
ون پوائنٹ
نوید نقوی
گزشتہ دنوں سرگودھا میں ایک اندوہناک واقعے میں ایک سات آٹھ سالہ معصوم بچی کو نہ صرف بے دردی سے قتل کیا گیا بلکہ متعدد افراد نے بے رحمی سے ریپ بھی کیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں درندے رہتے ہیں اور ان کا خاتمہ کسی بھی معاشرے کی سلامتی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آئے روز ایسے دل خراش واقعات رونما ہو رہے ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ ایک بار پھر ایک معصوم کلی ظلم و بربریت کا نشانہ بن گئی، ایک بار پھر کسی ماں کی گود اجڑ گئی، ایک بار پھر ایک خاندان کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ ایک بار پھر ایک باپ کا جگر چیر کر رکھ دیا گیا۔ یاد رہے کہ بچوں کے خلاف جرائم صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جب معصوم بچے درندگی کا شکار ہوتے ہیں تو سوال صرف مجرم کے کردار پر نہیں اٹھتا بلکہ معاشرتی نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اجتماعی شعور پر بھی اٹھتا ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہم اپنی نئی نسل کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟ کچھ ہفتے قبل ایک افسوس ناک واقعے میں منڈی بہاوالدین میں ایک آسٹریلوی خاندان کو سی سی ڈی اہلکاروں نے غلط فہمی کی وجہ سے نشانہ بنایا جس میں ایک بچی جام شہادت نوش کر گئی ، یہ ایک سنگین غفلت تھی اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا ملنا چاہیئے۔ لیکن اس واقعے کی آڑ میں ہر طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ سی سی ڈی کو بطور محکمہ ختم کر دیا جانا چاہیئے یا اس کی افادیت پر سوال اٹھائے گئے۔ 
میں یہاں مغربی معاشرے میں پولیس کی جانب سے غلط فہمی یا کراس فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی تفصیل لکھوں تو شاید ایک کالم کافی نہ ہو، امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک میں پولیس جیسے اسپیشل ٹرینڈ اداروں سے غلطیاں ، کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن ان غلطیوں اور کوتاہیوں کے بعد سخت انضباطی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ بہت اچھا کام کر رہا ہے، لیکن انفرادی سطح پر ترقی یافتہ ممالک ہوں یا پاکستان ، غلطی کا امکان رہتا ہے۔ اب جبکہ سی سی ڈی کی افادیت ہر خاص و عام تسلیم کرنے پر مجبور ہے، سرگودھا میں معصوم کلی کو مسلنے والے درندوں کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے بھی عوام سی سی ڈی کو بلا رہی ہے۔ سرگودھا کی ننھی منتہی کو جس بیدردی سے قتل کیا گیا ہے، مجرموں کو اس سے کئی گنا زیادہ تکلیف سے جہنم واصل کیا جائے تاکہ دیگر درندے عبرت حاصل کر سکیں۔ خدا گواہ ہے جب بھی کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے دل جیسے مٹھی میں آ جاتا ہے سمجھ نہیں آتا کہاں چھپا لیں ہم اپنی ننھی کلیوں کو ، لیکن اللہ پاک مسب الاسباب ہے، میں نے تہیہ کیا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو سیلف ڈیفینس کی ٹریننگ ضرور دلواؤں گا تاکہ وہ اپنا دفاع کرنے کے قابل تو ہو کوئی خبیث، مردود گندی نظر سے دیکھے بھی تو اسے جواب دینا جانتی ہو، میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے بچے اور بچیوں کی حفاظت فرمائے، آمین
آج سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی وجہ سے اخلاقی اقدار ختم ہو چکی ہیں۔ حالات ہماری سوچ سے بھی زیادہ خراب ہو چکے ہیں، انسان نما وحشی، انسان نما جانور، اس معاشرے میں پنپ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت خود کرنی ہے، کبھی پانچ منٹ کے لٸے بھی غافل نہ ہوں، اپنے بچوں کو اکیلے زیادہ دیر تک یوں گلی، بازاروں میں دکانوں پر بھیجیں۔ چاہے کوٸی کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، بچوں کے معاملے میں کبھی بھروسہ نہ کریں۔ میں ایک بار پھر عرض کروں گا کہ اپنے بچوں کی حفاظت آپ کی ذمے داری ہے۔
سرگودھا کے کارخانہ بازار میں 9 سالہ منتہیٰ نعیم ، ایک کریانہ سٹور سے کچھ سامان لینے گئی مگر واپس نہیں آئی، تلاش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو دکان کے اندر داخل ہوتے تو دیکھا گیا۔ مگر بچی وہاں سے باہر نہ آئی۔ پولیس نے دکان کی تلاشی لی، دکان کے اوپر گودام سے منتہیٰ کی لاش برآمد ہوئی۔ قتل کرنے والا دکان کا ملازم تھا، مبینہ طور پر ملازم نے بچی سے زیادتی کی اور پکڑے جانے کے خوف سے بچی کا گلا گھونٹا اور گھی والے کنستر کے پّترے سے شہ رگ کاٹی اور اوپر گودام میں پھینک دیا تاکہ رات کو کسی وقت لاش کہیں اور ٹھکانے لگا دیا جائے۔ دکان کے مالک کے مطابق ملازم ارسلان دس سال سے یہاں کام کررہا تھا۔ لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ درندہ آزادی سے باہر نہیں گھوم رہا بلکہ سی سی ڈی نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور مجھے یقین ہے اس کو عبرت ناک سزا ملے گی۔ ملزم کےدو ساتھی بھی پکڑے گئے ہیں جو اس وحشیانہ عمل میں اس کے ساتھ تھے۔
اس المناک سانحے پر پورا ملک غم و غصے میں ہے۔ ایسے مجرموں کو صرف سزا نہیں ، ان کی لاشوں کو چوک میں لٹکانا چاہیئے۔ اپنی حفاظت خود کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کا فرض ہے کہ شہروں اور دیہاتوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کا جال بچھایا جائے۔ سکولوں، پارکوں، بس اڈوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر نوٹ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جانی چاہیئے۔
تاہم صرف سی سی ٹی وی کیمرے ہی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اس کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف، موثر تفتیش اور مجرموں کو عبرتناک سزائیں دینا بھی ناگزیر ہے۔ جب تک مجرموں کو یہ یقین رہے گا کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتے ہیں، ایسے واقعات کا سلسلہ رکنا مشکل ہوگا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات مل کر بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہر معصوم جان قیمتی ہے اور ہر بچے کو محفوظ بچپن فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ایک اور معصوم کلی کے مسلے جانے پر صرف افسوس کافی نہیں۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو مستقبل میں کسی اور گھر کے چراغ کو بجھنے سے بچا سکیں۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔


















































































