پی ایس او کے سابق چیئرمین سہیل وجاہت ایچ صدیقی کی ادارے کے بارے میں اہم بات چیت


پی ایس او کے سابق چیئرمین سہیل وجاہت ایچ صدیقی کی ادارے کے بارے میں اہم بات چیت

تفصیلات کے مطابق 23 مارچ 2007 کو صدر پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز وصول کرنے والے پاکستان اسٹیٹ ائل کے سابق چیئرمین سہیل وجاہت ایچ صدیقی نے ایک انٹرویو میں اپنے اس ادارے کے بارے میں اہم بات چیت کی ہے یاد رہے کہ سہیل وجاہت ایچ صدیقی سیمنز پاکستان کے پہلے پاکستانی سربراہ تھے انہیں اوورسیز انویسٹرز چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری او ائی سی سی اینڈ ائی کہ صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور وہ مینجمنٹ ایسوسییشن اف پاکستان ایم اے پی کے صدر بھی بنے اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان اسٹیل کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسب بینک کے بورڈ ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں ای پی زیڈ اے ٹی ڈی اے پی سٹیوٹا ای ڈی بی اور پی ای سی میں بھی بورڈ ممبر بنایا اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان بزنس کونسل پی وی سی کے بورڈ ممبر کی حیثیت سے بھی فیض انجام دیے جبکہ مشہور اداروں نسٹ لمز ائی بی اے کیس بٹ میں بھی اہم فرائض انجام دیا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے ایک انٹرویو میں انہوں نے پی ایس او کے بارے میں بتایا کہ وہ اس کے چیئرمین رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کا 64 فیصد پی ایس او کنٹرول کرتا ہے اسے اب براہ راست یا بالواسطہ کہہ سکتے ہیں براہ راست 50 فیصد اور بالواسطہ طور پر 64 فیصد کیونکہ انرجی میں ائل گیس سب ا جاتا ہے ۔ان سے پوچھا گیا تھا کہ پی ایس او کے مسائل کیا ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایک دو کو چھوڑ کے سارے چیئرمین جیل گئے ہیں اور جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی اکانمی کو 64 فیصد کے حساب سے کنٹرول کرتا ہے تو اپ خود اندازہ لگا لیں اس کی طاقت اور اہمیت کتنی ہے ۔ ایسے چیز ہی ہے انہوں نے کہا کہ 26 اہم کمپنیاں ہیں جن کے ذریعے سیاستدان الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کہ خواہش مند ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں بڑے پڑھے لکھے اور لائق لوگ ہوتے ہیں اگر ڈائریکشن اچھی ملے تو نتائج بھی اچھے ہو سکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بے ایمانی کرنے کے لیے بھی لائق ہونا ضروری ہے جو لوگ ایجنسیوں سے کلیرنس حاصل کرنے کے بعد بڑے عہدوں پہ آتے ہیں زیادہ تر وہ ہی بعد میں پکڑے جاتے ہیں ۔انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یا تو میرا دماغ خراب تھا یا میں خود کو زیادہ بڑا طرم خان سمجھنے لگا تھا اور ساری چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ میں اچھی ڈائریکشن دے کر سب کچھ ٹھیک کرا لوں گا لیکن ایسا ہو نہیں سکتا تھا ۔