ٹھٹھہ اور مکلی کے ایل پی جی دکانداروں دلیپ کمار، طفیل پنہور، لالا حمید خٹک، سردار خان اور دیگر نے نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 242 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، مگر پورٹ قاسم فلنگ پلانٹس انہیں ایل پی جی مہنگے داموں فراہم کرتے ہیں

ٹھٹھہ (جے پی ) ٹھٹھہ اور مکلی کے ایل پی جی دکانداروں دلیپ کمار، طفیل پنہور، لالا حمید خٹک، سردار خان اور دیگر نے نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 242 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، مگر پورٹ قاسم فلنگ پلانٹس انہیں ایل پی جی مہنگے داموں فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پلانٹ سے ایل پی جی 283 روپے فی کلو کے حساب سے ملتی ہے، جبکہ قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر کمی بیشی بھی ہوتی رہتی ہے۔ پورٹ قاسم سے ٹھٹھہ اور مکلی تک ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات ملا کر فی کلو قیمت 302 روپے پڑتی ہے، جس کے باعث وہ ایل پی جی 315 سے 320 روپے فی کلو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ جب وہ پلانٹ مالکان سے اوگرا کے مقررہ نرخ پر ایل پی جی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ “لینی ہے تو لو، ورنہ نہ لو۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پلانٹ مالکان کو پابند بنائے کہ وہ اوگرا کے مقررہ نرخ پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹھٹھہ اور مکلی میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے بعض دکانیں سیل کی گئی ہیں جبکہ دیگر دکانداروں نے ازخود اپنی دکانیں بند کر دی ہیں، جس کے باعث دونوں شہروں میں ایل پی جی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ دکانداروں نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سے مطالبہ کیا کہ پلانٹ مالکان سے انہیں اوگرا کے مقررہ نرخ پر ایل پی جی فراہم کرائی جائے تاکہ وہ بھی سرکاری نرخ پر عوام کو گیس فروخت کر سکیں۔