ڈریگن بوٹ فیسٹیول۔چین کا روایتی تہوار

اعتصام الحق
چو یوان ایک عظیم شاعر اور اپنی آبائی ریاست چو میں ایک وزیر بھی تھے ۔انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ اپنی ریاست میں بہت سی اصلاحات کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ محلاتی سازشوں کا شکار ہونے کےبعد وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کی غیر موجودگی میں پڑوسی ریاست نے ان کی ریاست پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں ان کی فوج کو شکست ہوئی۔ اس خبر سے دلبرداشتہ ہو کر چویوآن نے ایک بھاری پتھر باندھ کر خود کو دریا کے سپرد کر دیا۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس دن چینی قمری کلینڈر کے پانچویں مہینے کی پانچ تاریخ تھی۔ جب لوگوں کو پتہ چلا تو وہ کشتیوں میں سوار ہوکر چو یوآن کی تلاش میں نکلے۔ اس دوران مچھلیوں اور آبی جانوروں کی توجہ ہٹانے کے لئے ریڈ کے پتوں میں چاول باندھ کر دریا میں پھینکے گئے۔ آج کے دور کی تمام روایات اس دن کی یاد میں منائی جاتی ہیں اور اس تہوار کو اب ڈریگن بوٹ فیسٹول کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ لہذا لوگ اس دن اپنے اس عظیم شاعر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ادبی محافل میں ان کا کلام پڑھا جاتا ہے اور انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن لوگ پانچ رنگ یعنی سفید ، سرخ، نیلے، پیلے اور کالے رنگ کے دھاگوں سے بنا بریسلٹ پہنتے ہیں۔ یہ رنگ چینی آسٹرلوجی کے پانچ عناصر لکڑی ، آگ، مٹی، دھات اور پانی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔اس تہوار کے دن لوگ چین کی مخصوص خوشبو کی تھیلیاں یا ساشےاپنے گلے میں پہنتے یا گھروں میں لٹکاتے ہیں۔ چینی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ خوشبو آپ کو سارا خوش حال اور مصائب سے دور رکھتی ہے۔
اس تہوار کی ایک اور اہم رسم دروازوں کی چوکھٹ کے ساتھ مخصوص چینی پودوں کے پتوں کو لٹکانا بھی ہے۔ اس کا مقصد برائی کو گھر سے دور بھگانا ہے۔ایک اہم ایونٹ ڈریگن کی شکل کی کشتیوں کی ریس بھی ہے ۔یہ کشتیاں کئی افراد مل کر چلاتے ہیں اور ان کے مختلف رنگ ہوتے ہیں ۔اس دن کی مناسبت سے زونگزی ایک ایسا پکوان ہے جو اس تہوار کا خاصہ ہے۔ یہ چپچپے چاول، گوشت، اور دیگر لذیذ اجزاء کو ریڈ کے پتوں میں لپیٹ کر بنایا جاتا ہے ۔یہ پکوان اس عمل کی یاد میں بنتا ہے جو عظیم شاعر چو یوان کی تلاش میں ان کے چاہنے والوں نے کیا ۔ ہر علاقے کا اپنا انوکھا ذائقہ ہوتا ہے۔
ہر سال جب چین میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول آتا ہے، تو دریا، جھیلیں اور نہریں صرف پانی کے راستے نہیں ہوتے بلکہ جوش، اتحاد اور روایت کا عظیم میدان بن جاتی ہیں۔لمبی، رنگ برنگی کشتیوں میں سوار درجنوں چپو چلانے والے ایک ہی تال پر آگے بڑھتے ہیں، جبکہ کشتی کے اگلے حصے پر نصب ڈھول کی گونج ماحول کو گرما رہی ہوتی ہے ۔یہی ہے ڈریگن بوٹ ریس…ایک ایسا کھیل جو دو ہزار سال سے زیادہ پرانی تاریخ رکھتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس روایت کا آغاز قدیم شاعر اور محب وطن شخصیت “چو یوان ” کی یاد میں ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ صرف ایک یادگار تقریب نہیں رہی۔آج ڈریگن بوٹ ریس چینی معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور اجتماعی جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔اس مقابلے میں کوئی ایک فرد کامیاب نہیں ہوتا۔کشتی تبھی آگے بڑھتی ہے جب تمام چپو چلانے والے ایک ہی رفتار اور ایک ہی مقصد کے ساتھ کام کریں۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل چینی ثقافت کی روح کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اجتماعی کوشش کو انفرادی کامیابی پر فوقیت دی جاتی ہے۔آج چین کے چھوٹے دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک، لاکھوں لوگ اس تہوار کا حصہ بنتے ہیں۔اور جب ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ڈریگن بوٹ پانی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، تو یہ صرف ایک دوڑ نہیں ہوتی…بلکہ صدیوں پر محیط ثقافت، روایت اور قومی یکجہتی کا ایک زندہ اظہار بن جاتی ہے۔
تو یہ تھی ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی دلچسپ کہانی! یہ تہوار نہ صرف چین کی ثقافتی وراثت ہے، بلکہ یہ اتحاد، محبت اور روایات کا خوبصورت امتزاج بھی ہے ۔ اگلی بار جب آپ زونگزی کھائیں، تو اس کی تاریخ ضرور یاد رکھیں۔