غلام مصطفےٰکھر۔ میلے کی رونق کے مانند زندگی گزار کررخصت ہوئے

تحریر: سہیل دانش
زندگی کو میلے کی رونق کی طرح گزار کر غلاممصطفےٰ کھر بھی دوسرے جہاں کی طرف روانہ ہوگئے۔ عزت شہرت دولت اور اقتدار پھر خالی ہاتھ رخصتی۔ یہی انسان کا مقدر ہے۔ اُن کی زندگی کے ناجانے کتنے رنگ تھے۔ ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادھو میں 1937 میں آنکھ کھولنے والا یہ ہرفن مولا اپنے اندر جاذبیت کے بے شمار رنگ سمیٹے جیتا رہا۔ رومانس اُس کی جبلت میں شامل تھا اپنے اندر وہ دلکش چہروں کے لئے ایک کشش رکھتا تھا، بھٹو کاجانثار ساتھی بھی تھا اور رازدار بھی۔ 1971 میں بھٹو برسراقتدار آئے تو وہ پنجاب میں سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ لاہور کے وسیع و عریض گورنر ہاؤس میں قدم رکھتے ہی اُس نے کہا “مجھے یہاں ملک امیر محمد خان کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے، لیکن میں یہاں اس طرح حکمرانی کروں گا کہ لوگ نواب آف کالا باغ کو بھول جائیں گے” پھر اُس نے یہ سچ کر دکھایا وہ طاقت کے گھوڑے پر سوار ہر کسی سے اپنی بات منوانے کا فن جانتا تھا، کہیں حکم، کہیں پیار اور کہیں حکمت سے وہ انسانی فطرت اور نفسیات کو جانچنے اور پرکھنے کا ماہر تھا، شعلہ بیان مقرر تھا۔ اُس کے دور میں ایک بار لاہور پولیس نے ہڑتال کردی۔ یہ ایک غیرمعمولی واقع تھا، انہوں نے ہڑتالی پولیس اہلکاروں کو ڈیڈ لائن کے ساتھ وارننگ دی کہ اگر وہ واپس ڈیوٹی پر نہ آئے تو خود کو ملازمتوں سے برطرف سمجھیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے نوجوان کارکنوں کو ہدایت دی کہ اگر پولیس اہلکار مقررہ وقت تک ڈیوٹی پر نہ آئیں تو وہ اُن کی جگہ چوراہوں اور تھانوں میں پہنچ جائیں یہ ایک سخت گیر منتظم کا رُوپ تھا، چند گھنٹوں میں ہڑتال ختم ہوگئی، 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس بادشاہوں، صدور اور لیڈران کرام کے رہائش اور پروٹوکول کے حوالے سے تمام انتظامات کی ذمہ داری بھی غلام مصطفےٰ کھر کے زیر انتظام تھی اور انہوں نے اس چیلنج کو مثالی انداز میں سرانجام دیا۔ 1973ء کے آئین کی تشکیل کا مرحلہ آیا تو جہاں قانونی نکات اور موشگافیوں کو قانونی پیراہن کی ذمہ داری جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کی تھی وہاں مختلف الخیال رہنماؤں اور پارٹی لیڈروں کو تمام امور پر متفق کرنا، اُنہیں منانا اور توثیق کروانے میں کلیدی رول مصطفےٰ کھر کا تھا۔ کھر صاحب غضب کے مقرر تھے۔ ہجوم کو جذباتی باتوں اور نعروں سے اپنے ساتھ بہاکر لے جاتے۔ حکمرانی کے دور میں جب بھی کوئی چیلنج درپیش ہوا، انہوں نے ایک سخت گیر منتظم کا رنگ دکھایا۔ پنجاب میں بدمعاشوں اور رسہ گیروں کو ناک رگڑنے پر مجبور کیا۔ غلام مصفےٰ جتوئی سے کھر کے بڑے گہرے اور دیرینہ تعلقات تھے، جتوئی صاحب بہت بڑے زمیندار تھے۔ مروت اور وضعداری جیسی خوبیوں سے مالا مال تھے۔ کھر صاحب سے تین بار تفصیلی انٹرویوز کرنے کا موقع ملا، دوبار اُن کا رویہ محتاط رہا۔ ٹو دی پوائنٹ سوالات کے جوابات دئیے۔ لیکن تیسری بار کراچی میریٹ میں لئے گئے انٹرویوز میں وہ بہت کچھ کہہ گئے اُن کی گفتگو مختلف موضوعات کا احاطہ کررہی تھی، انہوں نے بتایا کہ ضیاء الحق کو کس طرح چکمہ دے کر وہ ملک سے باہر چلے گئے اور یہ بھی کہ بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر آنے کا قصہ کیا تھا۔ بے شمار باتیں اور یادیں ہیں لیکن ایک واقعہ ہمیشہ یاد رہے گا، یہ ہمارا طالب علمی کا دور تھا، سٹی کالج حیدرآباد کے طلباء کا ایک گروپ شمالی علاقوں کے تفریحی ٹور پر گیا ہوا تھا مری کے قریب چھانگلہ گلی میں اُن کی بس موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں گرگئی یہ عجیب اتفاق تھا کہ اِس حادثے کے کچھ دیر بعد ہی غلام مصطفےٰ کھر کے قافلے کا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی گاڑی رُکوائی بلکہ کئی گھنٹے تک جائے وقوع پر کھڑے ہوکر تمام ایمرجنسی کاروائیوں کی نگرانی بھی کی، اِس حادثے میں 56 طلباء جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے انہوں نے وزیراعظم بھٹو سے درخواست کی کہ اِن طلباء کی میتیں حیدرآباد پہنچانے کے لئے ایئرفورس کے سی ون 30 طیارے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تمام میتوں کی حیدرآباد روانگی تک مصطفےٰ کھر اِس آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔ جب یہ طیارہ حیدرآباد کے ہوائی مستقر پر اُترا۔ تو وہ دلخراش منظر آج تک میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ حیدرآباد کے ہزاروں لوگ ایئرپورٹ پر جنازہ کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے مجھے مصطفےٰ کھر کا وہ وقت بھی یاد ہے جب وقت کی بساط پر بیٹھے مہرے اُس کے اشارے کے منتظر رہے طاقت اور جاہ و جلال کا ایسا خمار تھا لگتا تھا زوال کبھی اس کے راستے کا رُخ ہی نہیں کرے گا۔ غلام مصطفےٰ کھر کی زندگی کے بہت سے رنگ ایک ساتھ دیکھنے ہوں تو آپ اُن کی سابقہ اہلیہ کی تصنیف My Feudal Lord مہیڈا سائیں پڑھ لیں اِس میں تہمینہ دُرانی کی زبانی داستان کو ہمارے بہت ہی قابلِ احترام صحافی عمران اسلم نے اپنے قلم کی جادوگری سے چار چاند لگادئیے، زندگی میں اپنے فیصلوں پر پچھتاوا ہوتا تو غلطی کا اعتراف کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے، بتارہے تھے کہ میں نے اپنی بیٹی آمنہ حق سے ایک بار کہا تھا کہ تیری ماں مجھ سے روٹھ کر چلی گئی ہے، اگر تم مناکر لے آئو تو میرے دروازے اُس کے لئے کھلے ہیں، بتارہے تھے کہ جہاں کہیں زندگی کے کچھ “سیکریٹ مشن” ہوئے، مجھے بھٹو صاحب کی ڈرائیوری کی ذمہ داری بھی نبھانا پڑتی۔ اسکینڈلز پوری زندگی گھر صاحب کا تعاقب کرتے رہے یہ ایک ایسے شخص کی زندگی کا “The End” ہے جو کئی دہائیوں تک میڈیا کی جلی سُرخیوں میں جگمگاتا رہا۔ اب وہ ہم میں نہیں رہے، اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے۔ آمین