
معروف قوال امجد صابری کو اپنے مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت گئے
کراچی: معروف قوال امجد صابری کو اپنے مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت گئے، تاہم فنِ قوالی کے فروغ کے لیے ان کی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔
خوبصورت آواز اور منفرد اندازِ قوالی کے باعث دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے امجد صابری 23 دسمبر 1976 کو کراچی میں معروف قوال غلام فرید صابری کے گھر پیدا ہوئے۔ قوالی کا فن انہیں اپنے خاندانی ورثے میں ملا۔
امجد صابری نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی مشہور قوالی ’’تاجدارِ حرم‘‘ سے کیا، جس نے انہیں بے پناہ مقبولیت دلائی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے لافانی کلام ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ کو قوالی کے منفرد انداز میں پیش کرکے شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔
امجد صابری نے دنیا کے سترہ سے زائد ممالک میں فنِ قوالی کو جدید انداز میں متعارف کرایا اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
22 جون 2016 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں فائرنگ کے واقعے میں امجد صابری شہید کر دیے گئے۔ برصغیر میں فنِ قوالی کو عروج دینے میں صابری خاندان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جبکہ شہید امجد صابری کا نام ایک روشن ستارے کی مانند ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔
=================

**امجد صابری کے قاتل کون تھے؟ تحقیقات، گرفتاریاں اور عدالتی کارروائی — اب تک کیا معلوم ہے؟**
کراچی میں 22 جون 2016 کو معروف قوال امجد صابری کو لیاقت آباد میں دن دہاڑے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا اور اسے مذہبی بنیادوں پر کیا گیا قتل قرار دیا۔ ([Dawn][1])
تحقیقات آگے بڑھیں تو سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے مختلف کارروائیوں میں متعدد مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق حملے میں دو مسلح افراد، آصف عرف کیپری (Asim alias Capri) اور اسحاق عرف بوبی (Ishaq alias Bobby)، براہِ راست فائرنگ میں ملوث تھے جبکہ ان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے بتایا گیا۔ ([Dawn][2])
اپریل 2018 میں فوجی عدالت نے اسحاق عرف بوبی اور آصف عرف کیپری سمیت متعدد دہشت گردوں کو امجد صابری کے قتل سمیت مختلف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سنائی، جس کی بعد ازاں سرکاری طور پر بھی تصدیق کی گئی۔ اس عدالتی فیصلے کو اس ہائی پروفائل قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ([Dawn][2])
اگرچہ اس مقدمے میں کئی ملزمان گرفتار ہوئے اور سزائیں بھی سنائی گئیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بعد کے برسوں میں بھی سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کی تلاش میں کارروائیاں کرتے رہے۔ اکتوبر 2023 میں سی ٹی ڈی نے ایک ایسے مرکزی مشتبہ ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا جس پر الزام تھا کہ اس نے حملے کی منصوبہ بندی اور شوٹروں کی معاونت کی تھی۔ حکام کے مطابق وہ کئی برس سے مفرور تھا۔ ([The News International][3])
امجد صابری کا قتل آج بھی پاکستان کی تاریخ کے سب سے المناک ٹارگٹ کلنگ واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ریاستی اداروں نے متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی، تاہم اس کیس کے بعض پہلو، خصوصاً مکمل منصوبہ بندی اور تمام سہولت کاروں کے کردار سے متعلق سوالات مختلف حلقوں میں زیر بحث رہے ہیں۔ اس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ امجد صابری کی شہادت نے شدت پسندی کے خلاف قومی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا اور ان کی فنی و روحانی خدمات آج بھی کروڑوں افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ([thediplomat.com][4])
[1]: https://www.dawn.com/news/1266514?utm_source=chatgpt.com “Famed qawwal Amjad Sabri gunned down in Karachi”
[2]: https://www.dawn.com/news/1399252?utm_source=chatgpt.com “Two LJ men sentenced to death for killing Amjad Sabri – Dawn”
[3]: https://www.thenews.com.pk/latest/1122352-ctd-arrests-main-suspect-involved-in-amjad-sabris-murder-after-7-years?utm_source=chatgpt.com “Main suspect involved in Amjad Sabri’s murder arrested”
[4]: https://thediplomat.com/2017/08/the-murder-of-amjad-sabri/?utm_source=chatgpt.com “The Murder of Amjad Sabri – The Diplomat”


















































































