عوامی نیشنل پارٹی کا مستقبل کیا ہے ؟ ماضی کی انتہائی طاقتور سیاسی جماعت کو کس کی نظر لگ گئی ؟

عوامی نیشنل پارٹی کا مستقبل کیا ہے ؟
ماضی کی انتہائی طاقتور سیاسی جماعت کو کس کی نظر لگ گئی ؟
قیادت کی نئی حکمت عملی کیا ہوگی ؟
کیا اے این پی ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر سیاسی طاقت حاصل کر سکتی ہے ؟
خصوصی رپورٹ

coming soon

عوامی نیشنل پارٹی، جسے کبھی پشتون قوم پرستی اور ترقی پسند سیاست کا پرچم بردار سمجھا جاتا تھا، آج ماضی کی نسبت شدید زوال کا شکار ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں محض ایک نشست حاصل کرنا اس پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کا آئینہ دار ہے۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ افسوسناک ہے کہ اس پارٹی کا تعلق بابائے پشتون خان عبدالغفار خان اور ولی خان جیسے عظیم رہنماؤں کی وراثت سے ہے، جو برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد اور پاکستان میں جمہوری اقدار کے علمبردار تھے۔

ماہرین اور سیاسی مبصرین کے مطابق، اس زوال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کے اندرونی ڈھانچے میں جڑی خامی ہے، خاص طور پر خاندانی سیاست کا غلبہ۔ ولی خان کی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان اور اب ان کے بیٹے ایمل ولی خان پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جسے پارٹی کارکنان اور عوام میں ایک غیر موثر اور نااہل انتظامیہ قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دوران قیادت کی توجہ جمہوری اصولوں کے تحت پارٹی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے بجائے، اقتدار کو ایک خاندان تک محدود رکھنے پر مرکوز رہی ہے، جس سے نئے لیڈروں کی ترقی کا عمل رک گیا ہے اور پارٹی کارکنان میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

اندرونی مسائل کے علاوہ، سیاسی بیانیے کی محدودیت اور حکمت عملی کی غلطیاں بھی اس پارٹی کے زوال کا باعث بنی ہیں۔ ایک وقت میں پارٹی کو پشتون حقوق، صوبائی خودمختاری اور کلاباغ ڈیم کی مخالفت جیسے مسائل پر مضبوط شناخت حاصل تھی، لیکن 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے ان میں سے بہت سے مقاصد حاصل ہونے کے بعد، پارٹی ایک نیا اور مؤثر بیانیہ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ مزید برآں، پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) جیسی نئی اور زیادہ موثر تحریکوں کے ابھرنے اور امپارٹی کی جانب سے ان تحریکوں سے دوری اختیار کرنے نے عوام سے اس کا رابطہ کمزور کر دیا۔ 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں شامل ہونے کا فیصلہ بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، جس نے اسے بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے قریب کر دیا اور اس کی عوامی حمایت مزید گھٹا دی۔

تاہم، حالیہ دنوں میں عوامی نیشنل پارٹی ایک بار پھر قومی سیاست میں متحرک نظر آ رہی ہے، خاص طور پر آئینی ترمیم کے حوالے سے۔ پارٹی نے حال ہی میں حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی اور اب 28ویں ترمیم کی حمایت کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں صوبے کا تاریخی نام “پختونخوا” بحال کرنا، مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینا، اور پن بجلی پیدا کرنے والے صوبوں کو بجلی کے معاملات میں ریلیف فراہم کرنا شامل ہیں۔ گلگت بلتستان میں اپنی تنظیمی ڈھانچہ کو وسعت دینے کا فیصلہ بھی پارٹی کی نئی سمت کا اشارہ ہے۔ پارٹی کی موجودہ صورتحال سے نکلنے اور اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیانیے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالے، اندرونی جمہوریت کو فروغ دے اور عوام کے حقیقی مسائل کا حل پیش کرے، ورنہ اس کی سیاسی اہمیت مزید کم ہوتی چلی جائے گی۔