
By Tahir Hassan Khan
======================

سندھ کو یہ اعزاز حاصل ھے کہ اس کا بجٹ اہک سیاستدان بنا رھا ھے۔ دس سال سےزیادہ عرصہ ھو گیا وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کو سندھ کا بجٹ بناتے ھوے۔ وہ اس کام میں اتنے ماہر ھو گے ہیں کہ ان کو ایک ایک اعدادوشمار یاد ھے وزیر اعلی بنے سے قبل بھی وہ بطور وزیر خزانہ کام کر دھے تھے اور پارٹی نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ھوے ان کو وزارت اعلی کے منصب پر تقرر کیا تھا۔ یہ کہا جاے کہ آج وہ اپنے کام میں پی ایچ ڈی ھو گے ہیں تو غلط نہ ھوگا۔ پیپلز پارٹی کو ان کی صلاحیتوں پر نہ صرف بھروسہ ھے بلکہ پارٹی قیادت کا کہنا ھے کہ اگر مرکز میں پارٹی کو بجٹ بنانے کا وقت آیا تو اب ان کو کسی بینکر یا ماہر معاشیات کی ضرورت نہیں ھوگی ۔ سندھ کے بجٹ کی خاص بات اس میں عوامی اھمیت کی منصوبوں کی ترجیح ھے صحت جیسے شعبے کی اھمیت کے باعث پارٹی تین الیکشن باآسانی جیت گی۔ بلاول بھٹو زرداری کا ان پر بھر پور اعتماد مراد علی شاہ کی قیادت میں سندھ میں ھونے والی ترقی خاص طور سے صحت کے بہترین نظام کی وجہ سے ھے۔ وہ ہر محکمے اور اس میں ھونے والی مشکلات اور اس کے حل کے لیے مسلسل اجلاس کرتے رھتے ھیں وزرا اور افسران کی گائیڈ کرتے رھتے ھیں ۔ اس عمل کے نتیجے میں بہت سے وزراء نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا اور سیکھا بھی مگر کچھ نے سیکھنے کے بجاے ہر کام وزیر اعلی کو سونپ دیا اور صرف اختیارات اور پروٹوکول انجواے کرتے رھتے ھیں ۔ ویسے تو افسران کی ایک فوج ھے سندہ حکومت میں مگر صرف نصف درجن افسران وزیر اعلی کے مزاج اور پالیسی کے مطابق کام کر رھے ہیں ۔ خود مراد علی شاہ اس بات کو تسلیم کرتے ھیں کہ ان کے پاس باصلاحیت افسران کی کمی ھے اور ان کو بہت مشکلات کا سامنا ھے۔ سابقہ عمران خان کی حکومت میں کوشش کی جاتی رہی کہ اچھے افسران کو سندھ سے تبادلے کیے جاتے رھے۔ مگر کچھ افسران نے اپنی نوکری داو پر لگا کر سندھ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ سندھ میں کام کرتے رھے ۔ آج بھی وہ سندھ میں کام کر رھے ہیں اور وزیر اعلی کی ٹیم کا حصہ ھیں ۔

کئی سالوں بعد سندھ کے بجٹ اجلاس کو دیکھنے کا موقع ملا۔مجھے یہ اعزاز حاصل ھے کہ تقریبا تین دھایون تک سندھ اسمبلی کے اجلاس کی ریپورٹینگ کی پیپلز پارٹی کے دور اپوزیشن میں بھی اور دور اقتدار میں بھی۔ دور اپوزیشن میں بھی مراد علی شاہ ہمیشہ شیڈو بجٹ بناتے تھے اور میڈیا کو شیر کرتے تھے اس وقت کی حکومتیں اگر کیسی سے پریشان رھتی تھی تو وہ مراد علی شاہ تھے۔ بجٹ اجلاسوں میں وہ حکومت کو ایسے پھنسا دیتے تھے کہ حکومت اجلاسوں میں کوشش کرتی تھی کہ اپوزیشن کو بائکاٹ کے لئے دباو ڈالا جاے۔
اس بجٹ اجلاس میں جو کچھ دیکھا اسے دیکھ کر حیرانی بھی ھوی اور مایوسی بھی۔ ماضی میں تمام مخالفت کے باوجود اپوزیشن اور حکومت کے ارکان ایوان میں کم آزکم اخلاقی اور جمہوری رکھ رکھاو کے ساتھ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ھوے اور خوشگوار انداز میں ملتے تھے۔ مگر یہ مناظر اب دیکھائی نہیں دیتے ۔ سرکاری بنچوں کے ارکان اپنی نشستوں پر اکر بیثھ گے اور اپوزیشن اپنی نہ مصافحہ نہ مسکراہٹ ۔ سب سے زیادہ حیرانگی پیپلز پارٹی کے نیے ارکان کے انداز سے ھونی ۔ خاص طور سے خواتین ارکان ۔ پارٹی کے سینیر ترین رھنما سید قایم علی شاہ کی ایوان میں موجودگی کو نہ تو نوٹس کیا گیا نہ احترام ۔ قائم علی شاہ کی 70 کی اسمبلی میں منتخب ھوے تھے اور وہ ملک کے آئین بنا ے والی کمیٹی کے بھی میمبر تھے۔ وہ وزیر اعلی بھی رھے وفاقی وزیر بھی اور پارٹی کے صوبائی صدر بھی ۔ پرانے ممبران تو خود جاکر قائم علی شاہ کی نشست پر جا کر ملے۔ نثار کھوڑو نے تو سندھی روایات کے مطابق احترام سے قائم علی شاہ سامنے ھاتھ بھی جوڑے مگر کیسی نئے میمبر نے شاہ صاحب کو جاکر ملنے کی کوشش کی۔ پارٹی کی خواتین ارکان جو ایک بڑی تعداد میں ایوان میں ہیں موبائل پر سیلفی لینے کو زیارہ اہمیت دی۔ امکان غالب ھے کہ ان نیے ارکان کو یہ بھی علم نہ ھوگا کہ قایم علی شاہ کی جب 70 میں اسمبلی کے میمبر تھے اس وقت آج کے 80 فیصد ارکان دنیا میں نہیں آے تھے۔ سیاسی جماعتوں میں احترام کی کمی خود پارٹی کے سیاسی قوت کو کمزور کرتی ھے۔
اب ایے اسمبلی کے حکام کی کارکردگی پر۔ ماضی میں اسمبلی سیکریٹری وزیر اعلی اور اسپیکر کے درمیان پیغام کے تبادلے کا ایک اہم ذریعہ ھوتا تھا اور رولز کے تحت آج بھی ھے مگر یہ بات نوٹ کی گی کہ اسمبلی سیکریٹری خود نشست سے اٹھنے کے بجاے اپ ے ماتحت کو بیھجا وزیر اعلی آور اسپیکر کے درمیان پیغام کے تبادلے کیے لئے ۔ ایک اور بات یہ بھی نوٹ کی گی کہ ماضی میں بجٹ دستاویز کا بیگ ہر میمبر کی نشست پر رکھ دیا جاتا تھا مگر اس مرتبہ اسمبلی کا عملہ ارکان کو بیگ دیتے وقت ان سے دستخت بھی لے دھا تھا۔ اسمبلی میں سیاسی اور انتظامی روایات کی تبدیلی کے اس نئے تجربہ کے ساتھ ایک اور تبدیلی یہ بھی دیکھی گی کہ چیف سیکریٹری اصف حیدر شاہ سب سے پہلے ایوان میں موجود تھے مگر ان کے ماتحت سیکریٹری اور افسران کی نشست 30 مینٹ تک خالی پڑی تھیں۔


















































































