سندھ: خودکشیوں کے بڑھتے واقعات، انتظامی کمزوریاں اور مافیا کا راج , شعبہ صحت پر سوالیہ نشان

سندھ میں شعبہ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگرچہ صوبائی وزیر صحت خود خاتون اور ڈاکٹر ہیں، مگر تعلیمی اداروں میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات، خاص طور پر خواتین ڈاکٹرز کے کیسز نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔عام تاثر یہ ہے کہ وزیر صحت اپنی وزارت چلانے میں بے بس ہیں۔ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی سامنے آ رہا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی اور شخصیت محکمہ صحت کے امور چلا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ بارہا عوامی سطح پر کہہ چکے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن عوام کو بہترین صحت کی سہولیات دینا ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے۔ مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ منفی پروپیگنڈے کے باوجود سندھ میں صحت کی سہولیات ملک میں بہتر سمجھی جاتی ہیں۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو بدنام کرنے کے پیچھے کون ہے۔ میڈیکل اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں خودکشیوں کے پے در پے واقعات کے بعد یہ سوال وزیر اعلیٰ کے لیے بھی چیلنج بن گیا ہے۔ شعبہ صحت میں فارماسیوٹیکل مافیا اور اس کے ایجنٹ سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے بن چکے ہیں جو سندھ سے اربوں روپے کما رہے ہیں۔ منافع خوروں کی دوڑ پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آتا۔حال ہی میں ایک سیکرٹری صحت کو طویل عرصے بعد عہدے سے ہٹایا گیا۔ ان کے کام کرنے کے انداز کو مکمل طور پر غیر پیشہ ورانہ اور انتظامی کمزوری سے بھرپور قرار دیا جا رہا ہے۔ موصوف نے اپنی حفاظت کے لیے درجنوں پرائیویٹ مسلح گارڈز رکھے ہوئے تھے۔ سیکرٹری ہیلتھ کے دفتر میں سخت سیکیورٹی تھی اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ عہدے سے ہٹنے کے بعد سابق سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ وہ کچھ وجوہات کی بنا پر خاموش رہنے اور سخت سیکیورٹی میں کام کرنے پر مجبور تھے۔ تاہم محکمے میں کام کرنے والے افسران کا کہنا ہے کہ سابق سیکرٹری کا انداز کسی ڈان سے کم نہ تھا۔شعبہ صحت میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کارکردگی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور ہر کام کے لیے مبینہ طور پر قیمت مقرر ہے۔ سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے پاس انتظامی کنٹرول کا اختیار نہیں۔ میڈیکل سیکٹر میں ورکنگ کنڈیشن بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے مگر ہیلتھ سیکٹر مافیا کے عدم تعاون کی وجہ سے تمام اقدامات واپس لینے پڑے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن بھی محکمہ صحت کی سپورٹ اور تعاون نہ ہونے کے باعث اپنے فرائض انجام دینے میں بے بس نظر آتا ہے۔

میڈیکل طالبہ خودکشی معاملہ، گرفتار 2 ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
میڈیکل طالبہ خودکشی معاملہ، گرفتار 2 ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
میرپور خاص میں میڈیکل طالبہ کی خودکشی اور مبینہ ہراسانی کیس میں گرفتار لیکچرر اور ایک طالبعلم کو مزید 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو 9 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

کیس میں نامزد میڈیکل کالج کے پرنسپل سمیت 3 ملزمان پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔

9 اپریل کو میڈیکل طالبہ نے اپنے گھر میں خود کو گولی مار کرخودکشی کرلی تھی