زمین کو خوبصورت رنگوں سے سجا دو۔پھول پودے اور پیڑ اگا دو۔- کراچی پریس کلب میں ارتھ ڈے کی مناسبت سے ” ہماری طاقت ہماری زمین” کے عنوان سے صحافیوں کے لیئے معلوماتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

زمین کو خوبصورت رنگوں سے سجا دو۔پھول پودے اور پیڑ اگا دو۔
ہماری زمین خوبصورت رنگوں سے سجی ہے لیکن
ماحولیاتی تبدیلی نے اسکی خوبصورتی کو گرہن لگا دیا ہے
حالیہ جنگوں کے باعث دنیا بھر میں تابکاری کے اثرات شدت سے نمایاں ہونے لگے
جہ کہ ہر زندگی پر شدت سے اثر انداز ہو رہے ہیں
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا شمار پہلے 10 نمبروں میں ہوتا ہے
جو غیر معمولی سیلابوں، مون سون کی شدید بارشوں، گرمی کی تباہ کن لہروں اور تیزی سے پگھلتے گلشیئر کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث معیشت پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔۔ دوسری جانب امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے جنگ کے خطرناک اثرات بھی اب ماحولیاتی تبدیلی کو شدت سے بڑھا رہے ہیں ۔

کراچی پریس کلب میں ارتھ ڈے کی مناسبت سے ” ہماری طاقت ہماری زمین” کے عنوان سے صحافیوں کے لیئے معلوماتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ کانفرنس سے گفتگو میں ماہرین ماحولیات نے بات کرتے ہوئے کہا ، آ بنائے ہرمز بند ہونے سے سیکڑوں کی تعداد میں جہا ز سمندر میں طویل وقت تک کھڑے رہے جن کا فوسل فیول جلنے سے فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ، جس کی تازہ مثال گوادر کے ساحل سے نایاب کچھووں کی لاشیں ملنا ہے جبکہ سیکڑوں کی


تعداد میں مچھلیوں کی موت سے ماہی گیربھی متاثر ہوئے
ماہر ماحولیات شبینہ فراز نے بات کرتے ہوئے کہا سیلاب ، خشک سالی ، گرمی ، سردی اور بارشوں کا بدلتا نظام کے ساتھ سنجیدگی سے حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں کسانوں کو آگاہی دی جائے کہ وہ کس موسم کی فصل کب اگائیں ، تاکہ مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔۔

ماہر ایکولوجسٹ رفیع الحق کے مطابق حکومت پاکستان کی بہترین کوششوں کے باعث جنگ بندی ہوئی تاہم اسے قائم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ زمین اور ہمارا ایکو سسٹم محفوظ رہ سکے، انکا کہنا تھا کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں ائیر کنڈیشند کا کم سے کم استعمال اور پلاسٹک کی بوتلوں کی جگہ متبادل اشیاء کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
کانفرنس سےمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہر ین نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق شرکاء کو آگاہی فراہم کی ۔صحافیوں کی بڑی تعداد نے معلوماتی سیشن میں بھرپور شرکت کی۔۔

===========

رپورٹ شازیہ ارشد