
داؤد ابراہیم کی کہانی ۔۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی
چھوٹا راجن اور چھوٹا شکیل کون ؟

کون کتنا بڑا ڈان ؟



حقیقت کیا ہے مفروضے کیا ہیں ؟
خصوصی رپورٹ

**داود ابراہیم کی شہرت کی وجوہات**
داود ابراہیم کا نام اُن کی مجرمانہ سلطنت اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ وہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک مافیا باس ہیں جنہوں نے 1970 کی دہائی میں ڈی-کمپنی کے نام سے ایک منظم جرائم کا گروہ قائم کیا ۔ اُن کی شہرت کا سب سے بڑا سبب 1993 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکے ہیں، جن کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر اُنہیں بھارت میں مطلوب قرار دیا گیا ۔ اس کے علاوہ، وہ منشیات کی اسمگلنگ، جعلی کرنسی کے کاروبار، اور دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرنے میں ملوث ہیں، جس کی وجہ سے انہیں امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ۔ اُنہیں انڈرورلڈ کا ایک انتہائی متنازع اور خطرناک شخصیت بناتا ہے ۔
**صحت کی حالت اور موجودہ صورتحال**
دستیاب اطلاعات کے مطابق، 70 سالہ داود ابراہیم گزشتہ کئی سالوں سے شدید ذیابیطس اور دل کی بیماری میں مبتلا ہیں اور زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کی اپنے گروہ کے ساتھ بات چیت تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔ اُن کی خراب صحت کی خبریں اس قدر پھیلی ہیں کہ ایک حالیہ فلم میں اُنہیں بستر پر پڑے ایک مریض کے طور پر دکھایا گیا، جس نے ڈی-کمپنی کو شدید پریشان کر دیا اور اُنہیں یہ ثابت کرنے پر مجبور کر دیا کہ اُن کا ‘بڑے صاحب’ ابھی تک زندہ اور صحت مند ہیں ۔ تاہم، انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اُن کی بیماری کے باعث گروہ میں جانشینی کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، ۔ ان حالات کے باوجود، یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، کیونکہ اُن کا نیٹ ورک اب بھی فعال ہے ۔
**مستقبل کے امکانات**
داود ابراہیم کا مستقبل فی الحال ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف اُن کی صحت گر رہی ہے اور دوسری طرف بھارتی ایجنسیاں اُن کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں ۔ بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اُن کے منشیات کے کاروبار کو نشانہ بنایا ہے، جسے ڈی-کمپنی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے، اور ایک اندازے کے مطابق اُن کا سالانہ کاروبار 15 سے 25 ہزار کروڑ روپے ہے،
پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان جاوید میانداد اور مافیا ڈان داؤد ابراہیم کے درمیان خاندانی تعلقات اس وقت عوام میں آئے جب میانداد نے خود ایک انٹرویو میں ان تعلقات کو تسلیم کیا۔ یہ رشتہ اس وقت قائم ہوا جب میانداد کے بیٹے جنید کی شادی 2005 میں داؤد ابراہیم کی بیٹی مہرخ سے دبئی میں ہوئی تھی ۔ میانداد نے اس تعلقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ داؤد کو ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی بہو بہت پڑھی لکھی ہیں اور ایک کانونٹ اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم یافتہ ہیں ۔
اس اتحاد نے میانداد کو میڈیا کی توجہ حاصل کی خاص طور پر اس لیے کہ داؤد ابراہیم بھارت میں 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور دنیا بھر میں مطلوب ہے ۔ میانداد نے اس تعلق کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے داؤد کی تعریف بھی کی اور کہا کہ انہوں نے مسلم کمیونٹی کے لیے بہت کچھ کیا ہے، جسے سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا ۔ میانداد کے مطابق، “داؤد ابراہیم کو سمجھنا آسان نہیں، اور لوگ ان کے خاندان کے بارے میں جو سوچتے ہیں، وہ ایسے نہیں ہیں” ۔


















































































