سید یوسف رضا گیلانی ۔۔۔۔سیاست میں نہیں جس کا کوئی ثانی وہ ڈرا نہ ٹوٹا نہ بکا ۔۔۔۔۔وفا کا پیکر جرات اور ہمت کی نشانی یہی ہے اس کی اصل کہانی

سید یوسف رضا گیلانی ۔۔۔۔سیاست میں نہیں جس کا کوئی ثانی

وہ ڈرا نہ ٹوٹا نہ بکا ۔۔۔۔۔وفا کا پیکر جرات اور ہمت کی نشانی


یہی ہے اس کی اصل کہانی

پاکستانی سیاست میں ایک دیو مالائی کردار ، ایک سحر انگیز شخصیت

سیاسی سفر میں پیش آئے اہم واقعات پر مبنی خصوصی رپورٹ

یوسف رضا گیلانی کی سیاسی زندگی کا سفر ایک منفرد اور کامیاب سفر رہا ہے۔ ان کا تعلق ملتان کے ایک معزز سیاسی گھرانے سے ہے، جہاں ان کے والد مخدوم عالمدار حسین گیلانی قرارداد پاکستان پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھے . 1978 میں سیاست میں قدم رکھنے والے گیلانی نے مسلم لیگ سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، لیکن بعد ازاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا سیاسی گھر بنا لیا اور پارٹی کے وفادار رہنما کے طور پر ابھرے .

ان کے سفر کا ایک اہم باب جیل کی سیاہ راتیں تھیں۔ 2001 میں پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران، بدعنوانی کے الزامات میں انہیں گرفتار کر کے عدالہ جیل میں تقریباً چھ سال تک قید رکھا گیا . یہ قید ان کی سیاسی وفاداری کا امتحان تھی، لیکن انہوں نے پارٹی اور جمہوری اصولوں سے دستبرداری کے لیے پیش کی گئی پیشکشوں کو ٹھکرا دیا اور اپنی رہائی تک صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا . یہ قید دراصل ان کے عزم کو نکھارنے کا باعث بنی اور انہیں عوامی ہمدردی کا مرکز بنا دیا۔

کامیابی کا سب سے بڑا سنگ میل 2008 میں آیا، جب پیپلز پارٹی نے انہیں ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا . ایک ایسے وقت میں جب ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، گیلانی نے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی صدر پرویز مشرف کے خلاف تحریک مواخذہ چلانا تھی، جس کے نتیجے میں مشرف کو استعفیٰ دینا پڑا اور ملک میں پارلیمانی بالادستی قائم ہوئی . انہوں نے 2009 کے عدالتی بحران کو بھی حل کیا اور وفاقی حکومت کو مستحکم کیا، جس کی وجہ سے وہ پاکستان کی تاریخ کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزرائے اعظم میں شمار ہوتے ہیں .

2012 میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کے باوجود، گیلانی نے اپنا سیاسی سفر جاری رکھا اور ثابت کیا کہ وہ ایک لچکدار سیاست دان ہیں . انہوں نے 2021 میں سینیٹ کا رکن منتخب ہو کر اپنی واپسی کا اعلان کیا اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنے کردار کو بخوبی نبھایا . ان کا سیاسی سفر 9 اپریل 2024 کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہونے کے ساتھ ایک نئے عروج پر پہنچا، جہاں انہوں نے پارلیمانی روایات کو فروغ دینے اور اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے تجربے کو بروئے کار لایا .

اب بھی وہ ایک قائد کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ انہیں گلوبل مسلم بزنس فورم کا اعزازی سرپرست مقرر کیا گیا اور وہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے بانی صدر بھی ہیں . گیلانی کا سیاسی سفر ایک ایسی کہانی ہے جو جدوجہد، وفاداری اور پاکستان کی جمہوریت کے لیے خدمات کے جذبے سے بھری ہوئی ہے، جس نے انہیں سیاسی منظر نامے پر ایک مستقل اور کامیاب شخصیت بنا دیا ہے۔