
**پیرس، فرانس — شدید گرمی کی لپیٹ میں یورپ، کارٹونسٹ کی نگاہ میں عوام کی پریشانی**
یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی گرفت میں ہے، خاص طور پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں درجہ حرارت نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ گرمی کی یہ شدت شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے، اور اسی حوالے سے ایک کارٹونسٹ نے اپنے طنزیہ انداز میں عوام کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔
ایک مشہور کارٹونسٹ ڈیوڈ کرکی کی حالیہ کارٹون میں پیرس کے شہریوں کی گرمی سے جوجھنے کی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے۔ کارٹون میں ایک شخص ایفل ٹاور کے قریب کھڑا نظر آ رہا ہے اور مایوسی کے عالم میں کہہ رہا ہے:
**”میں نے سوچا تھا کہ منظر بہتر ہوگا۔”**
یہ جملہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیرس کی خوبصورتی بھی اس شدید گرمی میں بے اثر نظر آتی ہے، اور لوگ اس قدر متاثر ہیں کہ انہیں شہر کا حسن بھی بھا نہیں رہا۔
موسمیات کے ماہرین کے مطابق فرانس میں اس سال گرمی کی لہر معمول سے زیادہ طویل اور شدید ہے، جس کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں قرار دی جا رہی ہیں۔ پیرس میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے اسکول بند کر دیے گئے ہیں، پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے، اور بزرگوں اور بچوں کو خاص طور پر ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر لوگ اس کارٹون کو خوب شیئر کر رہے ہیں اور اسے گرمی کی صورتحال کا بہترین طنزیہ اظہار قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا:
“یہ کارٹون ہماری حقیقت ہے، پیرس خوبصورت ہے مگر اس گرمی میں تو صرف پانی ہی نظر آتا ہے۔”
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں گھر سے باہر نہ نکلیں، کافی مقدار میں پانی پئیں، اور پرندوں اور جانوروں کا بھی خیال رکھیں۔ پیرس میں پبلک پارکس اور فوارے کھول دیے گئے ہیں تاکہ لوگ ٹھنڈک حاصل کر سکیں۔
کارٹونسٹ ڈیوڈ کرکی کا یہ خاکہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ خوبصورت سے خوبصورت شہر بھی موسمیاتی بحران کا شکار ہے اور انسان اپنی بے بسی محسوس کر رہا ہے۔
**— رپورٹ: نامہ نگار، پیرس**


















































































