اُنہوں نے جو کمال کردکھایا وہ وطن عزیز میں بھی دکھائیں

تحریر: سہیل دانش
کئی دھائیاں گزرگئیں، اٹلی سے تعلق رکھنے والی شہرہ آفاق صحافی اور یانافلاسی نے دنیا کی اعلیٰ اور طاقتور ترین نامور شخصیات سے یکے بعد دیگرے انٹرویوز کئے۔ فلاسی نے اِن شخصیات کی زندگی کے روشن پہلوؤں، کارناموں، تاریخ ساز فیصلوں کے ساتھ ساتھ بڑی باریکی اور احتیاط سے اُن سے جڑی تاریک اور کڑوی کسیلی حقیقتوں کو بھی بیان کیا، فلاسی نے اُس وقت امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر کے ساتھ اپنی گفتگو کا احوال کا آغاز کچھ اس طرح کیا “دنیا میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو جب چاہے صدر امریکہ کو نیند سے بیدار کرکے اُن سے بات کرسکتا ہے۔ ایسا شخص جو روسی صدر کی ہاٹ لائن پر گھنٹی جب چاہے بجاسکتا ہے جو بیجنگ میں چینی صدر سے محض ایک فون کال دور ہے جو لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مکین اور پیرس میں واقع ایلسی پیلس میں فرانسیسی صدر سے جب چاہے بغیر کسی پروٹوکول کے رابطہ کرسکتا ہے اور وہ شخص ہنری کسنجر ہے۔ آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جی ہاں آج کی جدید دنیا میں جب یہ کرہ ارض ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگیا ہے۔ جہاں جنگیں وڈیو گیمز کی طرح لڑی جارہی ہیں۔ جہاں تاریخ ساز معاہدہ کی ڈیجیٹل انداز میں توثیق کی جارہی ہے، جہاں انسانی ایجادات نے خود انسانی عقل کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ وہیں خوش بختی پاکستان پر مہربان دکھائی دے رہی ہے، کیا کوئی سوچ سکتا تھا، امریکہ اور ایران کے مابین جنگ اسے رکوانے، جنگ بندی کے لئے کی جانے والی کوشش اور سفارتکاری پر دونوں متحارب فریقوں کو امن پر قائل کرنے کی پاکستانی کوششوں نے خصوصاً اِس خطے اور عمومی طور پر پوری دنیا پر چھائی ہوئی غیر یقینیوں کے بادل یکدم چھٹ جائیں گے۔ اس پر پوری دنیا ششدر ہوگئی ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ مسائل کی جڑ کہلانے والا ملک اس طرح عالمی امن اور ثالثی کا سب سے اہم کھلاڑی بن جائے گا۔ یہ راستے عبور کرنے کے لئے ہمیں کتنی مزاحمت کا سامنا رہا۔ کتنے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ کتنی دشوار گزار گھاٹیاں عبور کرنی پڑیں۔ خود کو حقیقی نیوٹرل امپائر ثابت کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑے۔ تہران اور واشنگٹن کا نقطہ نظر ایک دوسرے کو بتلانے اور اُنہیں معقول روئیے اختیار کرنے پر قائل کرنے کا حیران کُن کارنامہ انجام دیا۔ جی ہاں یہ کارنامہ انجام دینے میں سب سے کلیدی رول فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ادا کیا۔ اگر اُس وقت ہنری کسنجر ایک ایسا شخص تھا۔ تو آج جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے یہ عزت بخشی کہ وہ نہ صرف صدر امریکہ کا فیوریٹ ہے بلکہ وہ اُن کی صلاحیتوں کے متعرف بھی ہیں آج فیلڈ مارشل دنیا کی وہ شخصیت ہیں جو کریملن میں روسی صدر اور بیجنگ میں چینی صدر سے بلا جھجھک رابطہ کرسکتے ہیں۔ وہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں برطانوی وزیراعظم تک بلا رُکاوٹ اپنا نقطہ نظر پیش کرسکتے ہیں پیرس میں ایلسی پیلس کے مکین کے ساتھ ساتھ وہ سعودی عرب قطر متحدہ عرب امارات، اُردن کے شاہی محلوں میں رہنے والے بادشاہوں سے جب چاہیں رابطہ کرسکتے ہیں۔ ایک ایسا بااثر فوجی کمانڈر جو اپنے ملک کی طاقتور ترین شخصیت ہیں۔ کیا یہ اُن کے لئے ایک امتحان نہیں کہ اپنی حکمت عملی اور حیران کن سفارتی صلاحیتوں کی بدولت جہاں اُنہوں نے دنیا کو ایک بڑی ہولناک جنگی اور معاشی تباہی سے بچانے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہاں وہ اپنے ملک کے اندر بھی عوام اور ریاست کے مابین مثالی ہم اآہنگی کے راستے استوار کرسکیں۔ وہ اِس بات کا جائزہ لیں کہ ملک کے وسائل کو کس طرح Explore کرکے معاشی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اپنا کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں۔ مہنگائی بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے آخر کیا جتن کیا جائے کیا اقدامات کئے جائیں جو اِس ملک کے غریب عوام کے لئے راحت کا سبب بن سکیں۔ کیا فیلڈ مارشل ایسا کرنے کا ارادہ کرسکتے ہیں یقین جانیں وہ ایسا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے کرپشن سے پاک اور انصاف کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں بہت کچھ بدل سکتی ہیں۔ بین الاقوامی اعتبار سے کامیابی کی اِس چمک دمک میں دیکھنا یہ ہوگا کہ وطن عزیز کے لئے آپ اس کامیابی کو کس طرح Translate کریں گے کیونکہ یہاں آپ سب کچھ بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں جب آپ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر وہ کچھ کرسکتے ہیں جو یواین، عرب لیگ، او آئی سی اور یورپی یونین نہ کرسکی وہ آپ نے کردکھایا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اِس قوم کا مقدر نہیں بدلا جاسکتا۔ چین سمیت کتنی اقوام ہیں جنہوں نے جدید دور میں ترقی و تبدیلی کے معجزات کردکھائے ہیں۔ اِس کا صرف ایک فارمولا ہے ٹرانسپرنسی اور میرٹ۔ خدا کے لئے اِس قوم کے ساتھ انصاف کرجائیں۔ قدرت نے آپ کو یہ موقع دیا ہے۔ بس 80 سال سے اقتدار کے دروازے پر کھڑے اِس ہجوم کو ایک قوم بنادیں۔ اگر آپ یہ کرپائے تو یہ قوم آپ کو اپنے محسن کے طور پر یاد رکھے گی۔ کیونکہ آپ کے پاس بہت کچھ کرنے کی طاقت بھی اور صلاحیت بھی۔ تاریخ کا سبق یہ ہے جی ہاں تاریخ صرف اور صرف اُن قبروں پر رُکتی ہے جہاں انسانوں کے نجات دہندہ سوئے ہوتے ہیں۔