انسداد دہشتگردی کی خصوصی کورٹ میں رئیس مما و دیگر کیخلاف سانحہ چکرا گوٹھ کیس کا فیصلہ موخر، عدالت خالی ہونے کے باعث تاحال فیصلہ محفوظ ہے۔ کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت میں رئیس مما و دیگر کیخلاف سانحہ چکرا گوٹھ کیس کا فیصلہ موخر ہوگیا۔ انسداد دہشتگردی خصوصی عدالت خالی ہونے کے باعث تاحال فیصلہ محفوظ ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق زمان ٹاؤن میں ملزمان رئیس ماما، عمران اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ملزمان پر الزام تھا کہ ملزمان نے ریزرو پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ملزمان کی فائرنگ سے ریزرو پولیس کے تین اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔ ملزمان کی فائرنگ سے 27 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ملزمان کیخلاف 2011 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان عمران اور انعام الحق کو2011 جبکہ راحیل لودھی کو 2015 میں گرفتار کیا تھا۔ ملزم رئیس ماما کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
=======
انسداد دہشتگردی کی خصوصی کورٹ میں رئیس مما و دیگر کیخلاف سانحہ چکرا گوٹھ کیس کا فیصلہ موخر، عدالت خالی ہونے کے باعث تاحال فیصلہ محفوظ ہے۔ کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت میں رئیس مما و دیگر کیخلاف سانحہ چکرا گوٹھ کیس کا فیصلہ موخر ہوگیا۔ انسداد دہشتگردی خصوصی عدالت خالی ہونے کے باعث تاحال فیصلہ محفوظ ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق زمان ٹاؤن میں ملزمان رئیس ماما، عمران اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ملزمان پر الزام تھا کہ ملزمان نے ریزرو پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ملزمان کی فائرنگ سے ریزرو پولیس کے تین اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔ ملزمان کی فائرنگ سے 27 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ملزمان کیخلاف 2011 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان عمران اور انعام الحق کو2011 جبکہ راحیل لودھی کو 2015 میں گرفتار کیا تھا۔ ملزم رئیس ماما کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
=====
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کسٹم حکام کی پیٹرولیم مصنوعات سے منسلک نجی کمپنیوں کیخلاف کارروائیوں کیخلاف درخواست کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔ عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے ضبط شدہ ضبط شدہ ڈیزل، ٹینکرز اور سیل شدہ املاک واپس کرنے کا حکم دیدیا۔ تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ کا اندراج چار روز تاخیر سے کیا گیا۔ مقدمے میں بنیادی تقاضوں جرم کی تاریخ اور وقت درج نہیں۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ صرف ہنگامی حالات میں بغیر وارنٹ محدود کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ٹینکرز ضبطگی کے لئے ہنگامی اختیارات استعمال کئے جاسکتے تھے۔ بعد کی کارروائیوں کے لئے کسٹمز نے مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا۔ بغیر سرچ وارنٹ کارروائی سے قانونی کارروائی مشکوک ہوگئی۔ کسٹمز نے ڈلیوری آرڈر کے اجرا کرنے والے اداروں کے افسران کے بیانات قلمبند نہیں کیئے۔ بادی النظر میں درخواستگزاروں کے پیش کردہ دستاویز قانونی ثابت ہوتے ہیں۔ کسٹمز حکام پیٹرولیم مصنوعات غیر قانونی ذرائع سے حصول ثابت نہیں کرسکے۔ سرکاری اداروں پر اختیارات قانون کے مطابق استعمال کرنا لازم ہے۔ کسٹمز حکام کا سرچ، ضبطگی اور تفتیش قانون سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کسٹمز حکام ضبط شدہ ڈیزل اور سیل کی گئی املاک درخواست گزاروں کے حوالے کریں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ کسٹمز حکام نے درخواست گزاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ درخواست گزاروں کیخلاف 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ تمام لین دین سرکاری نیلامی اور قانونی ادائیگی کے ذریعے کیا گیا۔ کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی احاطے میں داخل ہوئے۔ کسٹم حکام کا کہنا تھا کہ کیماڑی میں دو آئل ٹینکرز کو روک تک تلاشی لی گئی۔ڈرائیوروں نے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ درخواستگزار کمپنی غیر قانونی پیٹرولیم کی خرید وفروخت میں ملوث ہے۔ کسٹمز حکام کی کارروائی قانون کے مطابق تھی۔ فوری کارروائی کے دوران سرچ وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔


















































































