قدرتی آفات…..زلزلے…..سیلاب…..تودے گرنا…..سمندری طوفان (سائیکلون)…..سونامی…..شدید سمندری طوفان (ہریکین)…..ہوا کے بگولے…… ہیٹ ویو…اپ ڈیٹس اور خصوصی کوریج

قدرتی آفات…..زلزلے…..سیلاب…..تودے گرنا…..سمندری طوفان (سائیکلون)…..سونامی…..شدید سمندری طوفان (ہریکین)…..ہوا کے بگولے………اپ ڈیٹس اور خصوصی کوریج


=====================
اپر دیر، آسمانی بجلی گرنے سے بھگدڑ ، 28 طالبات زخمی
اپر دیر میں مدرسے کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے بھگدڑ مچنے کے واقعے میں 28 طالبات زخمی ہوگئیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ واڑی کے علاقے اصوڑئی درہ میں پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والی تمام طالبات کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
=================

اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب کے کئی اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے
دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا مرکز ہندوکشن ریجن افغانستان تھا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 174 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ زلزلے کے جھٹکے سوات، شانگلا اور بونیر میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے ضلع لوئر دیر اور گردونواح، پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔
==================

آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچوں کی جان چلی گئی

خیبر کے دور افتادہ علاقے بازار ذخہ خیل، نیکے شان خیل میں آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں 2 بچے جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق آسمانی بجلی زالیب گل نامی شخص کے گھر پر گری، جس کے باعث دو بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔

جاں بحق ہونے والوں میں عنایت اللہ ولد زالب تل، مخیب ولد شاہی شامل ہیں، زخمیوں میں ارشد ولد یاسین و دیگر شامل ہیں۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک ہے، جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا چھا گئی جبکہ مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

=================
چلاس میں بارشیں اور سیلاب: مکانات، فصلیں، رابطہ پل، گاڑیاں بہہ گئیں

چلاس کی وادی تھور میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب نے تباہی مچا دی۔ مکانات، باغات، فصلیں، رابطہ پل اور گاڑیاں بہہ گئیں۔

سیلاب کے باعث وادی تھور کی متعدد سڑکیں بند ہوگئیں، آبادی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، امدادی کاموں اور ریلیف آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسکردو میں بُرگے نالے میں سیلابی صورتِ حال سے قریبی گاؤں متاثر ہوگیا۔ پانی گھروں، کھیتوں اور قبرستان میں داخل ہوگیا۔ متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

24 گھنٹوں کے دوران نیا موسمیاتی نظام ملک کے مختلف حصوں پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ کا خطرہ ہے، الرٹ جاری کردیا گیا۔
======================

اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مخلتف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی ریجن میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

پنجاب میں لاہور، میانوالی شہر اور ملحقہ علاقوں، چکوال شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیےگئے

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں شانگلہ، بونیر، مردان ، چارسدہ ، سوات، صوابی،کوہاٹ،کرک، ملاکنڈ، باجوڑ، ہنگو ،لوئر دیر، جنوبی وزیرستان لوئر اور اطراف کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیےگئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں وادی نیلم جھٹکے اور مظفرآباد سمیت اطراف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان میں دیامر شہر اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیےگئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 5.9 اور زلزلےکی گہرائی 178 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔

ضلع موسیٰ خیل میں زلزلے کی صورتحال سے متعلق رپورٹ

تاریخ: 27 جون 2026

ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق 26 اور 27 جون 2026 کو تحصیل کنگری میں آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے۔

26 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے موضع چاپ میں تقریباً 80 تا 90 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے، جبکہ 06 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

بعد ازاں 27 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے تحصیل کنگری میں تقریباً 25 تا 35 مکانات متاثر ہوئے، جبکہ 10 تا 13 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

ابتدائی مشترکہ جائزے کے مطابق دونوں زلزلوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 110 تا 125 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 18 تا 19 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ زخمیوں اور متاثرہ آبادی کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں متاثرہ خاندانوں میں خیمے، بستر، باورچی خانے کا سامان، سولر لائٹس، گیس سلنڈر، فرشی چٹائیاں، مچھر دانیاں اور دیگر ضروری غیر غذائی امدادی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔

پی ای او سی، پی ڈی ایم اے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ نقصانات کے مکمل تخمینے کے لیے تفصیلی سروے جاری ہے تاکہ امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
**

جہانزیب خان غرزئی
ریلیف کمشنر / ڈائریکٹر جنرل
پی ڈی ایم اے بلوچستان
=================
بلوچستان کے علاقے کوہلو میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.3 اور گہرائی 15کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز کوہلو سے 40کلومیٹر شمال میں تھا۔

زلزلے کے باعث فی الحال کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

واضح رہے کہ کوہلو میں گزشتہ روز بھی 3 مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کے روز کوہلو میں صبح 10 بجکر 25 منٹ پر پہلا زلزلہ اور دوسرا 10 بجکر 58 منٹ پر آیا۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جمعہ کی شام 4 بجکر 49 منٹ پر تیسری مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تیسرے زلزلے کی شدت 5.1 اور گہرائی 17 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ ژوب، بارکھان اور راکھنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
=================

درجہ حرارت میں اضافہ، بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری
پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری کردیا۔

پی ڈی ایم اے نے بالائی اضلاع میں درجہ حرات بڑھنے اور شدید گرم موسم کے باعث تیزی سے گلیشیرز کے پگھلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق اپر ولوئر چترال، سوات، اپردیر،کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کیلئے ہدایات جاری کردی ہیں۔

پی ڈی ایم اےنے بتایا کہ حساس گلیشیائی علاقوں میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور مسلسل نگرانی کی ہدایت کی ہے جب کہ ریسکیو اداروں، مشینری اور ہنگامی عملے کو ہر وقت تیار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
===================

برطانیہ اور فرانس میں تباہی مچانے کے بعد ہیٹ ویو کا اگلا شکار کونسے ممالک ہونگے؟
شدید گرمی کے دوران درجنوں افراد ہلاک، ٹرین سروس، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ سرگرمیاں بھی متاثر

مغربی یورپ میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی شدید گرمی کی لہر اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث جرمنی اور پولینڈ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں جون کے دوران ریکارڈ گرمی پڑی، جبکہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ ہیٹ ویو مزید ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے مطابق فرانس کی سرحد کے قریب شہر ساربرکن میں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، تاہم یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں۔

فرانس میں اس شدید گرمی کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت نے ٹرین سروس، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی مقامات پر اسکول بند، تقریبات ملتوی اور الکحل پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

ماہر موسمیات کارسٹن برانڈٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر گرمی اپنی شدت کی انتہا کو پہنچ سکتی ہے، اور جرمنی کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔

شدید گرمی کے باعث جرمنی میں آئرن مین یورپی چیمپئن شپ کے روٹس کم کر دیے گئے، جبکہ ریلوے کمپنی ڈوئچے بان نے مسافروں کو بغیر فیس ٹکٹ منسوخ کرنے کی سہولت دے دی ہے۔ حکام کے مطابق شدید دھوپ اور ممکنہ طوفانوں کے باعث ریلوے انفراسٹرکچر کو نقصان کا خدشہ ہے۔

یورپ بھر میں ثقافتی مقامات بند، زراعت متاثر اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہیٹ ویو “اومیگا بلاک” نامی موسمی پیٹرن کے باعث پیدا ہوئی، جو گرم ہوا کو طویل عرصے تک ایک ہی خطے میں روکے رکھتا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق یہ گرمی کی لہر مہینے کے آخر تک وسطی یورپ اور بلقان تک پھیل سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید گرمی تقریباً ناممکن تھی، جبکہ موجودہ حالات میں رات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لندن میں ہونے والے کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران بھی شدید گرمی کے اثرات نمایاں رہے، جہاں بعض تقریبات کو گرمی کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔ برطانوی حکام نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔
=======================


وینزویلا میں زلزلے کےباعث ہلاکتوں کی تعداد 920 ہوگئی،4300 سے زائد افراد زخمی
کراکس:وینزویلا میں شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 920 ہوگئی ہے، جبکہ 4 ہزار 300 افراد زخمی ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں ریسکیو اہلکار ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔

عالمی برادری نے وینزویلا کی مدد کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایل سلواڈور، سوئٹزرلینڈ اور میکسیکو سمیت دیگر ممالک کی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔امریکہ نے دو جنگی بحری جہاز، ٹرانسپورٹ طیارے، ہیلی کاپٹر اور 150 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برازیل نے بھی ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

چین کے صدر شی چن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ وینزویلا میں ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے زلزلہ متاثرین کے لیے ہنگامی طور پر ایک لاکھ یورو کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں