کراچی مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کا شہر ہے، مگر اسی شہر میں ایک ایسی برادری بھی آباد ہے جس کی تاریخ برصغیر کے تقریباً ڈھائی سو سال پرانے ماضی سے جا ملتی ہے۔ یہ گووا نژاد پاکستانیوں کی برادری ہے، جو صدیوں سے کراچی کا حصہ ہونے کے باوجود آج بھی اپنی الگ شناخت، روایات اور ثقافتی ورثے کو سنبھالے ہوئے ہے۔
گووا سے تعلق رکھنے والے یہ خاندان وقت کے ساتھ نسل در نسل کراچی میں آباد رہے، تاہم ان کی تہذیبی پہچان آج بھی نمایاں ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں ہجرت کے باوجود اس برادری کا شہر قائد سے تعلق کمزور نہیں پڑا۔
تاریخی روایات کے مطابق 18ویں اور 19ویں صدی میں گووا سے تعلق رکھنے والے افراد روزگار کے مواقع کی تلاش میں سمندری راستے سے کراچی پہنچے۔ اس دور میں کراچی ایک اہم بندرگاہی شہر کے طور پر ابھر رہا تھا، چنانچہ گووا سے آنے والے افراد نے بندرگاہ، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن، تدریس، کلبوں اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں خدمات انجام دے کر شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔
گووا کے باشندے عموماً کونکنی زبان بولتے ہیں۔ انہیں کونکنی میں “گوئنکار” اور پرتگالی زبان میں “گوئیس” کہا جاتا ہے۔ یہ برادری بھارتی، دراوڑی اور پرتگالی ثقافتوں کے امتزاج کی ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے، جس کی جھلک ان کے رہن سہن، موسیقی، کھانوں اور سماجی روایات میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
1960 کی دہائی میں کراچی میں گووا نژاد افراد کی تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان بتائی جاتی تھی، تاہم وقت کے ساتھ ان میں سے بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل ہوگئی۔ اس کے باوجود آج بھی کراچی میں اس برادری کی آبادی 5 سے 10 ہزار کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔
کراچی کے علاقے صدر اور اس کے اطراف آج بھی ایسی تاریخی عمارتیں، مذہبی مراکز اور سماجی ادارے موجود ہیں جو گووا برادری کی طویل تاریخ اور ورثے کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گووا نژاد پاکستانی برادری کو کراچی کی کثیرالثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والی یہ برادری آج بھی کراچی کے متنوع سماجی اور ثقافتی منظرنامے میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔
رپورٹ صبیح سالک



















































































