچی (نیوز ڈیسک)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے، حکومت سندھ منشیات فروش عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرے گی تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیاب کارروائی پر پولیس مبارکباد کی مستحق ہے کیونکہ ملزمہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی۔
==================

ملزمہ پنکی کیخلاف 2020 سے متعدد مقدمات درج، تفصیلات سامنے آگئیں
کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار خاتون انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے معاملے میں تفتیشی پولیس نے بتایا ہے کہ ملزمہ کے خلاف مقدمات 2020، 2021، 2022 اور 2025 میں درج ہوئے۔

پولیس کے مطابق 2021 کے 9 مقدمات میں سے 5 میں ملزمہ انمول بری ہوئی، 2021 میں ایک مقدمے میں ملزمہ پر منشیات فروشی کا الزام ثابت ہوا تھا جبکہ اسی سال درج ہونے والے ایک مقدمے کی سماعت جاری ہے اور دو مقدمات میں ملزمہ انمول عرف پنکی اشتہاری ہے۔

2020 میں گزری تھانے میں درج مقدمے میں ملزمہ انمول بری ہوئی تھی، 2022 کے درج مقدمے میں ملزمہ کو عدالت نے اشتہاری قرار دیا تھا۔ 2025 میں تھانا بوٹ بیسن میں درج مقدمے میں ملزمہ ضمانت پر ہے۔

کراچی: پولیس نے منشیات فروش پنکی کو تحویل میں لے لیا

تفتیشی پولیس کے مطابق تمام درج مقدمات پر میں ملزمہ پر منشیات فروشی کے الزامات ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر 14 مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات ڈیفنس، درخشاں، گزری، گارڈن، بغدادی اور بوٹ بیسن تھانوں میں درج ہوئے۔

درخشاں تھانے میں 2021 میں منشیات ایکٹ کے تحت 4 مقدمات درج ہوئے۔ گزری تھانے میں بھی 2021 میں منشیات فروشی کے 4 مقدمات درج ہیں۔

پنکی منشیات کیس: ڈی آئی جی ساؤتھ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو خط لکھ دیا

ملزمہ انمول کے خلاف ڈیفنس تھانے میں 2021 اور 2026 میں مقدمات درج ہوئے۔

ملزمہ انمول کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت بھی مقدمات درج کیےگئے ہیں۔ بوٹ بیسن تھانے میں 2025 میں نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا۔

ملزمہ انمول کے خلاف بغدادی تھانے میں بھی 2025 مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ حال ہی میں گارڈن تھانے میں 2 مقدمات درج ہوئے ہیں۔

کراچی: منشیات فروش خاتون پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ انمول پنکی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات میں مطلوب رہی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق بغدادی تھانے میں درج مقدمے میں ملزمہ کے خلاف 3 روزہ ریمانڈ لیا گیا، پنکی سے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے۔