میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟ ہائی پروفائل قتل اور سنگین جرائم کے حل طلب مقدمات کی کہانی ۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

ہائی پروفائل قتل اور سنگین جرائم کے حل طلب مقدمات کی کہانی ۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

اکثر اہم شخصیات اور ہائی پروفائل قتل کیسز میں یا تو قاتل پکڑے نہیں جاتے یا پھر پولیس جن ملزمان کو گرفتار کرتی ہے انہیں سزائیں ہو جاتی ہیں یا وہ سزا ہونے کے باوجود اعلی عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں اور پیچھے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر قاتل کون ہے ؟
پاکستان کی تاریخ ایسے متعدد واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اصل قاتلوں کا سراغ لگانا ایک چیلنج ہے ایسے حل طلب مقدمات کی وجہ سے قانون اور انصاف کے نظام پر لوگ سوال بھی اٹھاتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی یہ صورتحال عدم اعتماد اور عدم اطمینان کا باعث بنتی ہے ۔آخر کسی نہ کسی کو تو ایسے سوالات کا جواب تلاش کرنا ہوگا مگر یہ سب کب کون اور کیسے کرے گا ؟

coming soon

## حکیم محمد سعید اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مقدمات

**حکیم محمد سعید کا قتل: ایک معمہ اور سیاسی المیہ**
کراچی کے معروف طبیب، اسکالر اور سندھ کے سابق گورنر حکیم محمد سعید کا 17 اکتوبر 1998 کو صبح سویرے سول ہسپتال کے قریب ان کی اپنی دواخانے کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل نے نہ صرف شہر کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس کے فوری سیاسی اثرات مرتب ہوئے اور سندھ میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ مقتولہ بینظیر بھٹو سمیت سیاسی حلقوں نے نواز شریف کی حکومت پر الزام لگایا، جبکہ اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان شدید کشمکش پیدا ہو گئی۔ پولیس نے مقدمے میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو نامزد کیا اور ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، تاہم بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے شواہد کی عدم دستیابی کی بناء پر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف ریاست کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، جو برسوں زیر التواء رہی اور بالآخر 2014 میں عدالت عظمیٰ نے بھی ثبوت نہ ہونے کی بناء پر تین ملزمان کو بری کر دیا۔ آج تک یہ قتل ایک معمہ اور سیاسی المیے کی مانند ہے، جس کا اصل محرک اور قاتل کبھی عدالت میں ثابت نہ ہو سکے۔

**مرتضیٰ بھٹو کا قتل: ایک متنازعہ انکاؤنٹر**
پاکستان پیپلز پارٹی شہید گروپ کے سربراہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند مرتضیٰ بھٹو کا 20 ستمبر 1996 کو کراچی کے علاقے 70 کلفٹن کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، وہ ایک عوامی جلسے سے واپس آ رہے تھے کہ پولیس کی بھاری نفری نے ان پر اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں مرتضیٰ بھٹو سمیت سات افراد جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے فوری بعد اس وقت کے صدر اور وزیراعظم کی بہن بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، تاہم بعد میں عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی بناء پر انہیں بری کر دیا۔ اس مقدمے میں ملوث پولیس افسران اور مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں کو ٹرائل کورٹ نے بری کر دیا، جس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔ یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازعہ واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس میں ملوث کچھ اہم مشتبہ افراد کے انتقال کی وجہ سے یہ مقدمہ اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے اور اصل حقیقت کبھی سامنے نہ آ سکی۔

## ولی بابر اور عظیم احمد tariq کے قتل کے مقدمات

**ولی بابر کا قتل: صحافتی آزادی پر حملہ**
جیو نیوز کے کرائم رپورٹر ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں دفتر سے گھر واپس آتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ قتل ایک منظم ٹارگٹ کلنگ کا شرمناک واقعہ تھا، جس نے صحافتی برادری کو شدید صدمہ پہنچایا۔ پولیس کے مطابق، ولی بابر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کی رپورٹنگ کو عوامی نیشنل پارٹی کے قریب سمجھا جاتا تھا اور وہ الطاف حسین کے خلاف خبریں نشر کرتے تھے۔ اس مقدمے میں ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جن میں فیصل محمود عرف موٹا اور کامران عرف ذیشان شانی شامل تھے، جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2014 میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ اس مقدمے کی سنگینی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ مقدمے کے متعدد گواہوں اور استغاثہ کے وکیل کو بھی قتل کر دیا گیا، جس سے عدالتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ بالآخر 2020 میں مرکزی ملزم کامران عرف ذیشان شانی کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس سے قبل فیصل موٹا کو 2015 میں نیو زیرو سے گرفتار کیا جا چکا تھا۔

**عظیم احمد tariq کا قتل: ایک اور نامکمل انصاف**
اگرچہ مہیا کردہ معلومات میں عظیم احمد tariq کے قتل کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، تاہم کراچی کے ہائی پروفائل قتل کے مقدمات کا ایک مشترکہ دھاگہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا انجام مبہم اور عدالتی کارروائیاں نامکمل رہی ہیں۔ حکیم محمد سعید، مرتضیٰ بھٹو اور ولی بابر کے مقدمات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح طاقت کے مراکز، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات کے باعث ان مقدمات کی پیچیدگی بڑھ جاتی ہے اور اصل ملزمان کو گرفتار کرنا یا انہیں سزا دینا ایک ناممکن کارنامہ بن جاتا ہے۔ ان تمام مقدمات میں قانون کی گرفت کمزور پڑی اور عدالتوں میں پیش کیے جانے والے شواہد یا تو ناقص تھے یا انہیں مسترد کر دیا گیا، جس سے مقتولین کے لواحقین کو انصاف نہ مل سکا۔

======================


صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل

ارشد شریف شہید پاکستان کی تحقیقاتی صحافت کا بڑا نام تھے جن کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔

ارشد شریف ناصرف مایہ ناز صحافی تھے بلکے ایک شاندار انسان تھے۔
انہوں نے ناصرف کرپشن کا پردہ چاک کیا اس کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ وہ بہت خدا ترس اور عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ جتنا کمایا اتنا ہی فلاحی کاموں میں لگا دیا انکو نمودونمائش کا کوئی شوق نہیں تھا بہت سادگی پسند تھے اپنے پیچھے کوئی جہاز فارم ہاوس نہیں چھوڑ کرگئے۔ تاہم ایسے بہت سے کام کرکے گئے جو بطور صدقہ جاریہ تاقیامت انکو ثواب دیں گے اور حق گویائی اور سچائی آگے آنے والی نسلوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔

ارشد شریف کون تھا ارشد اعلی تعلیم یافتہ صحافی تھا اسکو اردو انگریزی پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ 1973 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔
تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھے اور سپورٹس بیت بازی اور تقاریر میں بھی انعامات جیتے۔
اس کے والد محمد شریف نیوی کے اعلی پایہ کے آفیسر تھے اسکی والدہ رفعت آرا اعلی تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار خاتون جن کی ساری زندگی بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزرگئ۔ انکی مہمان نواز اور سیلقہ سارے خاندان میں مشہور ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا اشرف شریف شہید بھی پاک آرمی میں اس وطن عزیز پر قربان ہوگیا اب بڑا بیٹا بھی سچ کی راہ میں شہید ہوگیا۔
وہ صبر اور ہمت کی مثال ہیں۔ ارشد شریف اعلی تعلیم کے آئیرلینڈ گئے اور اعلی اعزاز کے ساتھ میڈیا اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔پاکستانی نشریاتی اداروں کے ساتھ غیر ملکی خبررساں رائیڑز میں بھی کام کیا۔
صحافت کے ساتھ ساتھ وہ فوٹوگرافی میں بھی ماہر تھے نیچر وائلڈ لائف اور پورٹریٹ انکا خاصہ تھے۔ اس کے ساتھ وہ ایک مودب بیٹے پیار کرنے والے شوہر اور شفیق باپ تھے۔
گھومنے پھرنے ہائکنگ اور ڈائنگ کے دلدادہ تھے۔ مہمان نواز اتنے تھے کہ آج تک ہمارے گھر سے کوئی کھانا کھائے بنا اور تحفے کے بنا واپس نہیں گیا۔ ارشد شریف بہت ملنسار تھے اور بہت مدد کرتے تھے۔ وہ خطیر رقموں کے ساتھ چیریٹی کیا کرتے تھے۔ کبھی کسی کی مدد سے انکار نہیں کیا

ہ کینیا چلے گئے جہاں وہ زیادہ تر اپنے میزبان کی طرف سی دی گئی رہائش گاہ میں چھپے رہے کیونکہ انکی جان کو خطرہ تھا۔ پھر جب انکے تھوڑا خوف کم ہوا تو انہوں نے یوٹیوب اور دیگر تحقیقاتی اسٹوریز پر کام کرنا شروع کیا۔ جب انکو کی یوٹیوب سے پہلی آمدنی آئی تو وہ بہت خوش ہوئے انکا چینل یکدم بہت مشہور ہوگیا وہ جب تھوڑا مطمئن ہونے لگے اور ہمیں کہا کہ دسمبر میں واپس آجاو گا تو ان کو بہمیانہ طریقہ سے قتل کیا انکو سرمیں گولی ماری گئ تاکہ وہ بچ ہی نا سکیں۔
جو انکو دھمکیاں پاکستان میں دی گئی تھیں انہوں نےکینیا میں حققیت کا روپ دھار لیا۔
میرے شوہر کینیا میں اپنی جان بچاکرگئے تھے وہ زیادہ تر اپنے میزبان کی طرف سے دی گئ رہائش میں محصور رہے۔ کینیا کی پولیس نے صرف انکو کیوں ٹارگٹ کیا۔ انکے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا وہ نہتے تھے انکو قتل کرنے کے پیچھے انہوں نے کس سے پیسے لئے ان پر سولہ ایف آئی آرز کروائی جس دن ان سوالات کے جوابات مل جائیں گے اس دن قاتل بھی مل جائیں گے۔