پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے گارڈز کیا اسی سلوک کے مستحق ہیں ؟

پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے گارڈز کیا اسی سلوک کے مستحق ہیں ؟

یکم مئی کو دنیا بھر میں یوم مزدور منایا جا رہا تھا پاکستان میں بھی یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اس روز جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلا تو سوسائٹی کے گیٹ پر پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کا گارڈ چاکو چوبند حالت میں موجود تھا یکم مئی کو سب لوگ مزدوروں کے لیے یہ بات کر رہے تھے اور یہ شخص سیکیورٹی کمپنی کے یونی فارم میں مزدور کی حیثیت سے کھڑا تھا اور اپنی مزدوری کر رہا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ آج کے دن بھی چھٹی نہیں ملی کیا اور ٹائم ملے گا ؟ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا نہیں صاحب ۔ یہاں تو پورا ہفتے میں چھٹی نہیں ملتی تو اب کیا چھٹی ملے گی اور کیسا اوور ٹائم ۔
میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں ماہانہ کتنی رقم ملتی ہے تو وہ بولا ہماری سیکیورٹی کمپنی کے لوگ اس سوسائٹی کی انتظامیہ سے 32 ہزار روپے ماہانہ فی ادمی لیتے ہیں اور ہمیں 23 ہزار روپے ملتا ہے اور ڈیوٹی 12 گھنٹے ہے جبکہ کوئی چھٹی نہیں ہوتی ۔
میں نے اس سے پوچھا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ کم از کم 40 ہزار روپے ملنے چاہیے اور وہ بھی 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے نہیں بلکہ اٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے اور اس کے علاوہ ہفتے میں ایک چھٹی بھی ملنی چاہیے ۔
تو وہ بولا ہاں صاحب ہم نے بھی یہی سن رکھا ہے لیکن ایسا ہوتا کہاں ہے ۔یہاں تو 23 ہزار روپے ملتے ہیں اور چھٹی کوئی نہیں اور ڈیوٹی بھی 12 گھنٹے ہے ۔
میں نے پوچھا تنخواہ بڑھانے کے لیے کوئی بات ہوئی ؟
وہ بولا ہم نے لیٹر لکھ کر دیا ہوا ہے ہر مرتبہ تسلی دے دیتے ہیں لیکن کئی مہینوں سے تنخواہ میں اضافے کا کوئی خبر نہیں ۔

میں اس کی باتیں سن کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد چلا گیا ۔
امام صاحب جمعہ کے خطبے میں مزدوروں کے حقوق پر بات کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ مزدور کو اپنا کام دیانتداری سے کرنا چاہیے اور جو شخص اس سے معاہدہ کر کے مزدوری لیتا ہے اسے مزدوری بروقت ادا کر دینی چاہیے ۔ایسا نہ کرنے والے پر سخت گناہ ہوگا اور پکڑ بھی ہوگی ۔
امام صاحب نے کچھ واقعات بھی سنائے اور اس بات پر زور دیا کہ مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دینی چاہیے ۔پھر وہ ہر قسم کے کام میں حلال حرام کے معاملے پر بات کرنے لگے ۔

اس روز میں یہی سوچتا رہا کہ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے گارڈ کتنی سخت ڈیوٹی دیتے ہیں کوئی چھٹی نہیں ملتی 12 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اور ان کو اجرت بھی کیا ملتی ہے جس طرح ہماری سوسائٹی کے گارڈ نے بتایا ہے کہ اس کو 23 ہزار روپے مہینہ ملتے ہیں جبکہ کمپنی سوسائٹی کے انتظامیہ سے 32 ہزار روپے فی کس لیتی ہے تو یہ دونوں صورتوں میں کم ہے کہ وہ کہ سرکار نے تو 40 ہزار روپے کم از کم اجرت کی بات کر رکھی ہے اور ہمارے یہاں مختلف ادارے اس حوالے سے سرگرم بھی بتائے جاتے ہیں لیکن عملی صورتحال یکسر مختلف ہے ۔
ہونا تو یہی چاہیے کہ جو شخص ادارہ یا سوسائٹی کے انتظامیہ اپنے لیے سیکیورٹی گارڈ کی خدمات حاصل کریں وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کم از کم اجرت اس شخص تک پہنچے اور اس کی ڈیوٹی کے اوقات بھی اٹھ گھنٹے ہونے چاہیے 12 گھنٹے زیادتی ہے ۔اگر 12 گھنٹے کی ڈیوٹی لی جا رہی ہے تو پھر پیسے بھی 12 گھنٹے کے حساب سے دینے چاہیے یا نہیں اٹھ گھنٹے کے بعد ہر گھنٹے کا اوور ٹائم دینا چاہیے اور اگر تین شفٹوں میں اٹھ اٹھ گھنٹے کے گارڈ لے لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے لیکن کم گارڈز کے ذریعے کام چلانے کی وجہ سے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے جو ڈیوٹی دینے والے کے ساتھ سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اس پر سب کو سوچنا چاہیے ۔
اس کے علاوہ ہفتے میں ایک چھٹی تو ہر ملازم کا حق ہے وہ چاہے کسی بھی شعبے میں ہو خود سوچیں کہ اگر کوئی شخص پورا ہفتہ چھٹی نہیں کرتا اور وہ ڈیوٹی بھی اٹھ گھنٹے کی بجائے 12 گھنٹے کرتا ہے تو اس کی اپنی پرفارمنس اور اپنی صحت پر بھی اثر پڑے گا جو لوگ بھی اس طرح سیکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کر رہے ہیں انہیں خود سوچنا چاہیے کہ 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کی بجائے اٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی والا سیکیورٹی گارڈ ان کے لیے مفید ہوگا 12 گھنٹے ڈیوٹی کرنے والا 12 گھنٹے میں اتنا چاک و چوبن نہیں رہے گا جتنا اٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کرنے والا ۔چھٹی دینا بھی حق ہے اور اگر یہ کوئی حق غصب کرتا ہے تو یہ وہ گناہ ہی کرتا ہے اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے یہاں پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے گارڈ اسی سلوک کے مستحق ہیں جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے انتظامیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں گارڈز کو بیچتے ہیں وہاں ان کے لیے بہتر ڈیوٹی اوقات کی بات کریں یا ان کے لیے بہتر معاوضے کی بات کریں مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہے اس لیے مختلف کمپنیاں کم پیسوں میں بھی خدمات فراہم کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں لیکن زیادتی سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ ہو رہی ہے ۔23 ہزار روپے مہینے میں جو شخص 12 گھنٹے سات دن ڈیوٹی کرتا ہے وہ کیا کمائے گا کیا کھائے گا کیا بچائے گا اور گھر والوں کو کیا بنا کر دے سکتا ہے اس حوالے سے متعلقہ اداروں انتظامیہ اور سوسائٹی کو بھی سوچنا چاہیے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ ایسی چیزوں پر دھیان دے اور جہاں نا انصافی کسی کے ساتھ ہوتی ہے وہاں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو اور نا انصافی کے خاتمے کے لیے اواز بلند کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں توجہ دلانی چاہیے ۔