
مورخہ 22جون 2026
پریس ریلیز
میرپورخاص میں پنجابی اتحاد کے ایک وفد نے معروف سماجی و مزدور رہنما لیاقت علی ساہی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سانگھڑ میں چند ماہ قبل نامعلوم افراد کی جانب سے معروف ڈاکٹر محمد سلیم آرائیں کو دن دہاڑے ٹارگٹ کرکے قتل کیے جانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر لیاقت علی ساہی نے ڈاکٹر محمد سلیم آرائیں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک پیشہ ور اور معزز ڈاکٹر کو بلاجواز قتل کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے لواحقین انصاف کے حصول کے لیے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بارہا درخواستیں اور یادداشتیں جمع کرا چکے ہیں، مگر تاحال قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی جس سے متاثرہ خاندان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس قتل کے پیچھے لسانی یا نسلی تعصب کا کوئی عنصر موجود ہے تو یہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ قومی یکجہتی کے خلاف ایک سنگین سازش کے مترادف ہے۔ سندھ میں رہنے والے تمام زبانیں بولنے والے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہیں اور چند شرپسند عناصر نفرت اور تقسیم پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پنجابی برادری ایسی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور نفرتوں کو فروغ دینے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
لیاقت علی ساہی نے وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ سانگھڑ میں پیش آنے والے اس سنگین قتل کیس کا فوری نوٹس لیا جائے، تفتیش کو مؤثر بنایا جائے اور ڈاکٹر محمد سلیم آرائیں کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بھی مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور اگر اس قتل کے پیچھے کوئی منظم یا بیرونی عناصر کارفرما ہیں تو انہیں بے نقاب کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک دشمن سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ڈاکٹر محمد سلیم آرائیں کے قاتلوں کی گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی تک آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
جاری کردہ :ترجمان


















































































