سندھ ہائیکورٹ نے کلفٹن میں ساحل سمندر کے قریب سے پھول بیچنے والی کمسن لڑکیوں کا اغوا سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جیز، ایس ایس پی جیکب آباد اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ میں کلفٹن میں ساحل سمندر کے قریب سے پھول بیچنے والی کمسن لڑکیوں کا اغوا سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کی وکیل بشری عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا دونوں بچیاں غریب رکشہ ڈرائیور حیات اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ دونوں بچیاں والد کی مدد کیلئے پھول بھیچتی تھیں۔ 12 مئی کو گھر سے پھول بیچنے گئیں لیکن آج تک واپس نہیں آئیں۔ ہر جگہ تلاش کیا لیکن بچیاں نہیں ملیں۔ ڈی آئی جی عثمان غنی کے رشتے دار قربان نے بچیوں کو اغوا کیا ہے۔ تھانے رابطہ کیا پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکارکردیا۔ ملزم قربان کو ایس ایس پی جیکب آباد کی سرپرستی حاصل ہے۔ دونوں بچیوں کو بازیاب کرایا جائے۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی یا تنویر عالم اڈھو کی نگرانی میں انکوائری کرائی جائے۔ درخواستگزار اور اس کے اہلخانہ کوتحفظ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جیز، ایس ایس پی جیکب آباد اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ کو بازیاب کراکے 8 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔



















































































