
ٹھٹھہ (جے پی) گھارو کے قریب بابڑا روڈ پر دو روز قبل مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ ہلاک ملزم اور اس کے دو ساتھیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، قتل اور سرکاری ڈیوٹی میں مداخلت کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر میں بلوچستان کی ایک بااثر شخصیت کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم کے کراچی میں بھی چھاپے جاری ہیں۔ دو روز قبل گھارو کے قریب بابڑا روڈ پر پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے ٹنڈوالہیار کے رہائشی دو پولیس جوانوں علی اکبر مری اور عبدالمجید مری کے قتل کا مقدمہ تھانہ گھارو میں درج کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے سرکار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق گزشتہ رات پولیس مقابلے میں مارا جانے والا ملزم حضور بخش عرف رضوان ابڑو، جو بلوچستان کے ضلع اوستہ محمد کا رہائشی تھا، اور اس کے دو فرار ساتھی بنگل مگھیری (ساکن سبی) اور کفایت اللہ عرف چھوٹو بلیڈی (ساکن باغ ناڑی، بلوچستان) کو مرکزی ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں ملزمان کی سہولت کاری اور انہیں پناہ فراہم کرنے کے الزام میں گھارو کے قریب بابڑا کے علاقے میں زمینداری کرنے والی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیت نظیر بروہی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق نظیر بروہی اپنی زمین پر ان مسلح ملزمان کو پناہ دیتا اور ان کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ضلع ٹھٹھہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے نامزد ملزمان اور نظیر بروہی کی گرفتاری کے لیے کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ گھارو اور اس کے گرد و نواح میں بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث ملزمان میں سے ایک، کفایت اللہ عرف چھوٹو بلیڈی، زخمی حالت میں فرار ہو گیا تھا جس کی تلاش جاری ہے۔


















































































