شاہ محمود قریشی ۔۔۔۔جانے کس جرم کی پائی ہے سزا ،یاد نہیں ؟

شاہ محمود قریشی ۔۔۔۔جانے کس جرم کی پائی ہے سزا ،یاد نہیں ؟
ان کے حامی انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیتے ہیں سیاسی کارکنوں نے ایک سحر انگیز شخصیت مانتے ہیں ۔ مخالفین ان پر سائفر کے حوالے سے الزامات لگاتے ہیں ۔


سیاسی نشیب و فراز اصولوں اور وفاداری کی کہانی ۔۔۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

خصوصی رپورٹ

coming soon

شاہ محمود قریشی کا سیاسی سفر پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد اور طویل داستان ہے۔ ایک معزز سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے قریشی نے 1985 میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر رہے . انہوں نے 1993 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت اختیار کی اور بینظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور پارلیمان رہے . قریشی نے 2008 میں پہلی بار پاکستان کے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا، لیکن 2011 میں ریمنڈ ڈیوس معاملے کے بعد انہیں یہ وزارت چھوڑنی پڑی .

نومبر 2011 میں قریشی نے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے نائب چیئرمین مقرر ہوئے . 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد وہ دوبارہ وزیر خارجہ بنے . اس دور میں انہوں نے ’وزن خارجہ‘ کے نام سے ایک نئی خارجہ پالیسی کا آغاز کیا، جس کا محور جغرافیائی سیاست کی بجائے جغرافیائی معاشیات اور افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنا تھا . قریشی ایک تجربہ کار سفارت کار کے طور پر پہچانے جاتے تھے اور انہیں پارٹی کے ممکنہ قائد کے طور پر دیکھا جاتا تھا .

تاہم، 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے فسادات نے ان کی سیاسی زندگی کا رخ بدل دیا . ان پر فسادات میں ملوث ہونے اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے اور متعدد مقدمات میں انہیں نامزد کیا گیا . اسی دوران، خفیہ کیس (سائفر کیس) میں سزا کے باعث انہیں 10 سال قید اور پانچ سال کے لیے الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیا گیا . اگرچہ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ان کی سزا کالعدم قرار دے دی، لیکن مئی 9 کے دیگر مقدمات میں وہ بری ہوئے تو کچھ میں انہیں مجرم ٹھہرایا گیا .

شاہ محمود قریشی کا سفر وزیر خارجہ کے اعلیٰ عہدے سے جیل تک کا سفر پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک وہ پاکستان کی سفارت کاری کا چہرہ اور پی ٹی آئی کے ایک اہم ستون رہے، لیکن مئی 9 کے واقعات نے ان کی سیاسی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا . مختلف عدالتی فیصلوں کے باوجود، ان کی قانونی مشکلات کا سلسلہ جاری ہے اور ان کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہے . اس سفر نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا ہے .