
عارف حبیب گروپ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی بحالی کے لیے ایک مربوط اور مرحلہ وار ریکوری پلان پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد قومی ایئرلائن کو آپریشنل بحران سے نکال کر منافع بخش اور مسابقتی ادارہ بنانا ہے۔ عارف حبیب کی قیادت میں تیار کردہ حکمت عملی نے کارپوریٹ اور سرمایہ کار حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔موجودہ صورتحال کے مطابق پی آئی اے کے 30 طیاروں میں سے 18 طیارے آپریشنل ہیں جبکہ 5 سے 6 طیارے مرمت کے مراحل میں ہیں۔ عارف حبیب کے پیش کردہ منصوبے کا فوری ہدف بیڑے کو 26 طیاروں تک بحال کرنا ہے تاکہ پروازوں کا شیڈول بہتر ہو اور مسافروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ اس مرحلے میں تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے اور مینٹیننس کے عمل کو تیز کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔طویل المدتی وژن کے تحت عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کے بیڑے کو 60 طیاروں تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ توسیع مرحلہ وار کی جائے گی جس میں نئے روٹس کا اضافہ، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور کارگو آپریشنز کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

منصوبے میں فلیٹ آپٹیمائزیشن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاکہ فیول ایفیشنسی بہتر ہو اور آپریٹنگ لاگت کم کی جا سکے۔عارف حبیب کی یہ حکمت عملی صرف طیاروں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ آپریشنل نارملائزیشن پر بھی مرکوز ہے۔ اس میں سروس کوالٹی کی بہتری، بروقت پروازیں، کسٹمر سروس کی اپ گریڈیشن اور ادارے کے مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ وار اپروچ پی آئی اے کو مسلسل خسارے سے نکال کر پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔عارف حبیب گروپ ماضی میں بھی ملک کے بڑے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ اور کیپیٹل مارکیٹ کے ذریعے بحالی میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے۔ پی آئی اے کے لیے پیش کردہ یہ منصوبہ گروپ کی اسی مہارت اور وژن کا تسلسل ہے۔ سرمایہ کار برادری اس اقدام کو قومی ایئرلائن کے لیے نئی امید قرار دے رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس پر عملدرآمد سے نہ صرف پی آئی اے بلکہ ملکی ایوی ایشن سیکٹر کو بھی فروغ ملے گا۔


















































































