کھیل سے خوبصورتی تک: میڈیا کی نئی سمت اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری

بس ایک بال، ایک وکٹ، اور ایک کھلاڑی کی محنت — مگر ہماری توجہ کہاں ہے؟**

پاکستانی خاتون کرکٹر عالیہ ریاض کی ایک تصویر اور کارکردگی نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ طوفان ان کی بیٹنگ یا باؤلنگ کی مہارت کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی ظاہری شکل اور جسمانی خصوصیات کی وجہ سے ہے۔

یہ معاملہ دوہری افسوسناک حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے تو کچھ پاکستانی صارفین نے ان کے خلاف مہم چلائی، اور اب بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے انہیں جنسی انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ وہی بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین ہیں جو اپنی خواتین کھلاڑیوں جیسے میتھالی راج، ہرمن پریت کور، اور سمیرن رندھیرا کی کارکردگی پر فخر کرتے ہیں، مگر جب بات پاکستانی خاتون کھلاڑی کی آتی ہے تو اخلاقیات کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔

**کیا بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے خواتین کا احترام کرنا سیکھ لیا؟**

سوال یہ ہے کہ جب ہم خود اپنے ملک میں خواتین کے حقوق اور احترام کے نعرے لگاتے ہیں، تو کیا دوسرے ممالک کی خواتین کھلاڑیوں کے لیے بھی یہی اصول لاگو نہیں ہوتے؟ بھارتی میڈیا کی بڑی خبروں اور ٹرینڈنگ ٹاپکس پر جائیں تو عالیہ ریاض کی کرکٹ اسکورز یا ان کی مہارت کے بجائے ان کی خوبصورتی، لباس، اور ذاتی زندگی پر تبصرے زیادہ نظر آتے ہیں۔

یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ پیشہ ور کھلاڑی کی توہین بھی ہے۔ عالیہ ریاض ایک بین الاقوامی کرکٹر ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ انہیں “خوبصورت” کہہ کر یا ان کی جسمانی خصوصیات پر تبصرہ کرکے ہم ان کی محنت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ہم کسی مرد کھلاڑی کی کارکردگی کو اس کی داڑھی یا پٹھوں سے پرکھتے ہیں؟ جواب ہے “نہیں” — تو پھر خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ یہ دوہرا معیار کیوں؟

**سوشل میڈیا کی ذمہ داری**

سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے، مگر جب یہ ہتھیار نفرت، جنسی ہراسانی، اور غیر اخلاقی تبصروں کے لیے استعمال ہو، تو یہ معاشرے کے لیے زہر بن جاتا ہے۔ عالیہ ریاض کے معاملے میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح بھارتی اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ایک کھیل کی شبیہہ کو جنسی تناظر میں تبدیل کر دیا۔

میڈیا کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی، ان کی مہارت، اور ان کے کھیل پر توجہ مرکوز کرے، نہ کہ ان کی خوبصورتی پر۔ جب میڈیا خود ایسے تبصروں کو جگہ دیتا ہے، تو عام صارف بھی حوصلہ پاتا ہے۔

**نتیجہ**

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ جب تک ہم خواتین کھلاڑیوں کو ان کی مہارت اور محنت کی بنیاد پر پرکھیں گے نہیں، تب تک ہم “خواتین کے احترام” کا دعویٰ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ عالیہ ریاض جیسی کھلاڑیوں کی توہین کرنے سے پہلے اپنے گھر کی بیٹیوں، بہنوں، اور ماؤں کے بارے میں سوچیں — کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہو؟

کھیل کو کھیل رہنے دیں، خوبصورتی کو خوبصورتی رہنے دیں، اور ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں۔ ورنہ ہم سب اس تہذیب کے سبق میں فیل ہو جائیں گے۔

پاکستانی کرکٹر عالیہ ریاض ٹرینڈنگ میں ہیں۔

سب سے پہلے کچھ پاکستانی صارفین نے عالیہ ریاض کے خلاف مہم چلائی۔ اب بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس انہیں جنسی انداز میں پیش کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں منفی اور نامناسب تبصرے کر رہے ہیں۔

یہ رویہ نہ صرف ایک پیشہ ور کھلاڑی کی توہین ہے بلکہ سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف ہراسانی اور غیر اخلاقی رویوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ احترام اور تنقید کے درمیان فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور کسی بھی کھلاڑی کو ذاتی یا جنس کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔