
**سرکاری ملازمت کی نجکاری اور ٹیلی کام بل: کیا ضرار ہاشم خان “بزنس سلوشنز” کو قانون بنا رہے ہیں؟**
اسلام آباد سے ایک عجیب کہانی سامنے آئی ہے، جہاں سرکاری ملازمت کو نجی شعبے کی طرح چلانے کا تجربہ ایک متنازعہ قانون کی صورت میں نمودار ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے ضرار ہاشم خان کی، جو بغیر سی ایس ایس کے پی ٹی سی ایل سے وفاقی سیکرٹری برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام بنے۔ انہیں پرائیویٹ سیکٹر سے شریف حکومت نے اس لیے لایا کہ ‘بوڑھے دماغ’ شہباز اسپیڈ کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے ۔ خان صاحب، جنہیں ‘بزنس سلوشنز’ کا ماہر کہا جاتا ہے، نے کویت میں ٹیلی کام ٹاورز گاڑنے سے لے کر پی ٹی سی ایل میں بی ٹو بی اور بی ٹو جی کسٹمرز کے مسائل حل کرنے تک کا تجربہ حاصل کر رکھا ہے۔ یہ وہی شخصیت ہیں جنہیں اب ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔


قومی اسمبلی میں پیش کردہ ‘پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026’ نے ایک ایسا طوفان برپا کیا ہے، جس کی زد میں وزیرِ اعظم کی بھتیجی اور وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ آگئیں ۔ اس بل کی شقوں کے مطابق، موبائل کمپنیوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری جائیداد پر ٹیلی کام ٹاور نصب کرنے کا اختیار دے دیا گیا، اور راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو پانچ کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ۔ قاری ذرا سوچیے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی بزنس کلائنٹس کے مسائل حل کرنے میں گزاری ہو، جس نے کویت میں اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے تحت ٹاورز کھڑے کرنے کی نگرانی کی ہو، اس کے ذہن میں جب عام آدمی کے گھر پر ٹاور نصب کرنے کی رکاوٹوں کا ذکر آیا تو اس نے کیا ردعمل دیا ہوگا؟ ظاہر ہے، ان کا ‘بزنس سلوشنز’ والا دماغ یہی سوچتا کہ کلائنٹ کی راہ میں حائل ہر پتھر کو ہٹانا ہے، چاہے وہ پتھر کسی غریب کی چھت پر کپڑے سکھاتی ماں یا اپنے بیٹے کے کمرے کی دیوار ہی کیوں نہ ہو۔
مزاحیہ پہلو تو یہ ہے کہ جب اس بل پر اٹھنے والے شور کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے مخالفت کی اور بلاول بھٹو کو ہدایت پر سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی، تو حکومت نے اس کی ‘نوک پلک سنوارنے’ کا عندیہ دیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ‘نوک پلک’ درست ہو پائے گی؟ سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے تو کھل کر کہہ دیا کہ اس بل کے پیچھے ضرار ہاشم خان کا ہی ہاتھ ہے ۔ یہ وہی کلاسرا ہیں جنہوں نے شزہ فاطمہ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری رکھنے والی وزیر آئی ٹی سے یہی تو توقع تھی ۔ بہرکیف، یہ قیاس آرائیاں ضرور کی جا رہی ہیں کہ ایک نجی شعبے سے آنے والے بیوروکریٹ نے اپنے پرانے کلائنٹس (ٹیلی کام کمپنیوں) کی خوشنودی کے لیے یہ قانون بنایا ۔ اگر خدا نے یہ ‘نوک پلک’ درست کر دی تو خاکساروں کی کون سنے گا؟ ضرار ہاشم خان کو ستارہ امتیاز مل چکا، اب ایک اور ستارہ بھی چمکا تو چاند کی کیا حاجت! سیلانی تو بس یہی کہتا چلا گیا کہ دیکھو کس طرح ایک ‘بزنس مائنڈ’ سرکاری قانون کو بھی ڈیل بنا دیتا ہے۔
=====================
متنازع رائٹ آف وے بل 2026 پر وزیراعظم کا بڑا اقدام
21 جون ، 2026
اسلام آباد( زبیر قصوری)وزیراعظم پاکستان نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026میں شامل متنازع رائٹ آف وے (ROW) شقوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے بعد معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف کریں گے۔


















































































