
سیسی کے آڈٹ آفیسر فرج علی قریشی کو مبینہ طور کو ایک اجر سے رشوت طلب کرنے کی تحریری شکایات پر کمشنر سیسی نے معطل کردیا
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں جہاں مسلسل مثبت تبدیلیوں کی خبریں آرہی ہیں، سیسی میں محنت کشوں و آجروں کی شکایات و رہنمائی کے لیے جہاں پہلی مرتبہ ہیلپ ڈیسک قائم کئی گئی ہیں
سیسی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن وکیل الدین شاہ نے مختلف شکایات اور بلخصوص مبینہ طور سوشل سیکورٹی کی انسپیکشن آف ریکارڈ کے نام ایک نجی کمپنی کے مالک سے مبینہ طور رشوت طلب کرنے سے متعلق شکایات پر زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، سٹی ڈائریکٹوریٹ کے اڈٹ آفیسر کی جانب سے ایک کمپنی کی سوشل سیکورٹی کی انسپیکشن کے نام پر مبینہ طور پر بھاری رشوت کی وصولی کے لیے غیر قانونی طور پر دباؤ ڈالنے کی شکایت پر سخت ایکشن لیا ہے
مذکورہ کمپنی کے مالک نے کمشنر سیسی کو اس حوالے سے اپنی شکایت درج کروائی تھی، جس پر کمشنر سیسی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کرتے ہوئے ہیڈ آفس رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں
صوبائی وزیر محنت سعید غنی کی جانب سے محکمہ محنت کے تمام ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو واضح طور ہدایت دی گئی ہیں کہ محنت کشوں کے اداروں میں بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے اور غیر قانونی عمل میں ملوث کسی بھی افسر کی شکایت موصول ہونے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گئی، یاد رہے کہ ایک ماہ قبل بھی سیسی کے گریڈ 19 اور 20 کے دو میڈیکل سپریڈنٹ سمیت کئی افسران کے خلاف بھی انتظامی کارروائی کی گئی ہے اور انھیں نا صرف معطل کیا گیا ہے بلکہ شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں، بہت عرصہ بعد سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی میں احتساب اور شفافیت کا عمل دیکھنے میں آیا ہے اور انتہائی با اثر افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا یے،


















































































