بورڈ افسران اور ملازمین نے طلبہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر نے منظم انداز میں عملے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی ملازمین زخمی ہوئے۔ ترجمان

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے
ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بورڈ افسران اور ملازمین نے طلبہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر نے منظم انداز میں عملے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی ملازمین زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق آن لائن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود بعض عناصر زبردستی فارم جمع کرانے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ تنظیموں اور بورڈ حکام نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ امتحانی عمل شفاف، پرامن اور بلاخوف جاری رکھا جا سکے۔

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعے پر اساتذہ و ملازمین کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سندھ سے فوری اور سخت کارروائی، شفاف تحقیقات اور امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، کراچی ریجن کے صدر پروفیسر آصف منیر اور دیگر رہنماؤں نے بورڈ آفس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ادارے پر نہیں بلکہ تعلیم پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایجنٹ مافیا طویل عرصے سے طلبہ سے بھتہ وصول کرنے اور نقل کے لیے دباؤ ڈالنے میں ملوث ہے، اور امتحانی فارم جمع کرانے کے نام پر غیر حاضر یا بیرون ملک موجود طلبہ کے لیے بھی غیر قانونی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ بورڈ حکام کے انکار پر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سپلا رہنماؤں نے وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سے مطالبہ کیا کہ بورڈ ملازمین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیر کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، سندھ ٹیچرز فورم نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ مافیا طلبہ اور والدین کا استحصال کر رہا ہے اور تعلیمی ماحول کو خراب کر رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق ہنگامہ آرائی سے طلبہ، اساتذہ اور عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے بورڈ آفس میں داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے اور امتحانات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔ ادھر آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن (ایپکا) کے بی آئی ای کراچی یونٹ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی عناصر نے بورڈ ملازمین پر حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے ملازمین پر طلبہ پر حملے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایپکا نے کہا کہ ایسے واقعات سے سرکاری اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے اور ملازمین میں عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ تنظیم نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں اسپیشل سیکریٹری اور چیئرمین ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ شامل ہیں۔ کمیٹی کو تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری میں جھڑپ کی وجوہات، امتحانی فارم جمع کرانے کے طریقہ کار، اور دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ادھر بورڈ ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بورڈ افسران اور ملازمین نے طلبہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر نے منظم انداز میں عملے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی ملازمین زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق آن لائن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود بعض عناصر زبردستی فارم جمع کرانے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ تنظیموں اور بورڈ حکام نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ امتحانی عمل شفاف، پرامن اور بلاخوف جاری رکھا جا سکے۔

کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے تحت گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کا آج سے آغاز ہوگا۔

اعلیٰ ثانوی بورڈ کراچی کے پرچے آج سے شروع ہورہے ہیں، چیئرمین انٹر بورڈ کراچی فقیر محمد لاکھو کے مطابق اس سال فیز ون میں پری انجینئرنگ پری میڈیکل ہوم اکنامکس اور جنرل گروپس کے امتحانات میں ایک لاکھ 59 ہزار 572 طلبہ و طالبات شریک ہوں گے۔

صبح میں ہونے والے پرچوں کے لیے 103 اور شام میں ہونے والے پرچوں کے 42 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں، جن میں 30 امتحانی مرکز نجی کالجز میں بنائے گئے ہیں، جبکہ 21 امتحانی مراکز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

صبح میں پرچوں کے لیے 27 سپر ویجیلنس کمیٹیاں ہیں، ناظم امتحانات کے مطابق ڈیجیٹل اٹینڈنس ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے جس سے پرچوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی، پرچوں کی ترسیل سے تقسیم تک تصاویر ضروری ہے اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ ہوگی جس کا مقصد پرچوں کی لیک کو روکنا ہے۔

لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے لیے کےالیکٹرک کو بھی خطوط لکھے ہیں، امتحانی مراکز کے اطراف میں دفعہ 144 کے تحت فوٹو شاپ کی دکانوں پر پابندی ہوگی، امتحانی مراکز میں غیرمتعلقہ افراد کا داخلہ منع ہے۔

=============================

کراچی: نجی اسکول کی طالبہ چوتھی منزل سے گر کر زخمی، دوران علاج دم توڑ گئی
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں اسکول کے اندر آٹھویں کلاس کی طالبہ پُراسرار طور پر چوتھی منزل سے گر کر جاں بحق ہو گئی۔

لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ’جیو نیوز‘ کو موصول ہو گئی۔

واقعہ 21 اپریل کو پیش آیا تھا جس کے بعد 15 سالہ کنزیٰ مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج تھی اور منگل کو نجی اسپتال میں انتقال کر گئی جس کے بعد لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

عباسی اسپتال میں کنزی کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی کو ملٹی پل فریکچر اور ہیڈ انجری تھی جس کی وجہ سے اس کے آپریشنز بھی ہوئے تھے، میں اب تک اپنی بیٹی کے علاج میں مصروف تھا۔

ابتدائی طور پر اسکول انتظامیہ نے طالبہ کے والد کو واقعے کو حادثہ بتایا تھا لیکن اب وہ اسکول کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ورثاء کے باضابطہ بیانات قلم بند کرنے کے بعد قانونی کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کنزیٰ اچانک زمین پر آ گری جس کے بعد وہاں موجود افراد فوری طور پر اس کی مدد کرنے آگے بڑھے۔
=====================

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اعلان کیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے سائنس پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، سائنس جنرل، ہوم اکنامکس،آرٹس ریگولر، آرٹس پرائیویٹ، خصوصی امیدواروں، ڈپلومہ ان فزیکل ایجوکیشن بشمول امپروومنٹ آف گریڈ/ڈویژن، ایڈیشنل سبجیکٹس، بینیفٹ کیسز، شارٹ سبجیکٹس، ٹی پی (بارہ پرچے) اور اسپیشل چانس کے سالانہ امتحانات برائے 2026 ء کے پہلے مرحلہ کا آغاز بروز بدھ 29 اپریل 2026ء سے ہورہا ہے۔ بروز پیر 15 جون 2026ء تک جاری رہنے والے ان امتحانات میں صبح اور شام کی شفٹوں میں 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شرکت کریں گے۔ صبح کی شفٹ میں (9بجے سے 12بجے تک)سائنس پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس جنرل اور ہوم اکنامکس گروپس کے امتحانات ہوں گے جس میں 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شریک ہوں گے جبکہ شام کی شفٹ میں (دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک)آرٹس ریگولر، آرٹس پرائیویٹ، خصوصی امیدواروں اور ڈپلومہ ان فزیکل ایجوکیشن کے امیدواروں کے امتحانات لیے جائیں گے جس میں 26 ہزار سے زائد امیدوار شرکت کریں گے۔ انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات برائے 2026ء کیلئے صبح اور شام کی شفٹوں میں مجموعی طور پر 175 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جس میں 130 امتحانی مراکز صبح کی شفٹ میں جبکہ 45 شام کی شفٹ میں بنائے گئے ہیں۔ صبح اور شام کی شفٹوں میں مجموعی طور پر 21 امتحانی مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
چیئرمین اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی فقیر محمد لاکھونے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شفاف اور پرامن امتحانات کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، اس سلسلے میں امن و امان، امتحانی مراکز کی سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ،بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور طبی سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے آئی جی پولیس سندھ، کمشنر کراچی، سیکرٹری کالجزایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ، سیکرٹری اسکولزایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ، ڈی آئی جی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی ریجن، ڈائریکٹر ساؤتھ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، سیکٹر کمانڈر سچل رینجرز،تمام ڈپٹی کمشنرز، کے الیکٹرک اور محکمہ صحت سندھ کو خطوط لکھ دیئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امتحانات میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے اور نقل کی روک تھام کیلئے کمشنر آفس کراچی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں دو مرکزی مانیٹرنگ سیل بنائے گئے ہیں،کسی بھی شکایت کی صورت میں کمشنر سیل میں موبائل نمبر 0300-2992728 اور انٹربورڈ آفس کنٹرول روم سیل کے نمبرز 021-99260200 03353971585 / 03213153099 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ چیئرمین انٹربورڈ کا کہنا تھا کہ امتحانات کے دوران گرمی کی شدت کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی خدمات حاصل کرنے کیلئے M/s Sindh Rehabilitation Department, Emergency & Rescue Service کو بھی محکمہ صحت سندھ کو لکھے گئے خط کی کاپی بھیج دی گئی ہے جس میں انہیں امتحانی مراکز پر فرسٹ ایڈ باکسز اور امتحانی مراکز کے قریب ایمبولینس سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کہا گیا ہے۔ چیئرمین فقیر محمد لاکھو نے بتایا کہ امتحانی نظام میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانے کیلئے پہلی مرتبہ ڈیجیٹل اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم (DAMS) متعارف کرایا گیا ہے۔اس جدید نظام کے تحت امتحانی عملے اور طلبہ کی حاضری کو ڈیجیٹل طریقے سے ریکارڈ کیا جائے گا۔ جس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ کسی بھی بے ضابطگی کی فوری نشاندہی ممکن ہوسکے گی۔ چیئرمین انٹربورڈ فقیر محمد لاکھو نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں امتحان شروع ہونے کے بعد پرچہ واٹس ایپ گروپس میں اپ لوڈ ہونے کی شکایات پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے مزید اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھی خط لکھ دیا گیا ہے تاکہ ایسے واٹس ایپ گروپس کے ایڈمن اور ممبرز کیخلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔چیئرمین انٹربورڈ نے مزید بتایا کہ نقل کی روک تھام کیلئے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، امتحانی مراکز میں طلباء کو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ اور الیکٹرانک ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، دوران امتحان کسی طالب علم کے پاس نقل کا مواد یا موبائل فون پایا گیا تو اسے پرچہ کی منسوخی یا تین سال تک امتحان دینے کیلئے نااہل قرار دینے کی سزا دی جائے گی،امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ ہوگی جس کے تحت امتحانی مراکز کے اطراف فوٹو اسٹیٹ مشینوں کی دکانیں کھولنے، امتحانی مراکز میں غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت پر سختی سے پابندی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امتحانی مراکز تک پرچوں کی بروقت اور بحفاظت ترسیل اور امتحان ختم ہونے کے بعد جوابی کاپیوں کے سربمہر پیکٹس بورڈ آفس پہنچانے کیلئے سینٹر کنٹرول آفیسرز جبکہ امتحانی عمل پر مسلسل نظر رکھنے کیلئے ہر امتحانی مرکز پر ویجی لینس آفیسر بھی تعینات کیے گئے ہیں،اس کے علاوہ امتحانی مراکز کی انتظامیہ کو دورانِ امتحانات طلباء کو تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔امتحان کے آغاز سے قبل پرچہ آؤٹ ہونے کی شکایت سے بچنے کیلئے سینٹر کنٹرول آفیسرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یہ امر یقینی بنائیں کہ امتحانی مراکز پر پرچہ سوالات کے سربمہر پیکٹس اور لفافے کھولتے وقت سینٹر سپرنٹنڈنٹس (پرنسپل) اور ویجی لینس آفیسر موجود ہوں جبکہ اس موقع پر ویڈیو بنا کر انٹربورڈ آفس کنٹرول روم کو بھی بھیجی جائے۔ چیئرمین انٹربورڈ نے بتایا کہ امتحانات میں شفافیت کیلئے ہر امتحانی مرکز کے پرچے میں اس امتحانی مرکز کا نام اور خفیہ کوڈ ڈالا گیا ہے۔ اگر کوئی پرچہ لیک ہوتا ہے تو اس کوڈ کی وجہ سے فوری طور پر پتا چل جائے گا کہ کس امتحانی مرکز سے پرچہ لیک ہوا ہے۔ چیئرمین بورڈ کا کہنا تھا کہ امتحانات میں نقل روکنے کیلئے بورڈ کی جانب سے 42 سپر ویجی لینس ٹیمیں بھی بنائی گئی ہیں جو پورے شہر میں امتحانی مراکز کے اچانک دورے کر کے وہاں موجود سہولیات اور امتحانی عمل کا جائزہ لیں گی۔چیئرمین انٹربورڈ فقیر محمدلاکھو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے شفاف اور منصفانہ امتحانات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔