وزیراعلی سندھ کی کرسی ، پھولوں جیسی نرم ہے یا کانٹوں جیسی زخم دینے والی ؟

وزیراعلی سندھ کی کرسی ،
پھولوں جیسی نرم ہے یا کانٹوں جیسی زخم دینے والی ؟


سید مراد علی شاہ کا تجربہ کیسا رہا ہے ؟
بطور وزیر اعلی ان کے اقدامات اور کارکردگی کا جائزہ لوگ کس طرح لیتے ہیں ؟
ان کے اپنے خیالات اور احساسات کیا ہیں ؟ وہ کیا کچھ کر سکے کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟
سندھ کے وزیراعلی کی کہانی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

======================

**سید مراد علی شاہ کا سیاسی پس منظر**

سید مراد علی شاہ ۸ نومبر ۱۹۶۲ کو کراچی میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق سندھ کے ایک معروف سیاسی گھرانے سے ہے۔ وہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے فرزند ہیں، جنہوں نے ۱۹۹۳ سے ۱۹۹۶ تک اس عہدے کو سنبھالا. سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی پر توجہ مرکوز کی، جو ان کے منفرد سیاسی سفر کی بنیاد ہے۔ انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے سول انجینئرنگ میں بیچلر کیا اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی، امریکہ سے سٹرکچرل انجینئرنگ اور انجینئرنگ اکنامک سسٹمز میں دو ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں. ایک انجینئر اور پھر سرمایہ کاری بینکر کے طور پر پاکستان، برطانیہ، کویت اور امریکہ میں کام کرنے کے بعد، وہ ۲۰۰۲ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس طرح انہوں نے ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کے بعد سیاست میں قدم رکھا.

**پارٹی کے اندر سفر اور وزارتی تجربہ**

مراد علی شاہ کا سیاسی سفر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ رہا جہاں انہوں نے مختلف ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک مضبوط اور قابل اعتماد قائد کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ ۲۰۰۲ کے بعد وہ ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۳ کے انتخابات بھی جیتے اور سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر آبپاشی اور وزیر خزانہ جیسے اہم قلمدان سنبھالے. ایک دلچسپ واقعہ ۲۰۱۳ کے انتخابات سے قبل پیش آیا جب انہیں کینیڈین شہریت رکھنے کے الزام میں الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا، تاہم انہوں نے اپنی دوسری شہریت ترک کر کے عدالت سے کلیئرنس حاصل کی اور ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی. اس عزم اور قانونی عمل کی پاسداری نے انہیں ایک ذمہ دار سیاستدان کے طور پر پیش کیا اور وہ دوبارہ صوبائی وزیر بنے، جس سے پارٹی قیادت کا ان پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔ پارٹی کے اندر وہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی سندھ کے وائس صدر بھی ہیں.

**وزیراعلیٰ کے طور پر تاریخی کامیابی کا سفر**

جولائی ۲۰۱۶ میں، پارٹی قیادت نے سید قائم علی شاہ کی جگہ مراد علی شاہ کو سندھ کا وزیراعلیٰ منتخب کیا. یہ ان کی سیاسی زندگی کا اہم موڑ تھا۔ اس کے بعد وہ ۲۰۱۸ اور ۲۰۲۴ کے انتخابات میں بھی اس عہدے پر براجمان رہے، اور وہ سندھ کی تاریخ میں لگاتار تین مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے پہلی قانون ساز ہیں. ۲۰۲۴ میں ہونے والے انتخاب میں انہوں نے ۱۴۸ میں سے ۱۱۲ ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی. ان کی مسلسل کامیابی پارٹی نظم و ضبط، قیادت کی وفاداری، اور سندھ کے مسائل کو حل کرنے کی ان کی صلاحیت کا عکاس ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کا عروج پارٹی قیادت کی اطاعت کی وجہ سے ہے، لیکن ان کے حامی انہیں ایک بااختیار اور قابل منتظم قرار دیتے ہیں جنہوں نے وفاق سے سندھ کے مالی اور آبی وسائل کا معاملہ مؤثر طریقے سے اٹھایا.

**کامیاب گورننس کا دور اور عوامی خدمات**

مراد علی شاہ کی کامیابی کا اندازہ ان کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ترقیاتی منصوبوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۴-۲۵ کے دوران ایک سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کی جس میں صحت، تعلیم، ڈیجیٹلائزیشن، زراعت اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا. صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی نے ۱۴ لاکھ مریضوں کا علاج کیا اور جدید ترین روبوٹک سرجری کے نظام نصب کیے گئے. زراعت میں ۲۰۲۲ کے سیلاب سے متاثرہ ۱۶۸,۰۰۰ کسانوں کو ہری کارڈز تقسیم کیے گئے اور ۲۰۰,۰۰۰ سولر یونٹس فراہم کیے گئے. ان کی قیادت میں سندھ میں ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے گئے، جیسے آن لائن گاڑی ٹیکس سسٹم، جس سے عوامی سہولت میں اضافہ ہوا. اپنے حلقے میں انہوں نے اسکولوں، ڈسپنسریوں اور سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنایا، جس کی وجہ سے انہیں عوامی حمایت حاصل ہے. یہ کامیابیاں ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
=====================

آئندہ بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی جائے گی، میری تبدیلی کی باتیں دس سال سے آ رہی ہیں، میں اس وقت ہٹایا جاؤں گا

جب اللہ اور میری پارٹی قیادت چاہے گی، شرجیل میمن، ناصرشاہ، سعد غنی اور اویس قادر شاہ پارٹی کارکن ہیں، میرے خلاف نہیں جائیں گے، کراچی سے محبت پیپلز پارٹی والوں سے زیادہ کوئی نہیں کرسکتا، ہمارے وسائل بہت کم ہیں، پھر بھی پوری توانائی لگا رہے ہیں۔ان

خیالات کا اظہاروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ کی بحالی اور تزئین و آرائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کو شہر کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شہریوں، تاجروں اور سیاحوں کے لئے جدید عوامی سہولتوں کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔افتتاحی تقریب میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر سلمان مراد، اراکین سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید، معاونِ خصوصی عثمان ہنگورو، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایمپریس مارکیٹ طارق مغل، سینئر حکام، تاجر برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک مخصوص جماعت نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا کنٹرول سنبھال کر شہر کے عوام کو ہراساں کرکے انہیں سزا دینا شروع کر دی تھی۔ روزانہ لوگ قتل ہوتے تھے لیکن جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو پورے شہر نے سکھ کا سانس لیا۔ امن بحال ہوا اور ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا۔ وہ اس جماعت کے خلاف مزید بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ جلد ناراض ہو جاتے ہیں اور آج کل تو ایک دوسرے سے بھی ناراض رہنے لگے ہیں۔

======================

وزیراعلی سندھ کی پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ ،طویل عرصے بعد ایک مفصل مدلل اور پرسکون پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ دیکھنے کو ملی ۔انتظامی کامیابی کا سہرا صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کے سر سجا ۔

تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے مالی سال برائے 2026 2027 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہر سال کی طرح پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ کے انعقاد کی روایت کو برقرار رکھا گیا پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ کا اہتمام سے اسمبلی کے بریفنگ ہال میں کیا گیا ۔ پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ سے خود وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ ،جام خان شورو ،مکیش کمار چاولہ ،چیف سیکرٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ
،سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ ، سیکرٹری ایکسائز سلیم راجپوت ، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن بھی وزیر اعلی کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھے ۔ وزیراعلی سید مناظر علی شاہ نے خود خطاب کیا اور اس کے بعد جو اپ کے سیشن کا انتظام صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے سپرد کر دیا اور انہوں نے یہ ذمہ داری بہت خوبصورتی اور با احسن طریقے سے انجام دی اور ایک طویل عرصے بعد پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ کا

انعقاد نہایت مفصل مدلل پرسکون انداز میں ہوا وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے نہایت تحمل اطمینان تفصیل اور دلیل کے ساتھ سوالات پر اپنے جواب دیے انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے سب کیس تیز ت سوالات کو سنا اور بڑی شائستگی اور مسکراہٹ کے ساتھ گفتگو کی مختلف سوالات پر معاملات کا پس منظر بھی بیان کیا ہلکی پھلکی تنز و مزاح کا سلسلہ بھی جاری رہا نہایت خوشگوار ماحول میں اور بڑے پرسکون انداز سے یہ میڈیا بریفنگ اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کی بھرپور کامیابی کا تمام تر سہرا وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے بعد صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے سر سجا جنہوں نے نہایت عمدگی خوبصورتی اور احسن طریقے سے اس میڈیا بریفنگ کی انتظامی ذمہ داری کو کامیابی سے انجام دیا ۔ GeographicReference

==========================

*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس*

*آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاق کو دفاعی ضروریات کےلیے فنڈز دیے، وزیراعلیٰ سندھ*

*سندھ کا مجموعی مالی خسارہ 300 ارب روپے ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ*

*گذشتہ سال ریکارڈ پی ایس ڈی پی دیا تاہم اس سال کوئی نئی اسکیم نہیں، وزیراعلیٰ سندھ*

*کیٹی بندر پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پورٹ بنائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قیام پر کام شروع کردیا گیا ، وزیراعلیٰ سندھ*

*گرین انرجی ڈیٹا سنٹر قائم کرکے بین الاقوامی کمپنیوں کو بجلی بیچیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*متوسط طبقے کو سولر سسٹم لگانے کےلیے آسان شرائط پر قرضے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے، مراد علی شاہ*

*پانی کی قلت پر تشویش ہے، وفاقی حکومت کے ساتھ مسئلہ اٹھایا ہے، وزیراعلیٰ سندھ*

*کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک جولائی کے اختتام تک بحال کر دی جائے گی، وزیراعلیٰ*

کراچی (18 جون): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال27-2026 کے لیے 3.652 کھرب روپے کے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دارانہ مالیاتی دستاویز قرار دیا ہے، جو وفاقی محصولات میں نمایاں کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود تیار کی گئی۔

سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے نہ صرف بجٹ کی تفصیلات بیان کیں بلکہ عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ایک طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی بھی پیش کی۔

*قومی دفاع کے لیے سندھ کا مالی تعاون*

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے قومی دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق آئین میں موجود اس شق پر پہلی مرتبہ عمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آئین میں یہ شق شامل کی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبوں نے اپنی مالی مشکلات کے باوجود وفاق کی معاونت پر اتفاق کیا ہے۔

*وفاقی محصولات میں 441 ارب روپے کی کمی*

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مئی 2026 تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 1.644 کھرب روپے موصول ہوئے، جو تخمینوں کے مقابلے میں 441 ارب روپے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک مزید 200 ارب روپے موصول ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کے باوجود تقریباً 250 ارب روپے کا خلا برقرار رہے گا۔

مراد علی شاہ کے مطابق صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 676 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن وصولیاں تقریباً 624 ارب روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، جس سے 52 ارب روپے کی کمی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی محصولات میں کمی کو ملا کر مجموعی مالی خسارہ تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔

*ترقیاتی پروگرام برقرار رکھنے کا دعویٰ*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ سال ایک ہزار 18 ارب روپے کے ریکارڈ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں سے 930 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران سندھ کو وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 2.263 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کا تخمینہ 456 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسائز ریونیو ہدف میں کمی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے کی اپنی آمدن کا تخمینہ 3.038 کھرب روپے ہے جبکہ وفاقی گرانٹس، غیر ملکی معاونت اور قرضوں کو شامل کرنے کے بعد مجموعی وصولیاں 3.525 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی۔

*اخراجات، تنخواہیں اور دفاعی گرانٹ*

مراد علی شاہ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 2.560 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں 260 ارب روپے کی وہ رقم بھی شامل ہے جو سندھ حکومت قومی دفاعی مقاصد کے لیے وفاقی حکومت کو آئینی گرانٹ کے طور پر فراہم کرے گی۔ اس رقم کو نکال دیا جائے تو صوبے کے انتظامی اخراجات تقریباً 2.3 کھرب روپے بنتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور متعلقہ اخراجات کے لیے 1.264 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2025 میں دیے گئے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

*جامعات، مقامی حکومتوں اور قرضوں کے لیے فنڈز*

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری جامعات کو 48 ارب روپے دیے جائیں گے۔ اسپتالوں، جامعات اور دیگر خودمختار اداروں سمیت مختلف اداروں کو مجموعی طور پر 686 ارب روپے گرانٹس کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 54.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

*کفایت شعاری اور ترقیاتی بجٹ میں کمی*

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات کو موجودہ مالی سال کے 61.87 ارب روپے سے کم کر کے 36 ارب روپے کر دیا ہے۔ وسائل کی کمی کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام کو گزشتہ سال کے ایک ہزار 18 ارب روپے سے کم کر کے 720 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاہم وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت نے نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ضلعی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 15 ارب روپے جبکہ پی پی پی منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

*کیٹی بندر پورٹ منصوبہ*

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری، نے حکومت کو چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے اور دور رس اثرات رکھنے والے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں کیٹی بندر گہرے سمندر کی بندرگاہ منصوبہ زیر غور ہے۔

ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اس منصوبے پر چینی شراکت داروں سے بات چیت کر چکے ہیں جبکہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور کمپنیوں سے مشاورت بھی شروع ہو چکی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بندرگاہ کو عوامی و نجی شراکت داری کے تحت تعمیر کیا جائے گا اور وفاقی حکومت کو بھی اس منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی قیادت کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ سندھ اور پاکستان کی بحری معیشت کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہوگا۔

*سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر*

وزیراعلیٰ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے اور تین ممکنہ مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی موجودہ مدت مکمل ہونے سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں ہوگی بلکہ تمام ضروری سہولیات، آلات، ٹیکنالوجی اور رابطہ کاری سے آراستہ ایک جدید مالیاتی مرکز ہوگا۔

*گرین انرجی ڈیٹا سینٹر*

مراد علی شاہ نے ایک اور بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گرین انرجی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تھر کے ترقیاتی ماڈل سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے پاس شمسی توانائی کے وافر وسائل موجود ہیں، لیکن وفاقی حکومت صوبے کی اضافی بجلی خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی۔ اسی لیے حکومت قابل تجدید توانائی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کو فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کو گرین ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کا اہم مرکز بنا سکتا ہے۔

*سولر توانائی اور زرعی اصلاحات*

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت غریب ترین خاندانوں میں مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کر رہی ہے جبکہ متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر شمسی نظام فراہم کرنے کی اسکیم بھی تیار کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ سندھ بینک اور محکمہ توانائی سندھ مشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے زرعی اجتماعی نظام سے متعلق قانون سازی کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت چھوٹے کسان اپنی زمینیں یکجا کر کے بڑے قرضوں، جدید آبپاشی نظام اور مشینی زراعت کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق سندھ کے 93 فیصد کسانوں کے پاس 25 ایکڑ سے کم زمین ہے، جس کی وجہ سے وہ روایتی زرعی مالیاتی پروگراموں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

*پی پی پی ماڈل کو عالمی پذیرائی*

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوامی و نجی شراکت داری منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور دیگر صوبے بھی اس ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے مائی بختاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دریائے سندھ پر بڑے پلوں اور مینگرووز بحالی و کاربن کریڈٹ پروگراموں کو کامیاب منصوبوں کی مثال قرار دیا۔ان کے مطابق وفاقی حکام نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ دیگر صوبوں کو سندھ کے پی پی پی ماڈل پر بریفنگ دی جائے۔

*پانی کی قلت پر شدید تشویش*

وزیراعلیٰ سندھ نے پانی کی شدید قلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس وقت 30 فیصد جبکہ پنجاب کو 11 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال سندھ کے کسانوں کے لیے انتہائی غیر منصفانہ ہے۔مراد علی شاہ نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارہ زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کر رہا۔ انہوں نے وفاقی حکام اور میڈیا سے بھی اس مسئلے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

*انفرااسٹرکچر، گورننس اور مستقبل کا لائحہ عمل*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک جولائی کے اختتام تک بحال کر دی جائے گی۔ انہوں نے منصوبے میں تاخیر کی وجہ ٹھیکیدار کی ناقص کارکردگی کو قرار دیا اور کہا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو ذمہ داری ملنے کے بعد کام کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے سکھر بیراج کی بحالی کا بھی ذکر کیا جہاں 44 دروازوں کی تبدیلی اور جدید کاری مکمل کی جا چکی ہے، جس سے بیراج کی عمر میں تقریباً 30 سال اضافہ ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بے ضابطگیوں پر معاہدے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور ذمہ دار افراد سے رقوم بھی وصول کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند خراب عناصر کو پورے نظام کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

*سیاسی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں مسترد*

پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے سیاسی تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے، قابل تجدید توانائی کے اقدامات اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی آنے والے برسوں میں سندھ کی معیشت کے لیے مثبت نتائج لائے گی۔
========================

بجٹ کی تیاری اور اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر وزیراعلی کی جانب سے سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی تعریف اور خراج تحسین ۔
19/06/2026 0 تبصرے 19 مناظر

بجٹ کی تیاری اور اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر وزیراعلی کی جانب سے سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی تعریف اور خراج تحسین ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے لیے مالی سال برائے 2026 2027 کے بجٹ کی تیاری اور مختلف معاملات پر اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر صوبائی سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی خوبصورت الفاظ میں تعریف کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعلی نے اسٹیج پر موجود سیکریٹری خزانہ سندھ فیاض جتوئی کو مخاطب کر کے مختلف فگرز پوچھے اور وہ فگرز انہوں نے فورا زبانی طور پر بالکل درست بیان کیے جس پر وزیراعلی نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فگرز ہمیشہ یاد رہتے ہیں میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ سب کچھ کیسے یاد رکھ لیتے ہیں لیکن خوشی ہوتی ہے کہ انہیں سب کچھ یاد ہوتا ہے اور یہ بالکل درست فگرز بتاتے ہیں اس موقع پر انہوں نے ایک واقعہ کا حوالہ بھی دیا کہ انہیں 12 مئی کی تاریخ بھی یاد ہے لیکن سیاسی حوالے سے جو 12 مئی کو یاد کیا جاتا ہے میں اس کی بات نہیں کر رہا ان کے ساتھ 12 مئی کو ایک اور واقعہ پیش ایا تھا جب سندھ پر ایک بم شیل گرا تھا میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن میں جانتا ہوں کہ ان کو 12 مئی کی تاریخ کیوں یاد رہتی ہے ۔وزیراعلی نے وزیر خزانہ کی تعریف کی اور ان سے مختلف فگرز کے حوالے سے مدد لیتے رہے ، وزیراعلی کی جانب سے وزیر خزانہ فیاض جتوئی کی زبردست تعریف اور خراج تحسین پیش کیے جانے کے بعد یہ عجیب حسن اتفاق تھا کہ کچھ معاملات میں فگرز کی بات ہوئی تو چیئرمین پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ نے فگرز کے حوالے سے لقمہ دینے کی کوشش کی ایسا انہوں نے دو تین بار کیا ۔ ان کی اس کوشش کو حاضرین نے نوٹ بھی کیا ۔ میڈیا بریفنگ کے بعد سرکاری افسران اور صحافیوں کی جانب سے سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی کو مبارکباد پیش کی گئی کہ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں دن رات ایک کر دیا اور بہت محنت سے یہ بجٹ تیار کیا اور وزیر اعلی کی طرف سے ان کی جو تعریف کی گئی اس پر بھی ساتھی افسران اور صحافیوں نے مبارکباد پیش کی ۔
==========================

بجٹ کی تیاری اور اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر وزیراعلی کی جانب سے سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی تعریف اور خراج تحسین ۔

بجٹ کی تیاری اور اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر وزیراعلی کی جانب سے سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی تعریف اور خراج تحسین ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے لیے مالی سال برائے 2026 2027 کے بجٹ کی تیاری اور مختلف معاملات پر اعداد و شمار کے حوالے سے زبردست حافظے پر صوبائی سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی کی خوبصورت الفاظ میں تعریف کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعلی نے اسٹیج پر موجود سیکریٹری خزانہ سندھ فیاض جتوئی کو مخاطب کر کے مختلف فگرز پوچھے اور وہ فگرز انہوں نے فورا زبانی طور پر بالکل درست بیان کیے جس پر وزیراعلی نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فگرز ہمیشہ یاد رہتے ہیں میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ سب کچھ کیسے یاد رکھ لیتے ہیں لیکن خوشی ہوتی ہے کہ انہیں سب کچھ یاد ہوتا ہے اور یہ بالکل درست فگرز بتاتے ہیں اس موقع پر انہوں نے ایک واقعہ کا حوالہ بھی دیا کہ انہیں 12 مئی کی تاریخ بھی یاد ہے لیکن سیاسی حوالے سے جو 12 مئی کو یاد کیا جاتا ہے میں اس کی بات نہیں کر رہا ان کے ساتھ 12 مئی کو ایک اور واقعہ پیش ایا تھا جب سندھ پر ایک بم شیل گرا تھا میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن میں جانتا ہوں کہ ان کو 12 مئی کی تاریخ کیوں یاد رہتی ہے ۔وزیراعلی نے وزیر خزانہ کی تعریف کی اور ان سے مختلف فگرز کے حوالے سے مدد لیتے رہے ، وزیراعلی کی جانب سے وزیر خزانہ فیاض جتوئی کی زبردست تعریف اور خراج تحسین پیش کیے جانے کے بعد یہ عجیب حسن اتفاق تھا کہ کچھ معاملات میں فگرز کی بات ہوئی تو چیئرمین پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ نے فگرز کے حوالے سے لقمہ دینے کی کوشش کی ایسا انہوں نے دو تین بار کیا ۔ ان کی اس کوشش کو حاضرین نے نوٹ بھی کیا ۔ میڈیا بریفنگ کے بعد سرکاری افسران اور صحافیوں کی جانب سے سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی کو مبارکباد پیش کی گئی کہ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں دن رات ایک کر دیا اور بہت محنت سے یہ بجٹ تیار کیا اور وزیر اعلی کی طرف سے ان کی جو تعریف کی گئی اس پر بھی ساتھی افسران اور صحافیوں نے مبارکباد پیش کی ۔
==========================

کراچی / وزیراعلیٰ ہاؤس / یکم جولائی 2026ء بمطابق 15 محرم الحرام 1448ھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا یومِ تنسیخِ ون یونٹ پر قوم کو مبارکباد کا پیغام

یومِ تنسیخِ ون یونٹ صوبائی خودمختاری اور جمہوری جدوجہد کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے، سید مراد علی شاہ

یکم جولائی 1970ء پاکستان کی وفاقی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ہے، وزیراعلیٰ سندھ

ون یونٹ کے خاتمے نے وفاقی اکائیوں کی شناخت اور حقوق کو بحال کیا، سید مراد علی شاہ

صوبوں کی خودمختاری ہی مضبوط اور مستحکم وفاق کی ضمانت ہے، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ کے عوام نے ون یونٹ کے خلاف تاریخی اور جراتمندانہ جدوجہد کی،سید مراد علی شاہ

ون یونٹ کے نفاذ نے صوبائی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا، وزیراعلیٰ سندھ

14 اکتوبر 1955ء کو ون یونٹ کا نفاذ کرکے صوبائی شناختیں مٹا دی گئیں، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد کی انفرادی حیثیت ختم کر دی گئی تھی، سید مراد علی شاہ

ہماری سیاسی، ادبی اور سماجی قیادت نے صوبائی حقوق کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا، وزیراعلیٰ سندھ

ون یونٹ کے خاتمے نے پاکستان میں جمہوری اور وفاقی نظام کو نئی زندگی دی، سید مراد علی شاہ

آئینِ پاکستان صوبائی خودمختاری اور وفاقی توازن کی ضمانت فراہم کرتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

صوبوں کے آئینی، انتظامی اور مالی حقوق کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، سید مراد علی شاہ

پاکستان کی مضبوطی تمام وفاقی اکائیوں کے مساوی حقوق اور احترام میں شامل ہے، وزیراعلیٰ سندھ

تاریخ نے ثابت کیا کہ قومی یکجہتی باہمی اعتماد اور مشاورت سے قائم ہوتی ہے، سید مراد علی شاہ

جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہی قومی استحکام کی بنیاد ہے، وزیراعلیٰ سندھ

پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق، جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کا دفاع کیا ہے، سید مراد علی شاہ

اٹھارویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری کے خواب کی عملی تعبیر ہے، وزیراعلیٰ سندھ

ہم ہر اس سوچ اور اقدام کی مخالفت کریں گے جو وفاقی اکائیوں کے حقوق کو متاثر کرے، سید مراد علی شاہ

صوبائی تشخص، ثقافت اور زبانوں کا تحفظ قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بناتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

یومِ تنسیخِ ون یونٹ آئین، جمہوریت اور وفاقی اصولوں سے وابستگی کا عہد یاد دلاتا ہے، سید مراد علی شاہ

صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ کا واضح مؤقف

ہم ایک مضبوط، متحد اور بااختیار وفاق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، سید مراد علی شاہ

عبدالرشید چنا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
============================

/ 30 جون 2026

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹنڈوآدم میں مبینہ طور پر 4 بچوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا

آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب، بچوں کی بازیابی کے لیے ہنگامی احکامات جاری

مبینہ طور پر اغوا کیے گئے 4 معصوم بچوں کو بازیاب کرانے کے لیئے والدین کو اعتماد میں لیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

منشیات فروشی کے الزامات اور بچوں کے اغوا کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ

عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ