سندہ انفارمیشن کمیشن و پاکستان انفارمیشن کمیشن کے مابین اجلاس-آر ٹی آئی قوانین کے مؤثر استعمال کے لیے رولنگ کمیٹی کے قیام کی تجویز پر اتفاق

کراچی
مور خہ 30 اپریل 2026

سندہ انفارمیشن کمیشن و پاکستان انفارمیشن کمیشن کے مابین اجلاس-آر ٹی آئی قوانین کے مؤثر استعمال کے لیے رولنگ کمیٹی کے قیام کی تجویز پر اتفاق
کراچی، 30 اپریل۔آر ٹی آئی قوانین کا جائزہ لینے اور ان میں بہتری لانے کی کوششوں کے سلسلے میں سندہ انفارمیشن کمیشن کے اراکین جناب محمد سلیم خان اور جناب نور محمد دایو نے اسلام آباد میں پاکستان انفارمیشن کمیشن جیئرمیں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر انہوں نے چیئرمین جناب شعیب احمد صدیقی اور رکن جناب اعجاز حسین اعوان کے ساتھ آر ٹی ائی قانون کے مزید موثر نفاذ پر تفصیلی بات چیت کی۔ملاقات کے دوران ملک بھر کے تمام انفارمیشن کمشنز کی مشاورت سے آر ٹی آئی قوانین کے لیے اصلاح شدہ قواعد کی تیاری پر تفصیلی گفتگو کی گئی -سندھ انفارمیشن کمیشن نے تجویز پیش کی کہ معروف ماہرین قانون، متعلقہ فریقین اور انفارمیشن کمشنرز پر مشتمل ایک رولنگ کمیٹی قائم کی جائے، جو باہمی مشاورت کے ذریعے پورے پاکستان میں یکساں قواعد وضع کرنے کے لیے کام کرے۔ملاقات میں آر ٹی آئی قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی تعاون، شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قوانین کے مؤثر استعمال کی اہمیت، شہریوں کو معلومات تک آسان رسائی کی فراہمی، اور ادارہ جاتی شفافیت و احتساب کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو میں عوامی آگاہی میں اضافے، سرکاری اداروں کی استعداد کار میں بہتری، اور معلومات کی بروقت اور پیشگی فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ شفاف طرز حکمرانی کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران کی تربیت کے اقدامات اور شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق کے مؤثر استعمال میں سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔پاکستاں انفارمیشن کمیشن نے آر ٹی آئی قوانین میں بہتری کے لیے سندھ انفارمیشن کمیشن کی کاوشوں کو سراہا اور مشترکہ رولنگ کمیٹی کے قیام کی تجویز کو قابل تحسین قرار دیا۔
سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے جناب شعیب احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آر ٹی آئی قوانین کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی فراہم کی۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تکنیکی معاونت، موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم، اور پالیسی سازی کے امور پر باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں میں شفافیت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے آر ٹی آئی قوانین پر مشاورت کے لیے پنجاب انفارمیشن کمیشن کا بھی دورہ کیا تھا۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 418۔۔۔

کراچی30 اپریل۔صوبہ سندھ میں آبی شعبے کی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدید کاری کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی، جام خان شورو کی صدارت میں ورلڈ بینک کے SWAT منصوبے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد میں ٹاسک ٹیم لیڈر فرانسوا اونی مس، سینئرواٹرریسورسزاسپیشلسٹ زیلالم میکنن، اور سینئر واٹر ریسورسزمینجمنٹ اسپیشلسٹ ہیبا احمد شریک تھیں، جبکہ سیڈا کے ایم ڈی منصور میمن، پی سی ایم یو کے نذیر احمد، اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی اور مختلف منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ورلڈ بینک کے وفد نے صوبائی وزیر کو منصوبے کی مجموعی پیشرفت اور اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بریفنگ دی، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے واٹر لا کی تیاری،سندھ کے جامع واٹر پلان کی تشکیل، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور نہروں کی مرمت و جدیدکاری جیسے اقدامات پر غور کیا گیا۔اس موقع پر پانی کی منصفانہ تقسیم، ضیاع میں کمی، اور کسانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی پر بھی زور دیا گیا.ترجمان کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ بیراجز امپروومنٹ منصوبے کے تحت گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر گیٹس کی تبدیلی کا کام تیزی سے جاری ہے، جس سے پانی کی ترسیل کا نظام مزید بہتر ہوگا۔صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ سندھ میں پانی کے مؤثر اور بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اور حکومت اس شعبے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ زراعت اور معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار آبی انتظام کے ذریعے سندھ کو مزید مستحکم اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جائے گا۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 419۔۔۔آئی ایس

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ 30 اپریل 2026

سندھ میں دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے لائیو اسٹاک کھاتہ اور GCLI کے درمیان معاہدہ
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مالوندوں (لہہ داروں) کی خوشحالی، سندھ حکومت کا بڑا قدم
سندھ کے مالوندوں کو گھر بیٹھے جدید نسل کے بیج ملیں گے، محمد علی ملکانی
صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی خصوصی دلچسپی سے سندھ میں لائیو اسٹاک شعبے کی بہتری کے لیے ایم او یو پر دستخط
سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم حسین جتوئی کی نگرانی میں تاریخی معاہدہ؛ ملکی معیشت کو فروغ ملے گا
سندھ میں لائیو اسٹاک کی جدید بریڈنگ سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا: سیکریٹری لائیو اسٹاک
کراچی 30 اپریل۔ سندھ میں جانوروں کے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے کے لیے لائیو اسٹاک کھاتہ میں سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم حسین جتوئی کی نگرانی میں ایک ایم او یو (MoU) سائن کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ ایم او یو GCLI (گرین کوآپریٹو لائیو اسٹاک انیشیٹو) کے نمائندوں، جن میں چیف آپریٹنگ آفیسر بریگیڈیئر احتشام اور بریگیڈیئر توحید کی قیادت میں آئی ہوئی ٹیم اور لائیو اسٹاک کھاتہ کے اعلیٰ افسران کی ٹیم کے درمیان سائن ہوا۔ایم او یو کے تحت GCLI پورے سندھ میں ‘سیکسڈ سیمن’ (Sexed Semen) کے ذریعے نر اور مادہ نسل کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سندھ کے مالوندوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر جدید نسل کے بیج فراہم کرے گی۔ اس جدید طریقے سے جانوروں میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جبکہ ایکسپورٹ کی صورت میں ملک کو زرمبادلہ کمانے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔ یہ پروگرام لائیو اسٹاک کھاتہ کے اینیمل بریڈنگ ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال الدین جونیجو کی سربراہی میں شروع کیا جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کاظم حسین جتوئی نے کہا کہ صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی خصوصی دلچسپی لینے سے سندھ کے مالوندوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع پیدا ہوا ہے، جس سے وہ خوشحالی کی طرف قدم بڑھائیں گے اور ملکی معیشت کو بھی بڑی تقویت ملے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو، ڈپٹی سیکریٹری اسٹاف محمد عمران، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک فارمز اینڈ ایکسٹینشن ڈاکٹر مبارک جتوئی، رجسٹرار لائیو اسٹاک بریڈنگ اتھارٹی ڈاکٹر اقتدار میمن، ڈائریکٹر اینیمل بریڈنگ ڈاکٹر جمال الدین جونیجو، ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک عبدالباقی بلو اور ڈاکٹر عبدالمنان کھوکھر بھی شامل تھے، جبکہ GCLI کی جانب سے ایم او یو پر دستخط بریگیڈیئر احتشام نے کیے اور لائیو اسٹاک کھاتہ کی جانب سے ڈائریکٹر اینیمل بریڈنگ ڈاکٹر جمال الدین جونیجو نے دستخط کیے۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 420۔۔۔۔

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ 30 اپریل 2026

*سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی درسی کتب شائع کرنے کا فیصلہ*

*ہندو طلبہ کو اخلاقیات کی بجائے اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق دے کر ہم نے اخلاقی ذمہ داری پوری کی ہے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ*

کراچی 30 اپریل ۔ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور شمولیتی تعلیمی اقدامات کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کو ان کے اپنے مذہب کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے مذہبی درسی کتب شائع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے جماعت سوم تا پنجم کے ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب کی اشاعت اور تقسیم کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ہندو سنتھا سمیت متعلقہ نمائندہ اداروں اور ماہرین سے مشاورت کے بعد نصابی مواد کی تیاری اور اشاعت کی اجازت دی گئی ہے۔اس حوالے سے اپنے بیان میں وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو رواداری کے اصولوں کے تحت ان کے مذہبی حقوق فراہم کرنا سندھ حکومت کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے وہ اقدام کیا ہے جو ملک کے قیامِ کے ابتدائی دنوں میں ہی ہو جانا چاہیے تھا۔”صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ان کے مذہب کی تعلیم دینے کے بجائے اخلاقیات کا مضمون پڑھایا جاتا تھا، تاہم اب حکومت اس حق کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ہندو طلبہ کو ان کے مذہب کی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم کسی بھی مذہبی برادری کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ ہندو طلبہ کو اخلاقیات کی بجائے اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق دے کر ہم نے اخلاقی ذمہ داری پوری کردی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ شمولیتی اور روادار معاشرے کے قیام پر یقین رکھتی ہے، اور یہی وژن سندھ حکومت کے تعلیمی اقدامات میں بھی نمایاں ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی فراہمی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، جن کے تحت سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ آئندہ تعلیمی سال کے لیے مذہبی کتب شائع کرے گا، جبکہ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کو یہ کتب فراہم بھی کی جائیں گی۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے کے سرکاری اسکولوں میں جماعت سوم تا پنجم کے 129,119 ہندو طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، سوم تا پنجم جماعتوں میں ضلع تھرپارکر میں سب سے زیادہ 26,642 جبکہ ضلع عمرکوٹ میں 21,584 ہندو طلبہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں جماعت سوم سے پنجم تک کے لیے درسی کتب شائع کی جائیں گی۔واضح رہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ اس سے قبل بہائی، ہندو مت اور زرتشت مذہب سے متعلق نصابی کتب کی منظوری بھی دے چکا ہے، جس میں نیشنل کریکولم کونسل سے مشاورت شامل رہی۔ حالیہ اقدام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہے گی، جس میں انہوں نے ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کو اپنی مذہبی روایات اور عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کے حق پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ملک کے روادار اور مثبت تشخص کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔