
ٹھٹھہ (جے پی) ور شہر کے قریب گاؤں بچو چاڑو کی رہائشی ایک ذہنی معذور خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرکے زبردستی نکاح کرانے اور اپنے اہل خانہ کے خلاف بیان نہ دینے پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کے سر کے بال کاٹ کر اس کی تذلیل کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون شازیہ چاڑو اپنی والدہ کزیبا، والد شاہ ڈنو اور ماموں شریف چاڑو کے ہمراہ مکلی پہنچ کر نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چند روز قبل علاقے کے بااثر افراد حسن مانجھریو پانڈھی مانجھریو اس کے بیٹے شہمیر اور دیگر افراد انہیں زبردستی اغوا کرکے لے گئے، جہاں ان کا شہمیر نامی شخص کے ساتھ زبردستی نکاح کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ کے خلاف بیان نہ دینے پر انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کراچی کے ایک علاقے میں رکھا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید تشدد کیا گیا اور ان کے سر کے بال کاٹ کر انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ کی والدہ کزیبا نے کہا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر ذلیل کیا گیا، آخر ان کی بیٹی کا قصور کیا تھا؟ متاثرہ کے ماموں شریف چاڑو نے الزام لگایا کہ ان کے گاؤں کے قریب رہنے والے حسن مانجھریو اور پانڈھی مانجھریو بااثر اور ظالم لوگ ہیں، جنہوں نے ان کی بھانجی کو اغوا کرکے زبردستی نکاح کرایا اور کئی روز تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ کے ورثاء نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق یہ معاملہ مبینہ طور پر رشتہ داری کے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل چاڑو برادری کے ایک نوجوان نے مانجھریو برادری کی ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی، جو اب بھی چاڑو برادری کے پاس رہ رہی ہے، اور اسی رنجش کے باعث مانجھریو برادری کے بعض افراد نے یہ کارروائی کی۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات متاثرہ فریق اور ذرائع کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ علاقے کی سماجی اور باشعور شخصیات نے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
==================
ٹھٹھہ(جے پی)شیخ زید اسپتال ساکرو میں دورانِ حاملہ 25 سالہ خاتون جاں بحق، ورثاء کا احتجاج، اسپتال میں ہنگامہ آرائی ۔ شیخ زید اسپتال ساکرو میں دورانِ حاملہ 25 سالہ خاتون انتقال کر گئی، جس کے بعد ورثاء نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران اسپتال انتظامیہ اور ورثاء کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی جبکہ توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں الیاس واریو کی رہائشی حاملہ خاتون نظیراں زوجہ اصغر واریو کو صبح شیخ زید اسپتال لایا گیا تھا، جہاں دورانِ ڈلیوری وہ جاں بحق ہوگئیں۔ ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کی موت ڈاکٹر کی غفلت کے باعث ہوئی۔ احتجاج کے دوران اسپتال کا صفائی کرنے والا ملازم کشور کمار بھی شدید زخمی ہوگیا۔ متوفیہ کی میت اسپتال سے ان کے آبائی گاؤں منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ ساکرو پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔ ورثاء کا مطالبہ ہے کہ مبینہ غفلت کے ذمہ دار ڈاکٹر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔


















































































