سندھ میں پی پی پی یونٹ کی کامیابی: عوام کی زندگیاں بدلنے کا نیا باب

**کراچی:** پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) یونٹ، فنانس ، حکومت سندھ نے گزشتہ 16 سالوں میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک مثالی مثال قائم کی ہے۔ یونٹ کی بدولت 27 ارب روپے کی مالی معاہدے (Financial Close) کی کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ مجموعی پورٹ فولیو 707 ارب روپے پر مشتمل ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن کی قیادت میں، حکومت سندھ نے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے عوامی خدمت کے حوالے سے ا نقلاب لایا ہے۔ ان کی کاوشوں سے سندھ بھر میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور توانائی کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے۔

پی پی پی یونٹ حکومت کو ایک ریگولیٹر کے طور پر تشکیل دیتا ہے، نہ کہ صرف خدمات فراہم کرنے والے کے طور پر۔ اس ماڈل میں خطرات (Risks) اور منافع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ نجی سرمایہ کار اپنے اخراجات یا تو عوام سے سروس چارجز وصول کر کے پورے کرتے ہیں، یا حکومت کی طرف سے مقررہ مدت میں سالانہ اقساط کے ذریعے، یا دونوں طریقوں کے امتزاج سے۔

ڈائریکٹر جنرل اسد ضامن کے مطابق: *”ہمارا مقصد عوام کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہم نے صوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ایک شفاف اور موثر نظام دیا ہے۔ نجی شعبہ اپنی مہارت سے منصوبے بروقت مکمل کرتا ہے، جبکہ حکومت پالیسیوں اور نگرانی پر توجہ دیتی ہے۔”*

پی پی پی ماڈل کے تحت سندھ میں بڑے پیمانے پر اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں، پلوں، اور پانی کی فراہمی کے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ یہ شراکت داری لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بدلنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

حکومت سندھ اور اسد ضمین کی کاوشیں پوری قوم کے لیے ایک مثال ہیں کہ کیسے عوامی اور نجی شعبہ مل کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔