
راجہ پرویز اشرف
پاکستان کے سابق وزیراعظم کی کہانی
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

ایک منفرد بے مثال شخصیت کے چھپے راز منظر عام پر



خصوصی رپورٹ
راجہ پرویز اشرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر اور تجربہ کار رہنما ہیں جن کا تعلق راولپنڈی کے ضلع گوجرخان سے ہے۔ وہ 26 دسمبر 1950 کو سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے جو زراعت سے وابستہ تھا . انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں سیاست میں آنے سے پہلے کاروبار اور زراعت کے شعبوں میں تجربہ حاصل کیا . راجہ صاحب کا سیاسی سفر 1988 میں شروع ہوا اور وہ 1990، 1993 اور 1997 میں ہونے والے الیکشن میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن انہوں نے 2002 اور پھر 2008 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی . ان کے چچا نے ایوب خان کی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جس سے ان کے خاندان کا سیاسی پس منظر ظاہر ہوتا ہے .
راجہ پرویز اشرف کا سیاسی کیرئیر کئی اہم عہدوں پر مشتمل ہے۔ وہ 2008 سے 2011 تک پانی اور بجلی کے وزیر رہے، اس کے بعد 2012 سے 2013 تک پاکستان کے انیسویں وزیراعظم منتخب ہوئے . ان کا وزیراعظم بننا اس وقت ممکن ہوا جب یوسف رضا گیلانی کو عدالتِ عظمیٰ نے نااہل قرار دے دیا تھا . ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک جمہوری حکومت کا اپنی مدت پوری کرنے کا پہلا واقعہ تھا . اس کے علاوہ، وہ اپریل 2022 سے مارچ 2024 تک قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے .
وزیرِ پانی و بجلی اور وزیراعظم کے طور پر راجہ پرویز اشرف کو بجلی کے بحران اور گردشی قرضے جیسے چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہوں نے بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے کئی منصوبوں پر کام کیا، جن میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے . تاہم، ان کے دورِ وزارت میں رینٹل پاور پلانٹس کے معاملے پر تنقید بھی ہوئی اور ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے، جنہیں انہوں نے ہمیشہ مسترد کیا . عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے، لیکن وہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے .
پیپلز پارٹی کے اندر راجہ پرویز اشرف کو ایک وفادار اور مضبوط رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے . وہ پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سیکرٹری جنرل جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے . فی الحال وہ پنجاب کے صوبائی صدر ہیں اور انہیں پارٹی کو صوبے میں دوبارہ منظم اور مضبوط کرنے کا ذمہ سونپا گیا ہے . پارٹی قیادت تنظیم نو کے عمل سے مطمئن ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نئے عہدیداروں کا تعلق عوامی اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سے ہے، جس سے پارٹی میں نئی توانائی آئے گی .
راجہ پرویز اشرف نے حالیہ دنوں میں اپنے سیاسی بیانات میں اتحادی حکومت کے ساتھ تعاون اور مفاہمت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد میں کیا گیا تھا . انہوں نے کسانوں کے مسائل، مہنگائی، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے جیسے عوامی مسائل کو اٹھایا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مسائل پر توجہ دی جائے . وہ مذاکرات کو ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں اور سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ملک کے استحکام کے لیے بیٹھ کر بات چیت کریں .
اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمات کے علاوہ، راجہ پرویز اشرف نے قومی اور بین الاقوامی فورموں پر کشمیر کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے اور کشمیری عوام سے پیپلز پارٹی کے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھا ہے . وہ ایک کامیاب سیاستدان، زراعت پیشہ اور کاروباری شخصیت ہیں جو مختلف زبانوں بشمول اردو، پنجابی اور سندھی میں روانی رکھتے ہیں . ان کی شخصیت اور سیاسی بصیرت انہیں پاکستان کی سیاست میں ایک اہم حیثیت عطا کرتی ہے، اور وہ آنے والے وقتوں میں بھی پارٹی اور ملک کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔



















































































