ایشین بیچ گیمز 2026

اعتصام الحق
========

ایشیا کے نیلے ساحل، گرم ریت اور لہروں کے شور پر سجنے والا ایک منفرد اسپورٹس میلہ ایشین بیچ گیمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بننے جا رہے ہیں ۔ چھٹے ایشین بیچ گیمز، جو چین کے خوبصورت ساحلی شہر سانیا میں منعقد ہو رہے ہیں، نہ صرف کھیلوں کے شاندر مقابلے ہیں بلکہ ثقافت، سیاحت اور ماحول دوستی کا بھی بھرپور مظہر بھی ہیں۔

یہ گیمز 22 اپریل سے 30 اپریل 2026 تک جاری رہیں گے۔ ایونٹ اولمپک کونسل آف ایشیا کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس میں تقریباً 45 ایشیائی ممالک کے 1700 سے زائد کھلاڑی شرکت کریں گے۔ ان گیمز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی کھیلوں سے ہٹ کر ساحلی اور آبی کھیلوں کو فروغ دیتے ہیں، جو نہ صرف جسمانی مہارت بلکہ قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔

کھیلوں کی فہرست میں بیچ والی بال، بیچ سوکر، بیچ کبڈی، بیچ ہینڈبال، اوپن واٹر سوئمنگ، سیلنگ اور ڈریگن بوٹ جیسے دلچسپ مقابلے شامل ہیں۔ کل ملا کر تقریباً 14 کھیلوں میں 60 سے زائد ایونٹس منعقد ہوں گے، جو شائقین کے لیے جوش کا باعث بنیں گے۔ خاص طور پر بیچ کبڈی جیسے کھیل جنوبی ایشیا کے ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے اہمیت رکھتے ہیں جہاں اس میں نمایاں کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔
ایشین بیچ گیمز کی تاریخ خود ایشیا میں کھیلوں کے بدلتے رجحانات کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ان کا آغاز 2000 کی دہائی میں اس خیال کے ساتھ ہوا کہ روایتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ ساحلی اور آبی کھیلوں کو بھی فروغ دیا جائے، خاص طور پر ایسے خطوں میں جہاں سمندر اور ساحل زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

ان گیمز کا پہلا ایڈیشن 2008 میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں منعقد ہوا۔ یہ ایک کامیاب آغاز تھا جس میں ایشیا بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور بیچ اسپورٹس کو ایک نئی پہچان ملی۔ اس کے بعد دوسرا ایڈیشن 2010 میں مسقط (عمان)، تیسرا 2012 میں ہائی یانگ (چین)، اور چوتھا 2014 میں پھوکیت (تھائی لینڈ) میں منعقد ہوا۔ پانچواں ایڈیشن 2016 میں ویتنام کے شہر دا نانگ میں ہوا۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق یہ گیمز ہر دو سال بعد ہونے تھے، لیکن وقت کے ساتھ مختلف انتظامی اور عالمی وجوہات کی بنا پر اس تسلسل میں وقفہ آ گیا۔ خاص طور پر 2020 کے بعد کووڈ 19 کی وبا نے عالمی کھیلوں کے شیڈول کو شدید متاثر کیا، جس کے باعث ایشین بیچ گیمز بھی تاخیر کا شکار ہوئے۔
پاکستان کا دستہ بھی ان کھیلوں میں شرکت کے لیے سانیا پہنچ چکا ہے ۔40 رکنی اس وفد میں 28 کھلاڑی اور 12 کوچنگ اور دیگر اسٹاف ہے۔پاکستان کی شمولیت کبڈی،ایتھیلیٹکس ،ہینڈ بال ،جو جٹسو ٹریتھلون اور ریسلنگ کے مقابلوں میں ہو گی۔

ان گیمز کی میزبانی کرنے والا شہر سانیا اپنے دلکش ساحلوں، شفاف پانی اور جدید سہولیات کے باعث ایک مثالی مقام سمجھا جاتا ہے۔ گیمز کے مختلف مقابلے شہر کے نمایاں ساحلی مقامات پر منعقد ہوں گے، جو نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی ایک یادگار تجربہ فراہم کریں گے۔

چھٹے ایشین بیچ گیمز کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا ماحول دوست وژن ہے۔ منتظمین نے گرین انرجی، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور پیپر لیس سسٹم کو فروغ دے کر اسے ایک “لو کاربن ایونٹ” بنانے کی کوشش کی ہے، جو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔

اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ گیمز صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایشیائی ممالک کے درمیان دوستی، ثقافتی تبادلے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی ہیں۔ تقریباً ایک دہائی کے وقفے کے بعد ان گیمز کی واپسی اس بات کی علامت ہے کہ ایشیا کھیلوں کے میدان میں بھی نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

چھٹے ایشین بیچ گیمز 2026 صرف ایک اسپورٹس ایونٹ نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی میلہ ہے جہاں ریت، سمندر اور کھیل مل کر ایک نئی داستان رقم کریں گے ۔ایک ایسی داستان جو ایشیا کے روشن، متحرک اور متحد مستقبل کی عکاس ہے۔