پاکستان کا بجٹ: امید، مشکلات اور عوامی ریلیف کی تلاش

تحریر: نصرت زہرا حسین

ہر سال وفاقی بجٹ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں بحث و مباحثے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حکومت اسے معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا روڈ میپ قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن، ماہرینِ معیشت اور عوام اس کے مثبت و منفی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن عام پاکستانی کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا ہے: کیا یہ بجٹ واقعی عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے گا یا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا؟

گزشتہ کئی برسوں سے ہر آنے والا بجٹ عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور ترقی کے دعووں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز، مزدور، کسان اور چھوٹے کاروباری افراد سبھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

درحقیقت بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کا حساب نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی بھی حکومت کی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہی دستاویز یہ طے کرتی ہے کہ قومی وسائل کن شعبوں پر خرچ ہوں گے، کن طبقات کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور معاشی بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالا جائے گا۔ ایک مثالی بجٹ وہی ہوتا ہے جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کو بھی یقینی بنائے اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرے۔

پاکستان اس وقت کئی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتا ہوا قرضہ، مالیاتی خسارہ، محدود ٹیکس نیٹ، درآمدات پر انحصار اور بیرونی مالیاتی اداروں کی شرائط حکومت کے لیے بجٹ سازی کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ انہی مشکلات کے باعث اکثر حکومتیں نئے ٹیکس عائد کرنے، سبسڈی کم کرنے یا عوامی اخراجات محدود کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی اور انسانی بحران بن چکی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔ شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب نے واضح کر دیا کہ قدرتی آفات چند ہفتوں میں کئی برسوں کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ بجٹ میں موسمیاتی تحفظ، آبی وسائل کے بہتر انتظام، ماحول دوست توانائی، شجرکاری، جدید زرعی تحقیق اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے مؤثر نظام کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے جائیں۔ یہ اخراجات مستقبل میں ہونے والے بڑے معاشی نقصانات سے بچانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

اسی طرح تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو بھی بجٹ میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند قوم ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، فنی تعلیم، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹیکس نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ بار بار انہی افراد پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام کی جائے اور ایسا شفاف نظام قائم کیا جائے جس میں ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ ایک منصفانہ ٹیکس نظام ہی ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ بجٹ پر عمل درآمد میں شفافیت اور احتساب بھی نہایت ضروری ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کہاں اور کس طرح خرچ ہو رہی ہے، اور کیا ترقیاتی منصوبے واقعی عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں یا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا پیمانہ صرف معاشی اعداد و شمار یا حکومتی دعوے نہیں ہوتے بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا عام آدمی کی زندگی آسان ہوئی یا نہیں۔ اگر ایک مزدور اپنے بچوں کی تعلیم، ایک مریض اپنا علاج، ایک کسان اپنی فصل اور ایک نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار حاصل کر سکے تو ہی بجٹ کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو صرف مالیاتی توازن قائم نہ کرے بلکہ عوامی فلاح، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کو بھی یقینی بنائے۔ جب بجٹ عام شہری کے لیے امید، اعتماد اور معاشی تحفظ کی علامت بن جائے گا، تب ہی حقیقی معنوں میں قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔