
فنکشنل لیگ میں نئی جان: راشد شاہ نے اسٹیئرنگ سنبھال لی، سیاسی تحرک میں تیزی کا امکان
مسلم لیگ فنکشنل کے اندرونی حلقوں میں نئی سیاسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر پگارا کے صاحبزادے راشد شاہ نے پارٹی کے اسٹیئرنگ کے معاملات سنبھال لیے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا فنکشنل لیگ کا حالیہ تحرک ایک بھرپور سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرے گا۔راشد شاہ کی جانب سے پارٹی امور میں فعال کردار ادا کرنے کے بعد سندھ کے مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکنوں سے رابطے، عہدیداران سے مشاورت اور عوامی مسائل پر موقف اپنانے کے عمل کو نیا رخ دیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے فنکشنل لیگ کی سیاسی سرگرمیاں محدود دائرے تک سمٹی ہوئی تھیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راشد شاہ کی قیادت میں فنکشنل لیگ سندھ کی سیاست میں دوبارہ اپنا
اثر بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاص طور پر دیہی سندھ میں پیر پگارا خاندان کا روایتی ووٹ بینک اور روحانی اثر و رسوخ پارٹی کے لیے اہم سرمایہ ہے۔ اگر تنظیمی نیٹ ورک کو متحرک کر دیا جائے تو فنکشنل لیگ صوبائی سطح پر ایک بار پھر فیصلہ کن قوت بن سکتی ہے۔فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ سیاسی تحرک صرف اندرونی تنظیم نو تک محدود رہتا ہے یا آئندہ عام انتخابات اور بلدیاتی سیاست میں ایک بڑی تحریک کی صورت اختیار کرتا ہے۔ راشد شاہ کے حالیہ رابطوں اور بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ فنکشنل لیگ سندھ کی سیاسی صف بندی میں نیا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
====================
محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 6 فوڈ انسپیکٹر ملازمت سے برطرف
کرپٹ عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی وصولی کی جائے گی۔ صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان
کراچی 21 اپریل ۔صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی ہدایت پر محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی، غبن اور سرکاری گندم کے اسٹاک میں کمی کے سنگین معاملات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 6 فوڈ انسپیکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ محکمہ خوراک کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ سرکاری ذخائر میں خوردبرد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔ دستیاب سرکاری احکامات کے مطابق مختلف افسران کے خلاف شوکاز نوٹس، فائنل شوکاز نوٹس، ذاتی سماعت اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد برطرفی کے احکامات جاری کیے گئے۔ برطرف کیے گئے افسران میں فوڈ انسپیکٹر شریف بھٹو، ممتاز علی جتوئی، بشیر احمد مگسی، خالد حسین مگسی، نصیب اللہ بروہی اور محمد علی عجن شامل ہیں۔ صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے واضح کیا ہے کہ محکمہ خوراک میں کرپٹ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں اور جو بھی افسر یا اہلکار سرکاری گندم، عوامی وسائل یا حکومتی امانت میں خیانت کا مرتکب پایا جائے گا، اس کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ خوراک کے جاری کردہ احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ افسران کے خلاف سندھ سول سرونٹس ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کی گئی۔ متعدد کیسز میں سرکاری گندم کے اسٹاک میں کمی، خردبرد اور مالی نقصان کے الزامات ثابت ہونے پر نہ صرف ملازمت سے برخاستگی عمل میں لائی گئی بلکہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری بھی متعلقہ قوانین کے تحت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بعض احکامات میں متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹرز کو واضح طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری نقصان کی وصولی کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی بھی شروع کی جائے۔ صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا ہے کہ بدعنوانی، غبن اور سرکاری وسائل میں خیانت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں شفافیت، دیانتداری اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اقدامات جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی تاکہ عوامی وسائل کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس کارروائی کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ پورے محکمے میں احتساب، شفافیت اور نظم و ضبط کا مضبوط پیغام دینا بھی ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سستی اور معیاری آٹے کی فراہمی، گندم کے ذخائر کے مؤثر تحفظ اور محکمانہ نظام کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ خوراک میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا اور بدعنوانی میں ملوث کسی بھی افسر یا اہلکار کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے تمام کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 373۔۔۔


















































































