ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری کی بے پناہ مقبولیت کی کہانی ۔۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری کی بے پناہ مقبولیت کی کہانی ۔۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

منہاج القرآن کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے دنیا بھر میں مذہبی تعلیمات اور خدمات کے حوالے سے مثالی اور منفرد مقام حاصل کیا ۔

انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور پھر پاکستان کی سیاست میں اپنی شناخت پیدا کی ۔طاقت کے ایوانوں اور حکمرانوں کو کھل کر للکارا پھر تاریخی احتجاج مارچ کیا اور دھرنے بھی دیے ۔

ان کے حامی انہیں سیاست میں سرگرم اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں

جبکہ ان کے سیاسی مخالفین ان پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے سمیت غیر ملکی طاقتوں کے مفادات پورے کرنے کا الزام لگاتے ہیں ۔
اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ

ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری کی کامیاب زندگی ایک علمی، روحانی اور سیاسی سفر کا حسین امتزاج ہے۔ ۱۹۵۱ء میں جھنگ، پنجاب میں پیدا ہونے والے طاہر القادری نے ابتدائی تعلیم ایک کیتھولک مشن اسکول سے حاصل کی اور پھر محض بارہ سال کی عمر میں مدینہ منورہ جا کر علوم اسلامیہ کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور پانچ سو سے زائد سندوں اور اجازات کے حامل ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے وہ یونیورسٹی کی تاریخ کے سب سے کم عمر پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے آئینی قانون پڑھایا۔

طاہر القادری کا سب سے بڑا کارنامہ ۱۹۸۰ء میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کا قیام ہے، جو آج دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں ایک بڑی اسلامی تحریک کی صورت میں کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا مقصد اعتدال پسند اسلام کا فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی، اور تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کی اصلاح ہے۔ انہوں نے لاہور میں منہاج یونیورسٹی اور منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن جیسے فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی، جو تعلیم، صحت اور آفات میں امداد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے علمی کام کا دائرہ وسیع ہے اور انہوں نے ایک ہزار سے زائد کتب تصنیف کی ہیں، جن میں قرآن کریم کا ترجمہ “ارشاد القرآن” اور انگریزی میں “دی مینی فسٹ قرآن” شامل ہیں۔

ان کی علمی خدمات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور وہ ۲۰۰۹ء سے مسلسل “دی ۵۰۰ موزٹ انفلوئنشل مسلمز” کی فہرست میں شامل ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ لیکن ان کی سب سے نمایاں اور متنازعہ خدمات میں سے ایک ۲۰۱۰ء میں دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتویٰ ہے، جس میں انہوں نے خودکش حملوں اور دہشت گردی کو اسلام میں ناجائز قرار دیتے ہوئے سختی سے رد کیا۔ اس سولہ سو صفحات پر مشتمل فتویٰ کو امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے اہم قرار دیا اور اسے اسلام کو دہشت گردوں سے واپس لینے کی کوشش قرار دیا۔

اعلیٰ تعلیم اور عالمی شہرت کے باوجود طاہر القادری نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور ۱۹۸۹ء میں پاکستان عوامی تحریک کی بنیاد رکھی۔ وہ ۱۹۹۰ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن ۲۰۰۴ء میں صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو گئے اور کینیڈا منتقل ہو گئے۔ وہ ۲۰۱۲ء میں دوبارہ پاکستان واپس آئے اور لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی “لانگ مارچ” کی قیادت کی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور انہوں نے حکومت سے انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ۲۰۱۴ء میں ماڈل ٹاؤن واقعے کے بعد انہوں نے “انقلاب مارچ” کا اہتمام کیا، جس میں ان کا ساتھ عمران خان کی تحریک انصاف نے بھی دیا۔

اپنی سترہ ہزار سے زائد لیکچرز اور چھ ہزار سے زیادہ خطابات کے ذریعے طاہر القادری نے دنیا بھر میں امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام پھیلایا۔ انہوں نے مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ اور امریکہ میں نوجوانوں کے لیے انسداد دہشت گردی کیمپوں کا انعقاد کیا اور عالمی اقتصادی فورم ڈیوس میں بطور مقرر شرکت کی۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کو اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل سے خصوصی مشاورتی درجہ بھی حاصل ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ان کی پانچ نئی کتب کی تقریب رونمائی ہوئی، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے ان کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ آج ۷۵ سال کی عمر میں بھی وہ اپنی علمی اور اصلاحی خدمات میں مصروف ہیں اور ان کا سفر ایک عظیم الشان کارنامہ ہے، جس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔