چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، بلوچستان میں مؤثر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کا استعارہ

تحریر: شیخ عبدالرزاق

کسی بھی صوبے کی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح کا انحصار صرف پالیسی سازی پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے مؤثر نفاذ پر بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی ڈھانچے میں اعلیٰ سرکاری افسران کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے جو مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، اس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خدمات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ شکیل قادر خان پاکستان سول سروس کے ان تجربہ کار اور باصلاحیت افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، انتظامی بصیرت اور انتھک محنت کے ذریعے سرکاری امور میں بہتری لانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں صوبائی بیوروکریسی نے مختلف شعبوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے اور حکومتی فیصلوں کے مؤثر نفاذ کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں گورننس کی بہتری، اداروں کی مضبوطی اور عوامی خدمت کے معیار کو بلند کرنے کا جو وژن پیش کیا ہے، اس کی عملی تعبیر میں چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ صوبائی انتظامیہ اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی مشینری کو متحرک رکھنے میں ان کی کاوشیں نمایاں ہیں۔ حالیہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران بھی چیف سیکرٹری نے صوبائی حکومت کی ٹیم کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا۔ بجٹ سازی کے عمل میں جدید طرزِ حکمرانی، منصوبہ بندی اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے جو اقدامات کیے گئے، وہ ایک مؤثر انتظامی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی کابینہ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی خدمات کا کھلے الفاظ میں اعتراف بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت ان کی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ان تمام سرکاری افسران کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے جو دیانت داری اور محنت کے ساتھ عوامی خدمت کے مشن میں مصروف ہیں بلوچستان کو درپیش چیلنجز کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وسیع جغرافیہ، ترقیاتی ضروریات، امن و امان کے مسائل اور محدود وسائل جیسے عوامل صوبائی انتظامیہ کے لیے مسلسل آزمائش کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط، فعال اور پیشہ ورانہ انتظامی قیادت کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ شکیل قادر خان نے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں جس سنجیدگی، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ صوبے میں بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاون ثابت ہوا ہے حقیقت یہ ہے کہ مضبوط ادارے ہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ جب انتظامی امور میرٹ، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے مطابق چلائے جائیں تو عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر بڑھتا ہے اور ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ بلوچستان میں ادارہ جاتی اصلاحات اور گورننس کی بہتری کے لیے جاری کوششوں میں چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی خدمات ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں یہ توقع بجا ہے کہ ان کی قیادت اور تجربے سے صوبائی انتظامیہ مستقبل میں بھی عوامی خدمت، ترقیاتی عمل کی تیز رفتاری اور مؤثر حکمرانی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، جس سے بلوچستان کے عوام کو مزید بہتر ثمرات حاصل ہوں گے۔