مسلم امہ کی امید، ایک باوقار ،مضبوط اور خودمختار پاکستان

ون پوائنٹ
نوید نقوی
اپنی قوت کو مضبوط رکھنا اور حریف ممالک کے مقابلے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ایک اصولی دستور ہے، جسے دنیا کا کوئی قانون بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ کسی بھی ملک کی سرحدیں اور عوام اس وقت تک محفوظ رہتے ہیں، اگر دفاع ناقابل تسخیر ہو۔ زمانہ قدیم ہو یا جدید تاریخ گواہ ہے جن قوموں نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنی جنگی تیاریاں ہر دم مکمل رکھیں، وہ جارحیت سے خود بھی محفوظ رہے اور دوستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے میں بھی کامیاب رہے۔ اگر جدید دور کی بات کی جائے تو امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، بھارت، ایران، اسرائیل، جرمنی، ترکیہ، جاپان، انڈونیشیا اور سعودی عرب وغیرہ اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور کثیر رقوم دفاع کے لیے مختص کر رہے ہیں۔ پاکستان جس خطے میں موجود ہے، یہاں بھارت جیسا شاطر ، ہٹ دھرم اور افغان طالبان جیسے نمک حرام دشمن موجود ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم میں ہر آن اضافہ ہو رہا ہے اور کشمیری عوام امید بھری نظروں سے پاکستان کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کی وجہ سے طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ عرب عوام ہوں یا ایرانی، پاکستان کی مضبوط فوجی طاقت اور نیو کلیئر پاور کی وجہ سے امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو ان چیلنجز سے نمٹنے اور بھارت جیسے عیار دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے مجبورا ً اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اخراجات کو بڑھانا پڑ رہا ہے۔ یہاں ایک بات میں کرتا چلوں کہ پاکستان روز اول سے ہی بھارت کو کھٹکتا رہا ہے اور بھارت اس ضمن میں مختلف حربوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ آج بھی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مٹھی بھر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی و عسکری مدد سے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بشمول پولیس اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا رہے ہیں۔ ہمیں یہ اطمینان ہے کہ کم ظرف دشمن کو ہر میدان میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ اگر ماضی میں ہوئے تمام معرکوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ 1965 کی جنگ ہو یا کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر لڑی جانے والی خون ریز لڑائیاں یا پھر گزشتہ سال مئی میں ہونے والا معرکۂ حق بنیان مرصوص، بھارت نے ہمیشہ رات کی تاریکی میں حملہ کیا لیکن اسے ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی۔ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جنگی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے یکطرفہ فتح حاصل کی۔ دنیا کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورتحال میں وہی ممالک اپنی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنا پاتے ہیں جو دفاعی لحاظ سے مضبوط ہوں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خا ک میں ملا سکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
یاد رہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی مملکت ہے، جو برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی۔ قیامِ پاکستان کا مقصد ایسا ملک قائم کرنا تھا جہاں مسلمان اپنی دینی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔ آج بھی دنیا بھر کے بہت سے مسلمان پاکستان کو امید، وقار اور خودمختاری کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مسلم اُمہ اس وقت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں جنگ و جدل ہے، کہیں سیاسی عدم استحکام، کہیں معاشی مشکلات اور کہیں بیرونی مداخلت نے مسلم ممالک کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔
پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایٹمی صلاحیت، پیشہ ور اور جدید جنگی ٹیکنالوجی سے آراستہ مسلح افواج، نوجوان اور پرعزم آبادی، زرعی وسائل، معدنی ذخائر اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع، وہ خصوصیات ہیں جو اسے خطے میں منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ اگر ان وسائل کو دیانت داری، منصوبہ بندی اور قومی یک جہتی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی، استحکام اور خودانحصاری کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ قومی خودمختاری صرف مضبوط دفاع سے ہی نہیں بلکہ مستحکم معیشت، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، انصاف کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے بھی وابستہ ہے۔ جب ایک قوم اپنے اداروں کو مضبوط، اساتذہ کو عزت، نوجوانوں کو بااختیار اور میرٹ کو فروغ دیتی ہے تو وہ دنیا میں عزت و وقار حاصل کرتی ہے۔ پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی طاقت میں اضافہ کرنا ہوگا۔
مسلم اُمہ کو بھی باہمی اتحاد، تعاون اور مشترکہ مفادات کے فروغ کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، امن، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے تو یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم دنیا کے درمیان مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اختلافات کے بجائے اتحاد، نفرت کے بجائے بھائی چارے اور تصادم کے بجائے مذاکرات کی راہ ہی امت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
آج جب مودی اور افغان طالبان جیسے کم ظرف دشمن مشرقی و مغربی سرحدوں پر موجود ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ذاتی، سیاسی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی اور استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ایک مضبوط معیشت، اعلیٰ اخلاق، جدید تعلیم، قومی اتحاد اور قانون کی پاسداری ہی پاکستان کو حقیقی معنوں میں باوقار اور خودمختار ریاست بنا سکتے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی صلاحیتوں، کردار اور محنت کے ذریعے پاکستان کو ایسا ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جو امن، ترقی، انصاف اور خودمختاری کی علامت ہو۔ ایک مضبوط پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے خوشحالی کی ضمانت ہے بلکہ مسلم اُمہ کے لیے بھی امید، استحکام اور وقار کی علامت بن سکتا ہے۔