“صدر زرداری سندھ کے “نجی دورے کے بعد اب چین کے “سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں


صدر مملکت آصف علی زرداری 25 اپریل سے 30 اپریل تک چین کا پانچ روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کو خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، خاص طور پر امریکہ اور ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چین اس پورے منظر نامے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور صدر زرداری کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کلیدی ثابت ہوگا۔ذرائع کے مطابق بعض عناصر صدر کے اس دورے کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مضبوط اور دوستانہ تعلقات کے باوجود صدر کے دورے کو منفی رنگ کیوں دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کوشش صدر زرداری کے امیج کو نقصان پہنچانے اور یہ تاثر دینے کے لیے کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت اور ایوان صدر کی سمت مختلف ہے۔تجزیہ کاروں نے یاد دلایا کہ صدر زرداری کا چین اور ایران دونوں سے قریبی تعلقات کے قیام میں اہم کردار رہا ہے۔ ان کے دور میں ایران سے پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کیے گئے تھے جسے بعد میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی حکومتوں کے ادوار میں روک دیا گیا۔ اسی طرح سی پیک معاہدہ بھی پیپلز پارٹی کی حکومت نے چین کے ساتھ کیا تھا تاکہ چین سے پاکستانی بندرگاہوں تک تجارتی راستوں کی ترقی ممکن ہو سکے۔ تاہم عمران خان کی حکومت میں اس پر کام روک دیا گیا تھا۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی تناؤ کے پیش نظر صدر زرداری کا دورہ چین نہایت بروقت ہے۔ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں صدر زرداری کا کوئی کردار نہیں، مگر ان کا دورہ چین خطے میں توازن اور پاکستان کے قومی مفاد کے لیے فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔

========================

قیادت کے متضاد دعووں اور دھمکی آمیز بیانات کی گھن گھرج میں امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ

“صدر زرداری سندھ کے “نجی دورے کے بعد اب چین کے “سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں

راولپنڈی ،اسلا م آ باد جڑواں شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات۔۔۔ لاک ڈاؤن کے باعث ماحول میں پرسراریت اور کرفیو کا گماں
“شہریوں کے صبر کا دامن لبریز نہ ہو جائے”

اسلام آباد / فاروق اقدس )

صدر اصف علی زرداری 25 اپریل کو پانچ روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب سمیت دیگر اعلی قیادت سے ملاقات کریں گے ان کے ہمراہ جانے والے وفدکے ارکان کے نام ابھی سامنے نہیں ائے اس لیے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ بلاول بھٹو بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے یا نہیں تاہم “”کراچی سے شائع ہونے والے ایک روز نامے میں ایک چینی سفارتکار کی تصویر کے ہمث یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ چین نے صدر آ صف علی زرداری کو علاج کی پیشکش کی ہے “”
یہاں یہ بات توجہ طلب سمجھی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی حیثیت کے حامل مذاکرات کے پہلے راؤنڈ میں صدر اصف علی زرداری جو بلحاظ عہدہ پاک فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اسلام اباد میں موجود نہیں تھے اور سندھ کے دورے پر تھے جہاں سے ان کی کوئی قابل ذکر منصبی یا ذاتی مصروفیات سامنے نہیں ائی تھی اور اب جب کہ امریکی اور ایرانی قیادت کی جانب سے متضاد خبریں اور بیانات سامنے آنے کے باوجود پر اعتماد حلقے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ منگل یا بدھ کو شروع ہونے والے مذاکرات فیصلہ کن اور مثبت نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گے جن کی اسلام اباد میں تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں
عموما کسی ملک کے سربراہ مملکت صدر یا وزیراعظم یا پھر بین الاقوامی حیثیت رکھنے والی اہم شخصیات جب پاکستان کے دورے پر اتی ہیں تو صدر مملکت ایوان صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ یا کوئی اعزازی تقریب ضرور منعقد کرتے ہیں گو کہ اس وقت دونوں ملکوں امریکہ اور ایران کی اہم شخصیات ایک ایسے موقع اور مقصد کے لیے پاکستان میں موجود ہیں جن کی اولین ترجیح عالمی اور خطے کا امن قائم رکھنا ہے لیکن اس نازک صورتحال میں ایوان صدر کی کہ مکین کی لازمی موجودگی بھی صورتحال کی متقاضی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں صدر زرداری کی اسلام اباد میں عدم موجودگی کو شدت سے محسوس کیا گیا تھا اور اب مذاکرات کی طوالت کامیابی ناکامی یا بے نتیجہ ثابت ہونے کے اختتامی مراحل تک صدر مملکت کا
اسلام اباد میں ان کی موجودگی ایک علامتی حیثیت رکھتی ہے

بہرکیف بہر کا صدر زرداری امکانی طور پر 30 اپریل کو وطن واپس جائیں گے لیکن ان کے سیاسی مخالفین مسلسل اس صورتحال کو بعض خدشات کے تناظر میں دیکھتے ہیں

یاد رہے کہ دوسری مرتبہ منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد صدر مملکت کا یہ دوسرا دور چین ہے اس سے قبل وہ 12 ستمبر 20 کو چینی حکومت کی دعوت پر چین گئےتھے اور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کےہمراہ تھے
تحریر میں شامل تصویر بھی اسی )
(دور ہ چین کی ہے جہاں ایئرپورٹ پر ان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے