
جہانگیر ترین نے زراعت کاروبار اور سیاست میں کیا کھویا کیا پایا ؟
سیاسی عروج و زوال کی کہانی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی ۔
اہم تفصیلات پہلی بار منظر عام پر ۔۔۔۔۔۔
coming soon


جہانگیر ترین کا سیاسی سفر عروج و زوال کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر انہوں نے 2002 میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب جیت کر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور وزیر صنعت و پیداوار جیسے اہم عہدے پر فائز رہے . تاہم، ان کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا موڑ 2011 میں آیا جب انہوں نے عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے نہ صرف پارٹی کو مالی مدد فراہم کی بلکہ ایک ماہر حکمت عملی کے طور پر پی ٹی آئی کو ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، یہاں تک کہ انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بھی بنایا گیا .
ان کے سیاسی عروج کی انتہا 2018 میں نظر آئی جب ان کی جماعت پاکستان کی برسراقتدار پارٹی بنی اور وہ اس کامیابی کے معماروں میں شمار ہوئے . تاہم، یہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ انہیں 2017 میں سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے کے الزام میں نااہل قرار دے دیا، جسے ان کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا گیا . عدالت نے بعد ازاں اس نااہلی کو تاحیات قرار دیا جس نے ان کی سیاسی راہیں مزید مشکل کر دیں . یہ وہی عدالتی اقدام تھا جسے انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا تھا اور اب یہی ان کے خلاف استعمال ہوا، جسے سیاسی حلقوں میں تلخی اور ستم ظریفی سے تعبیر کیا گیا .
اپنی سیاسی مشکلات کے باوجود جہانگیر ترین نے سیاست میں اپنی شناخت برقرار رکھی۔ 2022 میں، انہوں نے ایک بار پھر سیاسی چال چلی جب انہوں نے اپنی جماعت (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی، جس کی وجہ سے وہ عمران خان سے دور ہو گئے . اس کے بعد انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت، استحکام پاکستان پارٹی (IPP) کی بنیاد رکھی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کیا . 2024 کے ایک تاریخی عدالتی فیصلے نے نااہل سیاست دانوں پر عائد تاحیات پابندی کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایک بار پھر ان کی سیاسی واپسی کی راہیں کھل گئی ہیں اور وہ اپنی نئی جماعت کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں .
سیاست سے ہٹ کر، جہانگیر ترین کا شمار پاکستان کے کامیاب ترین زرعی ماہرین اور صنعت کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے جدید طرز کی زراعت کو فروغ دیا اور اپنی چینی کی ملوں کو کامیاب کاروباری اداروں میں تبدیل کیا . ان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ انصاف پسندانہ سلوک کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف کسانوں کو بہترین نرخ دیتے ہیں، بلکہ بروقت ادائیگی کو بھی یقینی بناتے ہیں، جو پاکستان کی چینی صنعت میں ایک غیر معمولی مثال ہے . ماضی میں بھی جب دیگر ملز مالکان نے کسانوں کو کم نرخ ادا کیے، ترین واحد ملک مالک تھے جنہوں نے مقررہ شرح (مکمل 180 روپے فی من) ادا کی، جسے ان کے سابق رہنما عمران خان نے بھی تسلیم کیا تھا .
جہانگیر ترین کا کاروباری ماڈل صرف منافع تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی چینی کی ملوں کے کاروبار کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کسانوں کو مائیکرو کریڈٹ اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا نظام قائم کیا، جس سے پیداوار اور منافع میں غیر معمولی اضافہ ہوا . وہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر اقسام اور جدید آبپاشی کے طریقے اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں اور خود بھی اپنی زمینوں پر جدید زراعت کے نمونے قائم کیے ہوئے ہیں . گزشتہ دنوں انہوں نے کسانوں کو 400 روپے فی من کے حساب سے گنا خریدنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر کسان خوش ہے تو ملک خوش ہے . ان کا ماننا ہے کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہیں اور ان کی ترقی ہی معاشی ترقی کی ضامن ہے .


















































































