
ون پوائنٹ
نوید نقوی
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی، خوشحالی اور عظمت کی منزلیں طے کرتی ہیں جن کے افراد عزمِ صمیم، مستقل مزاجی اور بلند حوصلے کے مالک ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے عوامی شعور کے ساتھ ساتھ لیڈر شپ کا کمٹڈ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ لیڈر شپ کا کمٹڈ ہونا دراصل وہ مضبوط ارادہ ہے جو انسان کو مشکلات، رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باوجود اپنے مقصد کی جانب بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وصف افراد کو کامیاب اور قوموں کو عظیم بناتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی کامیابی کا سفر آسان حالات میں نہیں بلکہ بے شمار چیلنجز کا سامنا اور ان پر قابو پاتے ہوئے طے کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان مکمل تباہی کا شکار تھا، لیکن مخلص لیڈر شپ، اس کے عوام کے عزم، محنت اور نظم و ضبط نے اسے دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ آج جاپان ایک برانڈ ہے اور پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ اسی طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنے قومی عزم اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ترقی کی منازل حاصل کیں۔ یہ ایک حقیقت ہے وہ قومیں یا ممالک یقیناً خوش قسمت ہیں جن کو دنیا میں اپنے جغرافیے یا غیر معمولی طاقت کی وجہ سے ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے۔ عالمی سیاست میں بعض ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی بصیرت اور متوازن خارجہ پالیسی کے باعث ایسے کردار ادا کرتے ہیں جو تاریخ میں ایک مثبت اور تاریخی مثال بن جاتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے مختلف ادوار میں نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج سے دہائیوں قبل چین امریکا مذاکرات کروانے سے لے کر ، موجودہ ایران امریکہ جنگ بندی اور پھر ایک ایسا معاہدہ کرانا جس کی وجہ سے پوری دنیا خوش ہے۔ یہ پاکستان کا کمال ہے۔ آج جب دنیا تنازعات، جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے دور سے گزر رہی ہے تو پاکستان ایک بار پھر امن، مذاکرات اور مفاہمت کی آواز بن کر ابھر رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان کو اکثر علاقائی اور عالمی سیاسی بساط پر “کنگ میکر” کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اپنی اسٹریٹجک اہمیت، مضبوط فوجی قوت، گہرے سفارتی روابط اور حساس جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان مختلف عالمی معاملات میں ایک اہم فریق رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے امریکہ سمیت کئی ممالک کو طاقتور بننے کے لیے کنگ میکر کا رول ادا کیا، جس کی وجہ سے روس جیسے طاقتور ملک کا زوال ہوا جو پاکستانی بندرگاہوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو مزید متوازن اور امن دوست انداز میں آگے بڑھایا اور اب وہ ایک “پیس میکر” کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو چکا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد خطے سمیت دنیا بھر میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی مختلف عالمی اور علاقائی تنازعات میں مفاہمت اور مذاکرات کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے جبکہ امریکہ عالمی سیاست اور معیشت کی ایک بڑی طاقت ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اسے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر اہم بناتے ہیں۔ آج جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور پھر امن معاہدہ ہو چکا ہے، فریقین پاکستان اور پاکستانی قیادت کا بار بار شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر وہ کام کیا ہے، جو اقوام متحدہ سمیت کسی طاقتور ملک کے بس میں بھی نہیں تھا۔ ایران امریکہ جنگ اور پھر آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتوں کو دھچکا لگا اور پوری دنیا چاہتی تھی کہ یہ جنگ ختم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پاکستانی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ایران امریکہ کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے، نہ صرف تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آئی بلکہ دنیا بھر کے عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ دنیا بھر کے اہم ترین لیڈر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ سال معرکہ حق میں بھارت کو تاریخی شکست دینے کے بعد پاکستان عسکری صلاحیتوں کو دنیا بھر سے منوانے میں کامیاب ہوا اور اب پیس میکر کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بھی منوا چکا ہے۔
پاکستان کی قیادت بارہا اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ خطے میں پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مختلف تنازعات میں مذاکرات، سفارت کاری اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی امن دوست پالیسی نہ صرف اس کے قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے بلکہ یہ پورے خطے کے عوام کے لیے بھی امید کی کرن ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے امن کا قیام صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا اجتماعی فریضہ ہے۔ جب ایک ملک اپنے قومی مفادات کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام کو بھی اہمیت دیتا ہے تو اس کی ساکھ عالمی برادری میں مزید مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے کر بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر یقین رکھتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کامیابیوں، قومی اتحاد اور معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنائے۔ امن کا پیغام، باہمی احترام اور تعاون کا جذبہ ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام سب مل کر ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں مصروف ہو جائیں جو امن، ترقی اور استحکام کی علامت ہو۔ دنیا بیشک مضبوط معیشت اور طاقتور حیثیت کے ممالک کا احترام کرتی ہے۔ آج پاکستان ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
بلاشبہ کنگ میکر سے پیس میکر تک کا سفر ایک ذمہ دار، باوقار اور دور اندیش پاکستان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر پاکستان اسی جذبے اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن اور استحکام کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان کو بھی آج مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ پناہ صلاحیتوں اور وسائل سے مالا مال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں، تعلیم اور تحقیق کو فروغ دیں، قانون کی پاسداری کریں، اپنی افواج کو مزید مضبوط بنائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھائیں۔ جب پوری قوم ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو مشکلات خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔


















































































