
یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کی فلیٹ میں پراسرار ہلاکت- پولیس کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر اکیلی رہتی تھیں
بھارت میں واقع دہلی یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر دیبوسمیتا پال کو ان کے فلیٹ سے مردہ حالت میں برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر اکیلی رہتی تھیں جبکہ ان کے شوہر بنگلورو میں مقیم ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کو گزشتہ روز دوپہر میں اطلاع ملی کہ پروفیسر دیبوسمیتا پال اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی ہیں۔
اطلاع خاتون پروفیسر کی بہن دیوراتی پال نے دی جنہوں نے بتایا کہ فلیٹ صبح سے باہر سے بند تھا اور بار بار رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں مل رہا تھا، تشویش کے باعث میں تالا توڑ کر اندر داخل ہوئی اور بہن کو مردہ حالت میں پایا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون پروفیسر کے سر پر کسی بھاری چیز سے وار کیے جانے کا گہرا زخم موجود تھا جبکہ کلائی کی رگیں بھی کٹی ہوئی تھیں، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گھر سے زیورات اور نقدی محفوظ ملی ہے جس سے بظاہر ڈکیتی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
===============
نور مقدم قتل: ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔
ذہنی حالت کا مؤقف، عدالت کے سخت سوالات
سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت میرے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے تاہم عدالت نے بیماری، علاج اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق تفصیلی شواہد طلب کیے۔
عدالت نے دفاعی دلائل پر تحفظات ظاہر کر دیے
نور مقدم کیس، قتل سے پہلے اور بعد ظاہر جعفر نے والد سے فون پر بات کی
بینچ نے استفسار کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا؟ کون سے ڈاکٹرز نے علاج کیا اور وقوعے کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں۔
عدالت نے لندن کے کلینک سے پیش کیے گئے خط پر بھی سوالات اٹھائے اور دفاعی مؤقف میں تضادات کی نشاندہی کی۔
نشے کے ٹیسٹ اور ٹرائل پر بھی بحث
خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ استغاثہ نے مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کروایا اور ٹرائل کے دوران دباؤ موجود تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں نہ میڈیا رپورٹنگ اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں فیصلے کرتی ہیں۔
سزا میں رعایت کی استدعا بھی مسترد
وکیل نے عدالت سے دوبارہ ٹرائل کے بجائے سزا میں رعایت دینے کی درخواست کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق معاملہ پہلے ہی حتمی ہو چکا ہے اور دفاع اس نکتے کو مؤثر انداز میں ثابت نہیں کر سکا۔
سزائے موت کا فیصلہ برقرار
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا پر نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔


















































































