
ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کا کیا ہوگا ؟
پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کے ابھرنے ڈوبنے اور پاکستان چھوڑ جانے کی کہانی ۔۔۔۔ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی


خصوصی رپورٹ
—
## عروج و زوال ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے موجودہ چیلنجز
ملک ریاض کا شمار پاکستان کے ان چند کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک عام ٹھیکیدار سے ملک کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ ایمپائر کے مالک بننے تک کا سفر طے کیا۔ ان کا عروج ریاستی سرپرستی اور فوجی قیادت سے قریبی تعلقات کا مرہون منت تھا، جس نے انہیں لاہور کے نواحی علاقوں میں وسیع زمینوں تک رسائی اور بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبے تعمیر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں بحریہ ٹاؤن ایک جدید ترین رہائشی معیار، عالیشان سہولیات اور سیکیورٹی کا مترادف بن گیا، جو متوسط اور اعلیٰ طبقے کے لیے ایک پرکشش خواب کی تعبیر تھا۔
بحریہ ٹاؤن کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ملک ریاض کا حکمران طبقے کے ساتھ گہرا تعلق تھا، لیکن یہی تعلق ان کے زوال کا سبب بھی بنا۔ ۲۰۱۸ میں سیاست اور فوجی قیادت سے دوری اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے ان کے کاروباری امپائر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات میں تلخی، بینکنگ فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات نے نہ صرف ملک ریاض کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مستقبل کے منصوبوں کو بھی شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وہ ملک سے باہر چلے گئے اور ان کا کاروباری سامراج منتشر ہو گیا۔
آج بحریہ ٹاؤن کو کئی سنگین چیلنجز درپیش ہیں جو اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ انویسٹمنٹ اور بلڈرز کے اعتماد کی بحالی ہے، کیونکہ کئی پراجیکٹس ادھورے پڑے ہیں اور خریداروں کو اپنے پیسوں کی واپسی یا مکانات کی ڈلیوری کا یقین نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستی اداروں کی نگرانی میں اضافہ، قانونی کارروائیاں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت کی کمی اس منصوبے کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔
مزید برآں، موجودہ معاشی بحران، مہنگائی اور ڈالر کی قدر میں اضافے نے عوام کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے بحریہ ٹاؤن کے نئے فیزز اور کمرشل پلاٹس کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سیکیورٹی اور مینٹیننس کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی رہائشیوں اور انتظامیہ کے درمیان تناؤ پیدا کر دیا ہے، جبکہ ملک ریاض کے جانے کے بعد کمپنی کی گورننس اور اسٹریٹجک سمت بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ اگر ان چیلنجز کا حل نہ نکالا گیا تو بحریہ ٹاؤن ایک زمانے کی شاندار عمارت اپنی چمک کھو سکتی ہے۔
احتساب بیورو (NAB) نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف کئی مقدمات کا باقاعدہ طور پر نوٹس لیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ نیب کے مطابق، ملک ریاض پر مبینہ طور پر بینکوں سے قرضے حاصل کرنے کے دوران دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی زمینی حصول کے الزامات ہیں۔ نیب نے بحریہ ٹاؤن کے متعدد فیزز اور بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کے ریکارڈز کو بھی تحویل میں لیا، جس سے نہ صرف کمپنی کے روزمرہ کے کاروبار پر منفی اثر پڑا بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مزید متزلزل ہو گیا۔ اگرچہ نیب کی کارروائیوں کو شفافیت اور احتساب کے حوالے سے سراہا گیا، لیکن ان اقدامات نے بحریہ ٹاؤن کے زیر التواء منصوبوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا اور لاکھوں خریداروں کی مستقبل کی امیدوں پر گہرے داغ چھوڑ دیئے۔
اس سب کے باوجود ملک ریاض خود پاکستان میں موجود نہیں ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں قیام پذیر ہیں۔ ان کا پاکستان سے باہر رہنا ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاکہ وہ نیب اور دیگر ریاستی اداروں کی قانونی کارروائیوں، گرفتاری کے وارنٹس اور عدالتی سماعتوں سے بچ سکیں۔ اگرچہ ملک ریاض نے اپنے بیرونی قیام کو “علاج اور خاندانی مصروفیات” قرار دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو بے قیادت کر دیا ہے اور کمپنی کے فیصلہ سازی کے عمل کو مفلوج کر دیا ہے۔ پاکستانی عدلیہ اور نیب کی جانب سے ان کی وطن واپسی کے لیے بار بار درخواستوں اور انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی کوششوں کے باوجود، ملک ریاض بیرون ملک اپنی سیاسی اور سفارتی روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں، جو اس معاملے کی پیچیدگیوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔


















































































