
ماں باپ کا لاڈلا
وطن پر قربان
عزم و ہمت کی عظیم داستان،
کیپٹن حسین جہانگیر شہید
نوید نقوی
=======
گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق بنیان مرصوص میں پاکستان نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو میدان جنگ میں عبرت ناک شکست دی تھی۔ عسکری سطح پر اس تاریخی کامیابی اور اب مشرق وسطیٰ میں خونریز جنگیں بند کروا کر سفارتی سطح پر بھی پاکستان اپنا ایک خاص مقام حاصل کر چکا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت کہ ان تمام کامیابیوں کے پیچھے غازیوں کی بہادری اور شہداء کا مقدس خون شامل ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور بھارتی پروردہ فتنوں کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور قربانیوں کی جنگ بھی ہے۔ ہمارا مشرقی ہمسایہ دہائیوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی مالی و عسکری مدد کر رہا ہے، لیکن اس کو ہمیشہ ہر شر انگیزی کے جواب میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل کر امید کی روشنیوں، ترقی، امن اور استحکام کی جانب گامزن ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو کسی بھی معاشرے کے امن، ترقی اور خوشحالی کو تباہ کر دیتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے اس لعنت کا شکار رہا ہے۔ دہشت گرد عناصر نے مساجد، امام بار گاہوں، مدارس، بازاروں، تعلیمی اداروں، چھاؤنیوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر ہزاروں بے گناہ جانیں لیں۔ تاہم پاکستان کی بہادر افواج نے قوم کے تعاون اور دعاؤں سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر بار ناکام بنایا۔
آپریشن ضربِ عضب، غضب للحق، ردالفساد اور دیگر عسکری کارروائیوں نے دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ شمالی وزیرستان، سوات، باجوڑ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے امن بحال کیا۔ سینکڑوں افسران اور ہزاروں جوان وطن کی خاطر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان و افسران شدید موسم، دشوار گزار پہاڑوں، تپتے ریگستانوں اور خطرناک موسمی حالات میں بھی وطن کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معرکہ حق بنیان مرصوص میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کامیابیوں کو سراہا گیا ہے۔


آج وطن عزیز پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے تو اس کے پیچھے مسلح افواج کے جوانوں و افسروں کی قربانیاں ہیں۔ پاکستان کی پاک سرزمین اسلام کا قلعہ ہے اور پوری امت مسلمہ پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے تو اس کی وجہ ان بہادروں کا مقدس خون ہے جو اس سوہنی دھرتی کے دفاع میں بہا ہے۔ آج بھارت کی ٹڈی دل افواج پاکستان پر دوبارہ جارحیت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گی تو اس کی وجہ مسلح افواج کے یہی بہادر سپوت ہیں۔ پاک وطن اپنے ان بہادر سپوتوں پر ہمیشہ ناز کرتا ہے جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے ہی عظیم سپاہیوں میں ایک روشن نام کیپٹن حسین جہانگیر شہید کا ہے، جنہوں نے ماں باپ کے لاڈلے ہوتے ہوئے بھی اپنی محبتوں، خواہشوں اور زندگی کو وطن عزیز پر قربان کر دیا۔ ان کی شہادت صرف ایک فرد کی قربانی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے عزم، حوصلے اور وفا کی لازوال داستان ہے۔ کیپٹن حسین جہانگیر شہید 18 فروری 1999 کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی ، FSC پنجاب گروپ آف کالجز رحیم یار خان کیمپس سے امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور پھر کاکول اکیڈمی میں 141 لانگ کورس میں سلیکٹ ہوئے اور اپنا خون وطن کی خاطر قربان کر دیا۔ کیپٹن حسین جہانگیر شہید کے والد محترم ڈاکٹر مسعود صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی فوج میں جانے کی خواہش رکھتے تھے۔ ہر سال چودہ اگست کو پورے گھر کو قومی پرچم والی جھنڈیوں سے سجاتے تھے اور فوجی وردی پہن کر ماں باپ سے فوج میں جانے کے لیے دعائیں منگواتے تھے۔ ان کے والد اپنے بیٹے کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے مزید بتاتے ہیں کہ کیپٹن حسین جہانگیر شہید بچپن ہی سے نہایت فرمانبردار، شریف النفس اور نرم طبیعت کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے بڑوں کا احترام کرتے اور چھوٹوں سے محبت کرتے تھے۔ جب بھی چھٹی کے بعد ڈیوٹی پر روانہ ہوتے تو اپنے والدہ کی قدم بوسی لازمی کرتے تھے۔ ان کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ پانچ وقت کی نماز کے پابند تھے اور دین سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کی پسندیدہ شخصیت حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام تھی اور انہوں نے بچپن میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں بھی دیکھا تھا۔ ڈاکٹر مسعود صاحب نے مزید بتایا کہ حسین بابا تین بہنوں کے بعد بڑی منتوں مرادوں اور دعاؤں کے بعد پیدا ہونے تو ان کی والدہ نے خواب میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ میری امانت ہے ، اس کو دو سال دودھ پلائیں اور اس کا خیال رکھیں۔ شہید کے والد کے مطابق جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر والدہ نے بھی کمال صبر کا مظاہرہ کیا اور کہا، میرا بیٹا شہید ہوا ہے، اس پر رونا پیٹنا نہیں بلکہ فخر کرنا چاہیئے ۔ اللہ پاک نے میرے بیٹے کی خواہش پوری کر دی ہے، میرے بیٹے نے اسوہ حسین علیہ السلام پر عمل کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔ ڈاکٹر مسعود صاحب اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہادت سے پہلے آخری عید الفطر پر گھر آئے تو بڑی بہنوں سے عیدی لی جبکہ چھوٹے بھائی کو عیدی دی، اس کے علاؤہ ماں کو بھی تیس ہزار عیدی دی اور شہادت کی دعا مانگنے کی بار بار درخواست کی، اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد بلال سے ساری رات شہادت کی خواہش کرتے ہوئے اسلام کی ابتدائی جنگی تاریخ پر گفتگو کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ کیپٹن حسین شہید خارجیوں کو اچھی طرح پہچانتا تھا کہ یہ بیگناہوں کا خون کرتے ہیں، یہ بچوں ، جوانوں ، عورتوں اور بوڑھوں تک کو قتل کر دیتے ہیں ، یہ انسان نہیں بلکہ درندے ہیں۔ ان خارجیوں کا خاتمہ پاکستان کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ He was very clarified regarding Khawarji شہادت والی رات کو جب انہوں نے ایک مشکل اور پیچیدہ آپریشن پر جانا تھا تو اپنی ماں کو کال کی اور دعا کی درخواست کی، ماں نے کہا بیٹا گھبرانا نہیں، جواب میں کہا کہ ماں آپ مجھے جانتی نہیں ہیں، میرا نام حسین ہے اور میں حسین بادشاہ کا پیروکار ہوں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، میں اتوار کو آپ کے پاس انشاء اللہ تعالیٰ لازمی آجاؤں گا ، تو وہ اتوار کو آیا لیکن سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا ، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ماں کے پاس اپنے وعدے کے مطابق اتوار کو ہی پہنچا۔ دہشت گردوں کے خلاف جب آپریشن کیا گیا تو انہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور زخمی ہونے کے باوجود دہشت گردوں کا پیچھا جاری رکھا اور کافی خوارج کو واصل جہنم کیا۔ زخموں سے چور ہونے کے باوجود لڑائی جاری رکھی اور آخر کار اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے وطن پر قربان ہو گئے۔
جواں وہی ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا، 
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری
اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر،
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری،
نگاہِ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو،
یہ بے کلاہ ہے سرمایۂ کلاہ داری!
رحیم یار خان کا فخر کیپٹن حسین جہانگیر شہید نے 141 پی ایم اے لانگ کورس کے ساتھ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی سے عسکری تربیت کی تکمیل پر 5 اپریل 2020 کو 16 پنجاب رجمنٹ (غازیانِ ڈوگرئی) میں کمیشن حاصل کیا۔ یونٹ اس وقت جھاڑی کس کے مقام پر تعینات تھی۔
کیپٹن حسین جہانگیر نے ابتدا میں بطور IO اور پلاٹون کمانڈر اپنے فرائض سرانجام دئیے۔ بطور کمانڈو پلاٹون کمانڈر، اپنی سپاہیانہ ذہنیت اور جسمانی تندرستی کا لوہا منواتے ہوئے کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی تمام یونٹ معترف ہے۔ کھیلوں کے میدان میں کئی ٹیمز کے ساتھ کرکٹ، بیس بال اور ہاکی جیسے کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے سپاہ کے دل جیتے۔
13 فروری 2022 کو Basic Commando Course کی تکمیل کے بعد 7 لائٹ کمانڈو میں شمولیت اختیار کی اور اپنی یونٹ کے ہمراہ انتہائی دلیری اور بہادری سے کئی آپریشنز میں حصہ لیا۔ 26 مئی 2024 کو حسن خیل کے مقام پر ایک دہشتگرد تربیتی کیمپ پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے کیپٹن حسین جہانگیر نے جامِ شہادت نوش کیا۔ بعد از شہادت، حکومتِ پاکستان نے کیپٹن حسین جہانگیر کو تمغۂ بسالت کے اعزاز سے نوازا۔ ان کی یونٹ ہمیشہ ان پر فخر کرتی ہے۔
16 پنجاب رجمنٹ اور پاکستان آرمی کیپٹن حسین جہانگیر شہید کی اس لازوال قربانی کی احسان مند اور معترف ہے۔ کیپٹن حسین جہانگیر شہید کا جنازہ رحیم یار خان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا اور ہزاروں لوگوں نے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا۔
نظر اللّٰہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور،
موت کیا شے ہے فقط عالمِ معنی کا سفر۔
ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ،
قدر و قیمت میں ہے خوں جس کا حرم سے بڑھ کر!
کیپٹن حسین جہانگیر شہید ایک بہادر، نڈر اور باکردار فوجی افسر تھے۔ ان کی شخصیت میں شرافت، نظم و ضبط اور حب الوطنی نمایاں تھی۔ وہ نہ صرف اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا تھے بلکہ اپنے ساتھیوں اور ماتحت جوانوں کے لیے بھی مثال تھے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی اور دل میں وطن کی محبت موجزن رہتی تھی۔
جب وطن نے پکارا تو انہوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر لبیک کہا۔ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرض کی ادائیگی میں مصروف رہے اور آخرکار جام شہادت نوش کر لیا۔ ان کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سرزمین بہادروں سے خالی نہیں۔
ماں باپ کے لیے اولاد کا غم سب سے بڑا غم ہوتا ہے، مگر وہ والدین عظیم ہوتے ہیں جو اپنے لختِ جگر کو وطن پر قربان ہوتے دیکھ کر صبر اور فخر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیپٹن حسین جہانگیر شہید کے والدین یقیناً غمزدہ ہوں گے، مگر ان کے دل میں یہ سکون بھی ہوگا کہ ان کا بیٹا قوم کا ہیرو بن گیا۔
قومیں اپنے شہداء کی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر آج ہم امن کی سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے ایسے ہی جوانوں کا لہو شامل ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے شہداء کو یاد رکھیں، ان کے خاندانوں کا احترام کریں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔
کیپٹن حسین جہانگیر شہید ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ سلام ہے ایسے سپوت پر جس نے ثابت کر دیا کہ ماں باپ کا لاڈلا بھی جب وطن کی بات آئے تو اپنی جان نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد رہے۔ دشمن قوتیں پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی ہیں، لیکن قومی یکجہتی اور اتحاد ہی ان سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیئے کہ وہ انتہا پسندی اور نفرت انگیز نظریات سے دور رہتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ شہداء کا خون اس وطن کی سلامتی، آزادی اور استحکام کی ضمانت ہے۔ قوم اپنے بہادر سپاہیوں اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کو محفوظ بنایا۔ ہمیں عہد کرنا چاہیئے کہ ہم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور ایک پرامن، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔


















































































