شیخ رشید کا مستقبل ؟ سیاست کا دولہا زندگی بھر شیروانی کیوں نہ پہن سکا ؟


شیخ رشید کا مستقبل ؟

سیاست کا دولہا زندگی بھر شیروانی کیوں نہ پہن سکا ؟

بے پناہ طاقت ، زبردست کامیابیاں اور بے مثال مقبولیت کے بعد اچانک ان کی فلم سیاسی پردے سے کیوں اتر گئی ؟
یہ اندازے کی غلطی تھی یا وہ مکافات عمل کا شکار ہوئے ؟


سیاسی کامیابیوں سے لے کر مشکلات سے بھری گمنام اور خاموش زندگی کی اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ

شیخ رشید احمد کا سیاسی سفر پاکستان کی سیاست میں عروج و زوال کی ایک منفرد داستان ہے۔ ان کا سیاسی کیرئیر ۱۹۸۵ میں ضیاء الحق کے دور میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے سے شروع ہوا اور وہ راولپنڈی کی سیاست پر اپنی گرفت کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، اور اسلامی جمہوری اتحاد سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارمز سے الیکشن جیتے اور ایک سے زیادہ بار وفاقی وزیر رہے، جن میں وزارت ریلوے اور اطلاعات شامل ہیں ۔ راولپنڈی کی مشہور “لال حویلی” ان کی سیاسی شناخت کا مرکز بنی اور وہ اپنے عوامی انداز اور پیشین گوئیوں کے لیے مشہور ہوئے ۔

ان کے عروج کا ایک اہم دور پرویز مشرف کی حکومت کے دوران تھا جب وہ ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے اور وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے ۔ اس دور میں انہوں نے اپنے آپ کو ایک بااثر اور قابل وزیر کے طور پر منوایا اور راولپنڈی میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا۔ تاہم، اس عرصے میں ان کا انٹیلی جنس اداروں اور اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلق بھی اُن کے مستقبل کے زوال کی بنیاد بنا، کیونکہ وہ اکثر طاقت کے اس مرکز کی نمائندگی کرتے نظر آئے ۔

ان کے سیاسی زوال کا آغاز ۲۰۰۸ کے عام انتخابات میں شکست سے ہوا، جب وہ اپنے گڑھ راولپنڈی کی دو نشستوں سے بھاری اکثریت سے ہار گئے ۔ اس شکست کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ کر اپنی نئی جماعت “عوامی مسلم لیگ” بنائی، تاہم یہ جماعت کبھی انہیں وہی سیاسی اہمیت نہ دے سکی جو پہلے حاصل تھی ۔ ۲۰۱۳ میں انہوں نے عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اتحاد کیا، جو ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ۔

اس اتحاد کے بعد شیخ رشید نے خود کو عمران خان کا قریبی ساتھی ثابت کیا اور پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ان کی حمایت جاری رکھی۔ تاہم، اس دور میں بھی ان پر استحکام کے ساتھ بے حد قربت کا الزام لگتا رہا اور وہ اپوزیشن کے خلاف سخت بیانات دیتے نظر آئے ۔ ۲۰۲۲ میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد کے سیاسی بحران نے شیخ رشید کو مشکل صورت حال میں ڈال دیا، جب انہیں اپنے سابقہ اسٹیبلشمنٹ دوستوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔

ان کے زوال کی اہم وجہ استحکام کے ساتھ ان کا تعلق اور اسٹیبلشمنٹ کی تبدیلی کے بعد ان کا سیاسی موقف تھا۔ جب نئی فوجی قیادت آئی تو شیخ رشید کو اپنی سابقہ پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ بتدریج اہمیت کھو بیٹھے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان پر ان کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث مقدمات بھی بنائے گئے اور انہیں سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا گیا ۔ ۲۰۲۴-۲۵ میں ان کی پریشان حالی اور مایوسی کے مناظر سامنے آئے، جو ایک زمانے کے بااثر سیاستدان کے زوال کی عکاسی کرتے ہیں ۔

شیخ رشید کے سیاسی کیرئیر کا ایک اور اہم پہلو ان کی پیشین گوئیاں اور بیانات ہیں، جنہوں نے انہیں میڈیا میں مقبولیت تو دی مگر کبھی کبھار ان کے سیاسی وقار کو بھی نقصان پہنچایا۔ ۲۰۲۴ میں انہوں نے حکومت کے خاتمے کی پیشین گوئی کی اور مختلف سیاسی بحرانوں میں اپنا موقف واضح کیا ۔ تاہم، یہ پیشین گوئیاں اکثر درست ثابت نہ ہوئیں، جس سے ان کی سیاسی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا۔

آخرکار، شیخ رشید احمد کا عروج و زوال اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کی سیاست میں استحکام سے قربت کس طرح کسی سیاستدان کو عروج دے سکتی ہے اور پھر اسی قربت کی تبدیلی کس طرح تیزی سے زوال کا باعث بنتی ہے۔ ان کی کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستانی سیاست میں طاقت کے مراکز کے ساتھ تعلق رکھنے والے سیاستدان اکثر اپنی سیاسی اہمیت کھو دیتے ہیں جب یہ مراکز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح، شیخ رشید کا سیاسی سفر پاکستان کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے جہاں وفاداریاں اور اتحاد وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور کوئی بھی سیاستدان مستقل حیثیت حاصل نہیں رکھتا۔